تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

لاہور اور کابل پھر نشانے پر : حل کیا ہے ؟ ۔۔ سید مجاہد علی

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی اس بات سے اختلاف ممکن نہیں ہے کہ جب ملک کے ایک اہم شہر کو دہشت گردوں نے خود کش حملہ کا نشانہ بنایا ہو اور اس سانحہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو تو اس وقت سیاست پر بات کرنے اور ان مباحث پر صلاحیتیں صرف کرنے کی بجائے حادثہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے اور ان عوامل کا تدارک کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے یہ المناک سانحہ رونما ہوا ہے۔ خاص طور سے اگر مذکورہ شخص ملک کا وزیر داخلہ بھی ہو تو اس پر یہ اہم ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حملہ کی تحقیقات کی نگرانی کرے اور اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے فوری اقدامات کو یقینی بنائے۔ حکومت کے دیگر عہدیداروں اور اپوزیشن کے سیاستدانوں سمیت وزیر داخلہ کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اس قسم کے افسوسناک حملہ میں جاں بحق یا زخمی ہونے والے لوگوں کے لواحقین اور خاندانوں کو فوری دلاسہ دینے کے علاوہ ضروری طبی، نفسیاتی یا مالی و انتظامی امداد فراہم کرے۔ اسی طرح دہشت گرد حملہ سے سامنے آنے والی حکومتی نظام کی ناکامی کی تلافی کا کچھ سامان کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ایسے موقع پر اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی طرح یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی جائے کہ حکومت نے 70 سے 80 فیصد دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے۔ اب تھوڑے سے لوگ ایسی حرکتوں میں ملوث ہیں ۔۔۔ تو یہ متاثرین کے علاوہ پوری قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو دہشت گردی کو ختم کرنے کے دعوؤں کے جلو میں ان سانحات میں لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک چکی ہے۔
لاہور میں ہونے والے حملہ کی ذمہ داری پاکستان تحریک طالبان نے قبول کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے ایک حملہ آور نے کفار کی لڑائی لڑنے والی پولیس فورس پر حملہ کر کے کئی پولیس والوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا اب بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز امریکہ اور دیگر کافر ملکوں کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس دعویٰ کے گمراہ کن اور اشتعال انگیز ہونے میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کی تصدیق لاہور پولیس کے ذرائع نے بھی کی ہے کہ آج لاہور کے فیروز پور روڈ پر ہونے والے خودکش حملہ میں پولیس فورس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ پولیس افسر ناجائز تجاوزات بنانے والے عملہ کو سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے تعینات تھے کہ ایک موٹر سوار دہشت گرد نے بم دھماکہ کر کے تادم تحریر 26 افراد کو ہلاک اور 50 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں 9 پولیس افسر شامل ہیں۔ اسی طرح زخمی ہونے والوں میں بھی کئی پولیس اہلکار شامل ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کا یہ دعویٰ کہ یہ ملک کے مفاد کے خلاف غیروں کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف جملہ تھا، لایعنی، بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے۔ ان جرائم پیشہ انتہا پسندوں نے گزشتہ دس برس کے دوران حملے کر کے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے علاوہ ہزارہا شہریوں کی بھی جان لی ہے۔ اگرچہ اپنے حملہ کے اثر میں شدت پیدا کرنے کیلئے طالبان دہشت گردی فوج یا پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن موقع ملنے پر ایسے اجتماعات پر بھی حملے کر چکے ہیں جہاں معصوم شہری، خواتین اور بچے جمع تھے۔ ان عناصر کا واحد مقصد انتشار، بدامنی اور بے یقینی پیدا کرنا ہے اور وہ مسلسل اس مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
حکومت پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصہ سے تسلسل سے یہ اعلانات کئے ہیں کہ ملک میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ان دعوؤں کے باوجود ملک کے لوگ خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارتے ہیں کیونکہ ہر تھوڑے وقفے کے بعد ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے جس میں لاتعداد انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ فوج آپریشن ضرب عضب کے بعد جسے دہشت گردوں کے خلاف اہم ترین کارروائی قرار دیا جاتا ہے، متعدد آپریشن شروع کر چکی ہے۔ چند روز پہلے آپریشن خیبر 4 کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد افغانستان سے داعش سے وابستہ عناصر کے پاکستان داخلہ کو روکنے اور پاکستانی علاقوں میں ان کا خاتمہ کرنا بتایا گیا ہے۔ اس کے باوجود بعض دیگر سچائیوں کی طرح حکومت اور فوج یہ سچ بھی ماننے کیلئے تیار نہیں ہے کہ داعش پاکستان میں بھی اپنے ہمدرد پیدا کر چکی ہے اور سکیورٹی اداروں اور عام شہریوں پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کر دینے کے حوالے سے پروپیگنڈے کا یہ عالم ہے کہ دو روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کسی پروٹوکول کے بغیر اہل خاندان کے ساتھ کھانا کھانے اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں گئے تو نیوز اینکرز اور تبصرہ کرنے والوں نے اسے بھی ملک میں امن و امان کی مکمل بحالی کا ثبوت قرار دینا ضروری سمجھا۔ لیکن المیہ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے دعوے کرنا معاملہ کا ایک پہلو ہے لیکن جب عام شہری اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار کسی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو ان دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ لیکن لاہور سانحہ پر چوہدری نثار علی خان نے سیاست نہ کرنے کا جو مستحسن اعلان کیا تھا، اس کی کسر ان ہی کی پارٹی کے لیڈر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے 80 فیصد دہشت گردی ختم کرنے کا اعلان کر کے پوری کر دی اور واضح کر دیا کہ حکومت میں شامل سیاستدان اپنے فائدے کیلئے ہر موقع پر سیاست کر سکتے ہیں۔ خاص طور سے دہشت گردی کا کوئی سانحہ رونما ہونے کے بعد اس موقع سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ضرور کوشش کی جاتی ہے۔ ورنہ جب لاہور کے درجنوں گھروں میں مرنے والوں کے کفن دفن کے انتظامات کئے جا رہے ہیں اور ان سے دوگنے گھروں میں اپنے پیاروں کے بارے میں غیر یقینی کی کیفیت موجود ہو تو دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے دعوؤں کی بجائے آج فیروز پور روڈ پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرنا اور اسے ملک کی ناکامی قرار دینا زیادہ ضروری تھا۔
دہشت گردی کے حوالے سے ایک نیا رویہ یہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ رونما ہونے کے بعد بھارت اور افغانستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فوج اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کو بھگا دیا گیا ہے اور اب یہ عناصر افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں۔ اس مقصد میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ ان عناصر کی مدد کرتی ہے اور افغان حکومت انہیں اپنے ملک سے نکالنے یا ان کے لیڈروں کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرنے میں ناکام ہے۔ یہ دعوے اتنے ہی بے وزن اور ناقابل قبول ہیں جتنے افغانستان اور امریکہ کے یہ الزامات کے افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کا منبع پاکستان میں ہے۔ پاکستان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ افغان فورسز اپنے ملک میں جنگجو عناصر کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔ وہ اس ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر خود سرخرو ہونا چاہتی ہیں۔ پاکستانی حکام کو ملک میں رونما ہونے والی دہشت گردی کے بعد افغانستان اور بھارت پر الزام لگانے سے پہلے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ اپنے ملک میں انتہا پسندوں کے ٹھکانوں، سہولت کاروں، ہمدردوں اور پناہ دینے اور معاونت کرنے والے عناصر پر قابو پا چکے ہیں؟ اگر ملک میں اب بھی ایسے مدرسے، گھر یا گروہ موجود ہیں جو کسی دہشت گرد کو مالی مدد، پناہ اور جذباتی حمایت فراہم کرتے ہیں تو دوسروں پر اس کا الزام کیسے عائد کیا جا سکتا ہے۔
بدنصیبی سے آج ہی کابل میں افغان طالبان نے ایک خودکش حملہ میں 30 سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا بھی دعویٰ ہے کہ یہ حملہ ملک کی انٹیلی جنس کے اہلکاروں پر کیا گیا تھا۔ لاہور اور کابل میں ہونے والے بیک وقت حملوں سے دو سبق سیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے اپنے ملک میں حالات پر قابو پانے اور انتہا پسند عناصر کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی بجائے جب وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی میں ملوث ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف تخریبی عناصر کو ہی ہوتا ہے۔ اس سے دوسرا سبق یہ سیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی طالبان کو دہشت گرد اور افغان طالبان کو حریت پسند قرار دینے کی پالیسی یا سوچ غلط اور گمراہ کن ہے۔ یہ دونوں گروہ اگر ایک نہ بھی ہوں تو ان کے ہتھکنڈے اور مقاصد ایک سے ہیں۔ وہ بم دھماکوں اور تخریبی ہتھکنڈوں کے ذریعے بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر عسکری ، سیاسی اور معاشی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انتشار اور بدامنی کی کیفیت پیدا کر کے حکومتوں کو کمزور اور اپنی قوت میں اضافہ اور دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں حملہ کرنے والوں کا خاتمہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان میں بے گناہ انسانوں کی جان لینے والوں کو بھی مسترد کیا جائے۔ یہ حوصلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب علاقے میں سیاسی و اسٹریٹجک اثر و رسوخ حاصل کرنے اور اہداف کیلئے بنیادی حکمت عملی کو تبدیل کیا جائے گا۔
دہشت گردی کے تناظر میں بیرونی عناصر پر الزام تراشی اور داخلہ محاذ پر نرم خوئی کا رویہ اختیار کرنے سے تو صرف یہی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان ہو یا افغانستان، امریکہ یو یا بھارت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دہشت گرد گروہوں کو موقع ملنے پر اپنے فائدے میں استعمال کرنے کو تو ضروری سمجھتے ہیں لیکن جب مخالف فریق وہی طرز عمل اختیار کرتا ہے تو الزام تراشی کا طوفان کھڑا کیا جاتا ہے۔ خطے کے تینوں ممالک اور امریکہ جب تک اپنی ناک سے آگے دیکھنے اور صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کی ضروریات، حساسیات اور نقطہ نظر کو سمجھ کر حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، اس وقت تک الزام تراشی اور دہشت گردی ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی۔
(بشکریہ:کاروان۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker