Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جولائی 1, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پانی کا تنازعہ برصغیر میں خطرناک جنگ کا سبب بن سکتاہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • یکم جولائی سےایل پی جی کی قیمت میں 67 روپے فی کلو گرام کمی
  • ماؤں کا دکھ سمجھتی ہوں : ٹیوشن سینٹر سانحے کے ذمہ دار وں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز
  • لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی : 14 بچے جاں بحق
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں سزا چیلنج کرنے کا اعلان
  • میرے گھر میں فرشتے نہیں آتے : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں : عمار مسعود کا کالم
  • مودی کی مسلمان دشمنی ، آج کا مغربی بنگال اور نومبر 1984 کی یاد : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • بہشتی دروازے کی گا رنٹی : یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • ایران کے زیر سایہ سکیورٹی کیسے ممکن ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»نصرت جاویدکا تجزیہ:عطاء اللہ مینگل باوقار سیاستدان
تجزیے

نصرت جاویدکا تجزیہ:عطاء اللہ مینگل باوقار سیاستدان

ایڈیٹرستمبر 6, 20212 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
ataa ullah maingal
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

تقریباََ ہر روز کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے جو مجھے یہ سوچنے کو مجبور کردیتا ہے کہ ہم واقعتا بلھے شاہ کے بتائے ’’شک شبے‘‘ والے دور میں محصور ہوچکے ہیں ۔گزشتہ دو دنوں سے بہت لوگوں کی جانب سے پیغامات آئے ہیں۔طعنہ زن انداز میں یاد دلایا گیا کہ سید علی گیلانی صاحب کی رحلت کے بعد میں نے ان کی ذات اور سیاست کے بارے میں نہایت جذباتی کالم لکھا۔ آخری سانس تک اپنے مؤقف پر ڈٹے سردار عطاء اللہ مینگل کی وفات کی بابت مگر میں خاموش رہا۔ پس ثابت ہوا کہ وطنِ عزیز میں تعزیتی کالم لکھتے ہوئے بھی منافقت بھری احتیاط اختیار برتنا لازمی ہے۔
بے بنیاد یاوہ گوئی جو آپ کی نیت کو مشکوک بنائے غالباََ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینی چاہیے۔اندھی نفرت وعقیدت میں تقسم ہوئے معاشرے میں لیکن یہ ممکن نہیں رہا۔ یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہوئے میں ان سے ہوئی ملاقاتوں پر انحصار کرتا ہوں۔مینگل صاحب سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ان کے فرزند -اختر مینگل-سے اگرچہ باہمی محبت واحترام کے مراسم ہیں۔ان سے ملاقات کا آغاز ہمیشہ مینگل صاحب کی خیریت پوچھنے سے کیا۔
روایتی سیاست سے عرصہ ہوا بلوچستان کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ کنارہ کش ہوچکے تھے۔تاریخ درست کرنے کے بہانے بھی کسی صحافی کو انٹرویو دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے تھے۔جنرل مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد نواز شریف کی خواہش تھی کہ وہ صدر پاکستان کے عہدے کا انتخاب لڑیں۔ مینگل صاحب نے اس ضمن میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔میں اس تناظر میں خوش نصیب رہا کہ میرے ٹی وی پروگرام میں اس موضوع پر گفتگو کو تیار ہوگئے۔نہایت تلخ مگر واضح الفاظ میں انکار اس انٹرویو کا یک سطری پیغام تھا۔دیگر سیاست دانوں نے مگر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔بہتر ہوتا کہ ایک وفد کی صورت ان کے ہاں جاتے اور انہیں ملکی سیاست میں واپسی کو قائل کرتے۔
ملکی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے میں یہ اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ 1971میں مشرقی پاکستان گنوادینے کے بعد ہمارے سیاست دانوں کے پاس پاکستان کو حقیقی اور جاندار جمہوریت فراہم کرنے کا سنہری موقعہ میسر ہوا تھا۔بدقسمتی سے وہ ضائع کردیا گیا۔اِن دنوں آدھا تیتر آدھا بٹیر کی جو جمہوریت ہے وہ اُس دور کی کوتاہیوں کا شاخسانہ ہے۔’’وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘ والا معاملہ۔
تحقیق کا ہمارے ہاں رواج نہیں۔تاریخ کو ٹھوس بنیادوں پر مرتب کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔تاریخ سے غافل مستقبل کی جانب بڑھنا بیک مرر کو دیکھے بغیر گاڑی چلانے کے مترادف ہے۔یہ حادثوں کے امکانات سے بھرپور ہوتا ہے۔
1970میں قیام پاکستان کے طویل برس گزرجانے کے بعد وطن عزیز میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے عام انتخاب ہوئے تھے۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے بے پناہ اکثریت حاصل کی۔پنجاب اور سندھ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوگئے۔ان دنوں کے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے نام سے پہلی بارپاکستان کا صوبہ ہوئے علاقوں کے رائے دہندگان کی اکثریت نے قوم پرست نیشنل عوامی پارٹی اور مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے امیدواروں کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔آج بھی یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ 1970میں ہونے والے انتخاب قابل تقلید انداز میں صاف،شفاف اور آزادانہ تھے۔ ان کے نتائج کو مگر بروئے کار آنے نہیں دیا گیا۔مشرقی پاکستان اس کی وجہ سے بنگلہ دیش بن گیا اور اس تناظر میں بھارتی جارحیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
بقیہ پاکستان کو اس کے باوجود مگر یہ مہلت میسر ہوئی کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھے۔مرکز میں ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار آئے۔سندھ اور پنجاب میں بھی ان کی جماعت کی حکومتیں قائم ہوئیں۔سرحد اور بلوچستان میں لیکن خود کو ’’سیکولر‘‘ کہلاتی نیشنل عوامی پارٹی نے ’’مذہبی‘‘ جمعیت علمائے اسلام سے اتحاد کے بعد صوبائی حکومتیں بنالیں۔ان صوبائی حکومتوں کو اگر اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کی اجازت دی جاتی تو شاید ہمارے ہاں جولائی 1977بھی نہ ہوتا جس کے بعد جمہوریت ہمارے ہاں حقیقی معنوں میں آج تک نافذ نہیں ہوپائی ہے۔
تاریخ کا سرسری مطالعہ کئی لوگوں کویہ طے کرنے کو اُکساتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی بے پناہ عوامی مقبولیت کے باعث آج کے ’’پاپولسٹ‘‘ آمروں کی طرح ہرشے کا سلطان بننے کو بضد تھے۔بھٹو صاحب کی ذاتی ترجیحات اور رویے پر نگاہ رکھتے ہوئے تاہم یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ ہماری ریاست کے دائمی ادارے بھی مشرقی پاکستان گنوادینے کے بعد شدید عدم تحفظ کا شکار ہوچکے تھے۔ہمارے ازلی دشمن بھار ت نے بنگلہ دیش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کا کمیونسٹ روس کیساتھ باہمی سکیورٹی کے نام پر ایک جامع معاہدہ بھی ہوچکا تھا۔اس تناظر میں ریاست کے دائمی ادارے صوبائی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو ’’علیحدگی پسند‘‘ تصور کرتے تھے۔وہ جنہیں ترقی پسند کہا جاتا ہے کمیونسٹ روس کے ایجنٹ شمار ہوتے تھے۔بھٹو صاحب نے ریاست کے دائمی اداروں میں موجود خدشات کو درست تصور کیا اور ان خدشات کے تدارک کے لئے متحرک ہوگئے۔ یہ’’مثبت کردار‘‘ بھی لیکن بالآخر انہیں پھانسی سے بچا نہیں پایا۔
پاکستا ن میں جمہوریت کے عدم استحکام کا تذکرہ کرتے ہوئے توجہ کو محض ہمارے داخلی حالات اور اس میں متحرک کرداروں اور اداروں تک ہی محدود نہیں رکھا جاسکتا۔1950کی دہائی کا آغا ز ہوتے ہی ہم امریکہ کی سرپرستی میں بنائے ان فوجی اتحادوں کا حصہ بن چکے تھے جو کمیونسٹ سوویت یونین کو ہر اعتبار سے ناکام بنانے کی خاطر بنائے گئے تھے۔پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم بنانا مذکورہ اتحادوں کی ہرگز ترجیح نہیں تھی۔عمومی طورپر بلکہ یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ’’پسماندہ‘‘ شمار ہوتے پاکستان جیسے ممالک کسی فوجی دیدہ ور کی قیادت ہی میں جدید صنعتی ممالک میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔آمروں کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی مذکورہ اتحادوں کی سرشت میں شامل تھی۔
مذکورہ اتحادوں کی بدولت ایران کا سفاک شہنشاہ ہمارے خطے کا تھانیدار بنادیا گیا تھا۔ایران میں بلوچستان کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔سردار عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں پاکستانی بلوچستان میں پہلی بار صوبائی حکومت قائم ہوئی تو شاہ ایران کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا کہ یہ اگر مستحکم ہوگئی اور اس کی وجہ سے بلوچستان کو امن وخوشحالی نصیب ہوئی تو ایرانی بلوچستان میں بھی جمہوری نظام کی تمنا بھڑک اٹھے گی۔لگی لپٹی کے بغیر اس نے امریکی جریدے ’’ٹائمز‘‘ کو طویل انٹرویو دیتے ہوئے ڈھٹائی سے یہ اعلان کردیا کہ وہ بلوچستان میں قائم ہوئے ’’جمہوری بندوبست‘‘ سے خوش نہیں۔اسے رام کرنے بلوچ رہ نما غوت بخش بزنجو نے اس سے طویل ملاقاتیں کی۔وہ مگر رضا مند نہیں ہوا۔رعونت میں اس حد تک چلاگیا کہ پاکستان کو یہ تڑی بھی لگادی کہ اگر وہ بلوچستان کو ’’سنبھال‘‘ نہ پایا تو ایران اسے اپنی فوج کے استعمال سے ’’درست‘‘ کردے گا۔عطاء اللہ مینگل یوں فقط داخلی سازشوں اور اختلافات کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کی قیادت میں بنائے فوجی اتحادوں کی وجہ سے بھی بلوچستان میں منتخب جمہوری بندوبست کو مستحکم بنانے کی مہلت سے محروم کردئیے گئے تھے۔ اپنی محدودات انہوں نے 1970کی دہائی ہی میں دریافت کرلی تھیں۔ باوقار آدمی تھے لہٰذا روایتی سیاست سے بردبار انداز میں کنارہ کش ہوگئے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleگل نو خیز اخترکا کالم:بائی ڈیفالٹ
Next Article دو اپوزیشن کمانڈروں کی ہلاکت کے بعدطالبان کاپنج شیر پر کنٹرول مکمل:ذبیح اللہ مجاہدکا دعویٰ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پانی کا تنازعہ برصغیر میں خطرناک جنگ کا سبب بن سکتاہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 1, 2026

یکم جولائی سےایل پی جی کی قیمت میں 67 روپے فی کلو گرام کمی

جون 30, 2026

ماؤں کا دکھ سمجھتی ہوں : ٹیوشن سینٹر سانحے کے ذمہ دار وں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز

جون 30, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پانی کا تنازعہ برصغیر میں خطرناک جنگ کا سبب بن سکتاہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 1, 2026
  • یکم جولائی سےایل پی جی کی قیمت میں 67 روپے فی کلو گرام کمی جون 30, 2026
  • ماؤں کا دکھ سمجھتی ہوں : ٹیوشن سینٹر سانحے کے ذمہ دار وں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز جون 30, 2026
  • لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی : 14 بچے جاں بحق جون 30, 2026
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں سزا چیلنج کرنے کا اعلان جون 30, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.