افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ پنج شیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے، جہاں احمد مسعود کی سربراہی میں ایک مزاحمتی فرنٹ طالبان کے خلاف برسر پیکار تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں پنج شیر کے لوگوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ’سب ہمارے بھائی ہیں۔ ایک ملک اور ایک ہدف کے لیے مل کر جدوجہد کریں گے۔‘
مزید کہا گیا: ’اس فتح کے ساتھ تمام ملک جنگ سے نکل آیا ہے، لہذا اب ہم آزادی، خودمختاری اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔‘
دریں اثناء افغانستان کی وادی پنج شیر میں طالبان اور احمد مسعود کی سربراہی میں بنائے گئے’مزاحمتی محاذ‘ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے درمیان شدید جھڑپ میں مزاحمتی محاذ کے دو اہم رہنما ہلاک ہوگئے جبکہ این آر ایف کی جانب سے فوری جنگ بندی و مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
این آر ایف کے ٹوئٹر ہینڈل سے کی گئی ایک ٹویٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں مزاحمتی فوج کے ترجمان فہیم دشتی اور جنگجو کمانڈر جنرل عبدالودود زارا شامل ہیں، جو طالبان کے خلاف لڑائی میں مارے گئے۔
فہیم دشتی شمالی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد شاہ مسعود کے پرانے اور قریبی ساتھی تھے۔ احمد مسعود کی حمایت میں انسٹاگرام پر بنائے جانے والے ایک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ہے کہ فہیم دشتی نے احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود پر ہونے والے ایک حملے میں اپنی آنکھ کھو دی تھی اور اب پنج شیر پر حملے میں اپنی جان دے دی۔
شمالی اتحاد کے ہلاک ہونے والے دوسرے رہنما بھی احمد مسعود کے قریبی ساتھی، مشیر اعلیٰ اور فوج کے کمانڈر تھے۔ مزاحمتی فرنٹ نے ان کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب طالبان نے پنج شیر میں لڑائی میں پیش رفت کی اطلاع دی ہے اورطالبان کی حمایت میں چلنے والے ٹوئٹر ہینڈلز پر وقفے وقفے سے پنج شیر کی فتح کی خبر کے لیے تیار رہنے کا کہا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کے اختتام پر طالبان کے ساتھ لڑائی میں شدید جانی نقصان کے بعد مزاحمتی فرنٹ نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد طالبان سے مذاکرات کیے جائیں گے اور علما کونسل کے فیصلے کی روشنی میں معاملے کا حل نکالا جائے گا۔
گذشتہ روز این آر ایف کے رہنما احمد مسعود نے کہا تھا کہ اگر طالبان پنج شیر اور اندراب کے علاقوں پر حملے کرنا روک دیں تو وہ بھی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
(بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو )
فیس بک کمینٹ

