پاکستان نے بظاہر مقبوضہ کشمیر کے سوال پر بھارت کے ساتھ محاذ آرائی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ افغانستان کے حالات، طالبان حکومت اور باقی ماندہ دنیا کے درمیان تعاون کی موجودہ صورت حال میں کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنے اور بھارت کے ساتھ تعاون کے امکانات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اس وقت اسلامی تعاون تنظیم کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کررہا ہے جس کی قیادت جموں و کشمیر پر تنظیم کے نمائیندہ خصوصی یوف الدوبے کررہے ہیں۔ ان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف پر اصرار کیا اور بھارتی حکومت کی ناکام پالیسیوں کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی ناجائز اور جابرانہ حکمت عملی کی وجہ سے کشمیر میں دل و دماغ کی جنگ ہار رہا ہے۔ ان کا اشارہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بھارتی حکومت کے خلاف ناراضی کی طرف تھا۔ اسلامی تعاون تنظیم کا وفد چھے روز تک پاکستان میں مقیم رہے گا۔ اس دوران مختلف لیڈروں اور قیادت سے ملاقات میں وفد کے ارکان کو پاکستان کے مؤقف پر بریف کیا جائے گا۔ یوں پاکستان ایک بار پھر کشمیر کاز کے لئے اپنی جد و جہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرکے میڈیا بیانات اور رپورٹنگ کی حد تک سرخرو ہوجائے گا۔
اس دوران اسلام آباد میں افغانستان پر پاکستان، امریکہ چین اور افغان حکومتوں پر مشتمل گروپ کا اجلاس بھی ہؤا جس میں ہمسایہ ملک کے بحران کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں شریک وفود نے بعد میں وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی ۔ پاکستانی وزیر اعظم نے فوری طور سے افغانستان کو مالی امداد دینے، اس کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور وہاں انسانی بحران سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی قسم کے خیالات کا اظہار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ سے ملاقات میں کیا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے امریکی مندوب کو بتایا کہ’ انسانی بحران سے بچنے اور افغان عوام کی معاشی ترقی کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے‘۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس حد تک ایک ہی پیج پر دکھائی دیتی ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک فوری طور سے افغانستان کی مالی امداد بحال کریں اور وہاں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پیدا ہونے والے سماجی و مالی بحران کو حل کرنے میں مدد دیں۔
ان دونوں امور پر پاکستان کی تشویش جائز اور مناسب ہے لیکن یہ ناقابل فہم ہے کہ بھارت کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے پاکستان کسی حد تک ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے اور کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لئے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اگست 2019 میں کئے گئے نئی دہلی کے اقدامات واپس لینے اور بات چیت کے لئے قابل قبول ماحول پیدا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ البتہ افغان طالبان کے معاملہ میں پاکستان کا مؤقف نہایت نرم ، دوستانہ اور کسی حد تک ہمدردی پر مبنی ہے۔ افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طالبان کی حکومت عالمی برادری سے کئے ہوئے وعدوں کی پاسداری اور شہری حقوق کی ضمانت فراہم کرنے میں کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہی ۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک انسانی بنیادوں پر افغان عوام کو بنیادی امداد فراہم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے انتظامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ تمام مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کو کسی قسم کی امداد نہیں دینا چاہتے۔ اسی لئے اس بات کی یقین دہانی حاصل کی جاتی ہے کہ افغانستان جانے والی امداد غیر جانبدار تنظیموں کے ذریعے ضرورت مند شہریوں تک پہنچ سکے۔
کسی ملک کی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر اور اس کے تعاون کے بنا ، عوام تک بنیادی ضرورتوں کی فراہمی اور معیشت کو سہارا دینے کی کوئی کوشش بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی۔ اس لئے اس وقت افغانستان کو فراہم ہونے والی امداد بڑے پیمانے پر عوام کی ضرورتیں پوری کرنے یا وہاں معاشی بحران کو ٹالنے میں معاونت نہیں کرے گی۔ پاکستان سے اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی توقع کی جارہی تھی۔ کسی نہ کسی سطح پر یہ امید اب بھی موجود ہے کہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے کابل حکومت کو کوئی متوازن اور قابل قبول رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرلے گا۔ اسلام آباد میں پاکستان، امریکہ، چین اور افغانستان کے نمائیندوں کا اجلاس بھی اسی خواہش کی تکمیل کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کہا جاسکتا ہے۔ اس اجلاس سے افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی خطاب کیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اگرچہ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چار ملکوں کا یہ اجلاس افغانستان کے موجودہ بحران کا کوئی حل تلاش کرلے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم اور آرمی چیف نے اپنے اپنے طورپر افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیئے امداد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم عمران خان کی توقع کے برعکس یہ گروپ اس وقت تک افغانستان کی موجودہ حکومت کے بارے میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی پالیسی تبدیل کروانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک طالبان حکومت دہشت گردی پر مکمل کنٹرول اور شہری حقوق بطور خاص خواتین کے تعلیم اور معاشرتی سرگرمیوں کے حقوق کے بارے میں ٹھوس اقدامات کا اعلان نہیں کرتی۔ کابل کے حکمرانوں نے عوام کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور شدید مالی دباؤ کے باوجود لڑکیوں کی تعلیم اور شفاف نظام عدل کے نفاذ کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔ وہ اب تک یہی اصرار کرتے ہیں کہ افغانستان کی روایات اور شریعت کے مطابق ہی فیصلے کئے جائیں گے۔
اس پس منظر میں ان چار ملکوں پر مشتمل گروپ کیوں کر کوئی اہم کردار ادا کرسکے گا؟گروپ میں امریکی مندوب کی پوزیشن واضح ہے۔ امریکہ اس وقت تک کسی بھی نرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا جب تک طالبان حکومت اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کرتی۔ چین ہمسایہ اور بڑا ملک ہونے کے باوجود افغانستان کے معاملہ میں امریکہ کے متبادل کے طور پر سامنے آنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ انسانی حقوق کے معاملہ پر چین کی پوزیشن امریکہ جیسی سخت نہیں ہے لیکن دہشت گردی اور اسلامی نظام کے لئے سرگرم گروہوں کے حوالے سے اس کی تشویش امریکہ سے بڑھ کر ہے۔ وہ افغانستان سے مشرقی ترکستان اسلامی موومنٹ کے جنگجوؤں کی سرگرمیوں کو مکمل طور سے ختم کروانا چاہتا ہے تاہم ابھی تک کابل حکومت کسی بھی عسکری گروہ کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی نہیں کرسکی۔ داعش مسلسل دہشت گرد حملے کررہی ہے جن میں زیادہ تر ملک کی شیعہ آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آج بھی ننگر ہار میں ایک مسجد میں بم دھماکہ ہؤا جس میں تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
طالبان حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار گروہ ٹی ٹی پی کی سرپرستی سے بھی دست بردار نہیں ہوئی حالانکہ پاکستان اس وقت افغان حکومت کا سب سے بڑا ہمدرد ہے اور ہر عالمی فورم پر اس کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کی بجائے طالبان حکومت نے پاکستان کو ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے اور انہیں معافی دے کر معاشرے کا حصہ بننے کی اجازت دینے پر آمادہ کیا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ بیل کب اور کیسے منڈھے چڑھے گی تاہم پاکستان کا دورہ کرنے والے طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ’ اس حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے‘۔ عسکریت پسندوں کے ساتھ افغان طالبان کے روابط کی اس صورت میں چین کے لئے حالات کی تبدیلی تک افغانستان میں سرمایہ کاری اور معاشی احیا میں کوئی اہم کردار ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس گروپ کے باقی دو ممالک میں سے پاکستان اپنے تئیں کوشش کررہا ہے لیکن اس کی سفارتی دسترس محدود ہے۔ کابل میں طالبان کی حکومت کو دنیا میں کہیں پذیرائی نصیب نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان نے بھی ابھی تک اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
پاکستان سفارتی ، اخلاقی، تجارتی اور دیگر امداد و سہولت کے باوجود کابل حکومت سے کوئی بات منوانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ کسی بھی صورت اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوار رکھنا چاہتا ہے۔ افغانستان کے موجودہ حالات میں بھارت کے ساتھ تعاون کا امکان پیدا ہؤا تھا جس سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان براہ راست تصادم سے گریز کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرسکتا تھا۔ بھارت نے افغانستان کے سوال پر علاقائی سیکورٹی ڈائیلاگ کی ایک کانفرنس منعقد کی ہے جس میں روس اور ایران کے علاوہ وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے اعلیٰ سیکورٹی حکام نے شرکت کی ہے۔ پاکستان اور چین کو بھی اس کانفرنس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ تاہم پاکستان نے اس میں شرکت سے انکار کردیا جس کے بعد چین نے بھی معذرت کرلی تھی۔ وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے پاکستانی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت امن تباہ کرتا ہے، وہ امن قائم نہیں کروا سکتا‘۔ یہ بیان پاکستان کی بھارت دشمن سیاست کا عکاس تو ہوسکتا ہے لیکن معروضی حالات میں اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا کر پاکستان نے بھارت جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ مصالحت کا ایک اہم موقع ضائع کیا ہے۔
ایک طرف عمران خان اور ان کے معاونین افغان طالبان کے بعد ٹی ٹی پی کے ساتھ مصالحت کا جواز دیتے ہوئے بات چیت کو ہی ہر تنازعہ کا حل بتاتے ہیں اور دوسری طرف بھارت کے ساتھ مواصلت سے انکار کو پاکستان کے بہترین مفاد کا تقاضہ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ افغانستان میں پائیدار امن اور وہاں کسی قابل قبول نظام کے قیام میں بھارت جیسی بڑی علاقائی قوت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ افغان طالبان بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کا اشارہ دیتے رہے ہیں اور حالات تبدیل ہونے کے بعد کابل اور نئی دہلی میں روابط و تعاون کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کو ان حالات میں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے اور افغانستان کے علاوہ بھارت کے ساتھ اپنی حکمت عملی میں حقیقت پسندانہ توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر یا دیگر اہم امور پر اختلافی مؤقف کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہونا چاہئے کہ بھارت کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کا راستہ بند کرلیا جائے اور اسے امن دشمن قرار دے کر خود اپنی مشکلات میں اضافہ کیا جائے۔ پاکستان اگر سفارتی و معاشی لحاظ سے صرف چین کی دوستی پر انحصار کی پالیسی سے گریز کرنا چاہتا ہے تو بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور علاقائی تعاون کے فروغ سے ہی یہ مقصد حاصل ہوگا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

