لندن : مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ ابھی تو صرف پانچ سے 10 فیصد سچ سامنے آیا ہے اور آگے مزید بھی آئے گا۔میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کا وہ حشر کیا ہے کہ اس شخص کو ’عبرت کا نمونہ‘ بننا چاہیے۔ ’اس نے پاکستان کا وہ حشر کیا ہے جو ہم خواب و خیال میں نہیں سوچ سکتے تھے۔‘
’سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے۔ قرآن پاک میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کو سامنے لاتے ہیں اور باطل کو مٹاتے ہیں۔ ابھی تو پانچ یا 10 فیصد سچ سامنے آیا ہے ابھی بہت کچھ سامنے آئے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کیا عزائم لے کر بیٹھا ہوا ہے۔ نہ قانون کو مانتا ہے نہ آئین کو مانتا ہے اور نہ پارلیمنٹ کو مانتا ہے۔۔۔ پنجاب میں اس وقت کیا حال بنا ہوا ہے کیا وہاں ہے کوئی گورنمنٹ؟ وہاں ہے کوئی وزیراعلی؟‘
نواز شریف نے صدر عارف علوی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’تم ملک کے صدر ہو، کس طرح سے حلف نہیں دو گے۔ میرا دل اس کو تسلیم نہیں کرتا۔‘صدر کو ہٹائے جانے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’وہ ملک کا صدر ہے، عمران خان کا صدر نہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’فارن فنڈنگ کیس میں کیا نتیجہ آئے گا؟ اگر غلط کاریاں کی ہیں تو نتیجہ ان کے خلاف آنا چاہیے۔ پہلے سے اسمبلی سے استعفے دے دیے ہیں۔‘’اگر فیصلہ خلاف آتا ہے تو پوری پارٹی کالعدم ہوجاتی ہے۔ ان کی ممبرشپ ختم ہوجاتی ہے۔ تو پہلے سے استعفیٰ دلوا دیا۔‘
عمران خان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’سوچنا چاہیے کہ کس بندے کو لے آئے ہیں اور 22 کروڑ عوام پر مسلط کر دیا ہے۔‘
نواز شریف کی دعوت افطار پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔پیپلز پارٹی کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ’ملکی سیاسی امور پر بھی تفصیلی بات چیت‘ ہوئی۔
بلاول بھٹو کے ہمراہ اس ملاقات میں شیری رحمان، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ نے اس دعوت افطار میں شرکت کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ نون کے تاحیات صدر اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کی مبارکباد دی۔
اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ سازش وائٹ ہاؤس میں نہیں بلاول ہاؤس میں تیار ہوئی تھی، عمران خان کے خلاف کوئی بیرونی نہیں جمہوری سازش ہوئی۔ مسلم لیگ نون اور پی پی پی کے مابین چارٹر آف ڈیموکریسی تھا جس کی وجہ سے ماضی میں بھی جمہوریت بحال ہوئی۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں مجموعی سیاسی صورت حال آئندہ عام انتخابات، گورنرز کی تقرری جبکہ سیاسی معاملات میں افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے ساتھ چلنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخابات میں کامیابی پر بھی مبارکباد بھی دی۔
فیس بک کمینٹ

