ہم افغانستان کی جنگ لڑتے رہے ، کشمیر آزاد کرواتے رہے ۔سونا اگلتی زمینوں کو برباد کرتے رہے ،مذہب اور حب الوطنی کے نام پر بے وقوف بنتے رہے ۔ جس نے جو نعرہ لگایا اس کے پیچھے چل پڑے جبکہ جہالت کا سودا بیچنے والے
کھرب ڈالر پتی ہوگئے ۔کوئی امریکہ جا بسا تو کوئی آسٹریلیا ،کسی نے لندن میں امان پائ تو کسی نے نیوزی لینڈ میں جاڈیرے ڈالے ۔کوئی دوبئی میں ایڑیاں رگڑ رہا ہے تو کسی کی آخری ہچکی کینیڈا میں اس کا انتظار کرہی ہے ۔کسی کے بچے یہودیوں کے گھر میں پل رہے ہیں تو کوئی دین کی آڑ میں وزارتوں صدارتوں کے مزے لے رہاہے ۔
جس نے جتنا چاہا اس ملک کو لوٹا ،آپ لوگ زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے
عدالتوں میں روزانہ کی بنیا د پر انصاف کا قتل عام ہورہا ہے اور آپ عدلیہ بحالی کی تحریک چلا کر ان نام نہاد منصفوں کو مزید مضبوط کرتے رہے ۔
جاہل ،ضمیر فروش صحافی و تجزیہ نگار آپ لوگوں کو بے وقوف بناتے رہے اور آپ بنتے رہے
پیرا شوٹ اینکر شام کو ٹی وی سکرینوں پر میڈیا سرکس کرتے رہے اور آپ ان کے تراشے ہوۓ بتوں کی پوجا میں مگن رہے۔
جس کسی حق گو صحافی نے سچ بتانے کی کوشش کی آپ نے اسے لفافہ کہا اس کے بچوں کا رزق تک چھین لیا کوڑے مارے قتل کیا ۔قلم اور کتاب سے آپ نے منہ موڑ لیا
اور اب جبکہ ملک خالی ہوگیا ، بربادی سر پر آگئی ہے اس کے باوجود بھی ابھی تک اندھادھند پیروی میں لگے ہوۓ ہو۔
قرآن اور علم سے رشتہ آپ لوگوں نے توڑلیا ہے ۔آنکھوں دیکھی مکھی نگل رہے ہو
جس کسی نے آپ کو حق بات کی اسے آپ نے غدار اور مذہب دشمن قرار دیا لوگوں کو زُندہ جلایا ۔مساجد و امام باکاہوں میں قتل عام کیا ۔خاندان کے خاندان اجاڑ دیے
تو پھر اب رونا کیسا ۔بھائی اب بھگتو
اور مزید بھگتنے کے لئے تیا رہو

