آئی ایم ایف سے مالی پیکیج لینے کی امید پر حکومت نے پیٹرول کی قیتوں میں بالترتیب 24 اور 59 روپے فی لیٹر اضافہ کا اعلان کیا ہے۔ نصف رات سے پاکستان میں پیٹرول 234 جبکہ ڈیزل263 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں بتایا ہے کہ اس اضافہ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات پر حکومت کو نقصان نہیں ہوگا۔ اس مد میں دی جانے والی سبسڈی اب ختم کردی گئی ہے۔
حکومت اس اضافہ کے بعد بجلی و گیس کی قیمتوں میں بھی عالمی مالیاتی فنڈ کی ہدایت کے مطابق اضافہ کرے گی کیوں کہ انرجی پر دی جانے والی رعایت پاکستان کے مالی وسائل اور حکومتی آمدنی سے میل نہیں کھاتی۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت بدستور بے یقینی اور بحران کا شکار ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت تیزی سے کم ہورہی ہے۔ آج پاکستان میں ایک ڈالر 207 پاکستانی روپوں سے تجاوز کرگیا تھا۔ ماہرین کو یقین ہے کہ عالمی منڈیوں میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پاکستان میں تادیر پیٹرولیم مصنوعات کو رعائیتی نرخوں پر فراہم کرنا ممکن نہیں تھا۔ حکومت نے بجٹ کی تیاری سے پہلے ایک مرحلے پر کم وسیلہ صارفین کے لئے پیٹرول پر سبسڈی قائم رکھتے ہوئے باقی ماندہ شعبوں کے لئے اضافے کی تجویز پر غور کیا تھا لیکن ملکی نظام میں پائی جانے والی کرپشن کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتوں میں درجہ بندی کو قابل عمل نہیں سمجھا گیا۔
معاشی ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ سے مہنگائی میں شدید اضافہ ہوگا۔ حکومت نے نئے بجٹ میں افراط زر کی شرح ساڑھے گیارہ فیصد کا تخمینہ لگایاہے لیکن پیٹرولیم مصنوعات کا تمام شعبہ ہائے زندگی پر مرتب ہونے والے اثر کے علاوہ روس یوکرائن جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں تمام بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ قیاس کیاجارہا ہے کہ آئیندہ مالی سال کے دوران مہنگائی بیس فیصد سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ گرمی کی لہر کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کمی کا اندازہ ہے۔ پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے تین سے چار ہزار ٹن گندم درآمد کرنا پڑے گی۔ لیکن دنیا کو غذائی اجناس فراہم کرنے والے اہم ممالک روس اور یوکرائن کی جنگ کی وجہ سے گندم کی سپلائی میں مشکلات اور قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔موجودہ مشکل مالی حالات اگرچہ نہ تو اس حکومت نے پیدا کئے ہیں اور نہ ہی گزشتہ ساڑھے تین برس تک اقتدار میں رہنے والی تحریک انصاف کی حکومت پر اس کا پورا الزام عائد کیا جاسکتا ہے ۔ اسے بھی کورونا وبا کی وجہ سے غیر معمولی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وبا سے معاشی سرگرمیاں کم ہوئیں، پیدا وار میں کمی ہوئی اور ملکی خزانے پر بوجھ میں اضافہ ہؤا۔ عالمی اداروں اور دوست ممالک کی مدد کے باوجود عوام کو دی جانے والی مالی مراعات اور مفت ویکسین کی سہولت پر اٹھنے والے مصارف نے قومی معیشت کو منفی انداز میں متاثر کیا۔ تاہم اپوزیشن میں شامل تمام جماعتیں اسے عمران خان اور تحریک انصاف کی ناکامی قرار دیتی رہی تھیں۔ اب عمران خان پوری قوت سے شہباز حکومت کو موجودہ مالی بحران اور مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بدعنوانی ، سازش اور دیگر سیاسی نعرے بیچنے کی پوری کوشش کررہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے انتخاب میں وہ اس بنیاد پر ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کر کرسکیں۔
دوسری طرف حکومت موجودہ مالی مشکلات کا سارا الزام عمران خان کی ناقص منصوبہ بندی اور معاشی کم فہمی پر عائد کرتی ہے۔ سرکاری ترجمانوں کی سب سے اہم دلیل عمران خان کی طرف سے ایک ایسے وقت میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور انہیں منجمد کرنے کے اعلان کو بنایا جارہاہے جس کے تحت جون میں بجٹ پیش کرنے تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ روک دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس یقین کے بعد کیا گیا تھا کہ اپوزیشن عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہوجائے گی اور ان کی جگہ جو بھی اقتدار سنبھالے گا وہ اس جال میں پھنس کر عوام کے سامنے اپنی مقبولت گنوادے گا۔ عمران خان کا یہ ہتھکنڈا کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔ اقتدار سے علیحدہ ہوکر ملک میں سیاسی بحران کے ذریعے بھی سابق وزیر اعظم نے حکومت کی مشکلوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے باوجود اتحادی پارٹیوں کی حکومت نے بجٹ میں غریب خاندانوں کی نقد امداد میں اضافے اور تنخواہیں بڑھا کر کسی بھی طرح اپنی سیاسی پوزیشن سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ پنجاب کے بجٹ میں تنخواہوں میں 30 فیصد اعلان بھی اسی حکمت عملی کا تسلسل ہے۔
پاکستان اس وقت دوہری مشکل کا سامنا کررہا ہے۔ ایک طرف آمدنی میں کمی، قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، عالمی اداروں کے ساتھ معاملات میں تعطل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مالی امور کو سنبھالنااور معاشی بہتری کی منصوبہ بندی کرنا نہایت جاں گسل مرحلہ ہے۔ اس صورت حال کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ملک کے تمام حلقے مل کر بحران سے نکلنے کی کوشش کرتے اور ملکی معیشت کی بہتری کے اقدامات کئے جاتے۔ لیکن ایسی ہم آہنگی سرے سے ناپید ہے۔ اس کے برعکس پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہیٰ نے ایوان میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کا بجٹ اجلاس نہیں ہونے دیا۔ تحریک انصاف اور پرویز الہیٰ اپنے ساتھیوں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا مطالبہ پورا ہونے تک اجلاس شروع کرنے پر راضی نہیں تھے۔ منگل کو طویل مذاکرات کے بعد کسی حد تک اس معاملہ پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا کہ پرویز الہیٰ نے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو معافی مانگنے کے لئے اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔ حمزہ شہباز نے یہ مطالبہ کو تسلیم نہیں کیا۔
پرویز الہیٰ کے ہتھکنڈوں کا جواب دینے کے لئے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی حکومت نے گورنر بلیغ الرحمان کے ذریعے ایک آرڈی ننس جاری کروایا ہے جس کے تحت اسپیکر اسمبلی کے اختیارات محدود کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے معاملات وزارت قانون کے سپرد کردیے گئے ہیں۔ آرڈی ننس کے تحت پنجاب کا سیکرٹری قانون اب پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مجاز ہے۔ اس طرح حکومت نے پنجاب اسمبلی کا یک طرفہ اجلاس اسمبلی بلڈنگ سے باہر منعقد کرکے صوبائی بجٹ پیش کردیا جبکہ پرویز الہیٰ نے اسمبلی کی عمارت میں اپنے ’گروپ‘ کے ارکان کا اجلاس بلا کر اسے ’حقیقی‘ اور ایوان اقبال میں منعقد ہونے والے اجلاس کو ’غیر قانونی ‘ قرار دیا ہے۔ اب یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ گویا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ارکان سیاسی معاملات مکالمہ کے ذریعے طے کرنے میں مکمل طور سے ناکام ہوگئے ہیں اور اور ایک منتخب ادارے کے اختیارات وزارت قانون یا اب ہائی کورٹ کو منتقل کئے جائیں گے۔
ایک طرف اس سیاسی و آئینی بحران کو طول دیا جارہا ہے تو دوسری طرف عمران خان مسلسل سیاسی دباؤ بڑھا کر سرمایہ کاروں کی بے یقینی میں اضافہ کررہے ہیں۔ مشکل بجٹ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی سے پیدا ہونے والی صورت حال میں بیرونی سرمایہ کاری اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس طرح روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگوں کو مشکل مالی حالات کا سامنا کرنے کے لئے امید کی کرن روشن ہوتی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں تعطل کے علاوہ سیاسی و آئینی بحران کی وجہ سے کوئی بھی سرمایہ دار ملک میں کوئی منصوبہ شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرے گا۔ بلکہ خبروں کے مطابق ملک کے برآمد کنندگان بھی کوشش کررہے ہیں کہ وہ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پاکستان منتقل کرنے میں تاخیری حربے استعمال کریں تاکہ وہ بھی اس صورت حال کا زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ اٹھا سکیں۔
ملک اس وقت تکلیف دہ اور پیچیدہ صورت حال سے گزررہا ہے۔ ہر لیڈر صرف خود کو سب سے بڑا قوم پرست ظاہر کرتے ہوئے تعاون اور مفاہمت کے تمام راستے مسدود کرنے کی حتی المقدور کوشش کررہا ہے۔ تمام فیصلے قلیل المدتی سیاسی اقتدار کے نقطہ نظر سے کئے جارہے ہیں۔ کوئی یہ غور کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات سے ملک و قوم کی مشکلات میں اضافہ ہورہا۔ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے عمران حکومت کے خلاف امریکی سازشی نظریہ کو مسترد کرکے سفارتی بہتری کی کچھ کوشش کی تھی کہ آج عمران خان اور تحریک انصاف نے زور دار بیانات کے ذریعے فوج کے ترجمان ادارے کو مشور دیا ہے وہ اس معاملہ میں سیاست کرنے کی کوشش نہ کرے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک کےخلاف کون سی سازش ہوئی ہے ، اس کا فیصلہ فوج نہیں کرسکتی۔ آئی ایس پی آر نے جوابی بیان میں کہا ہے کہ میجر جنرل بابر افتخار نے سیاسی بیان نہیں دیا بلکہ سازشی نظریہ کے بارے میں حقائق پیش کئے تھے۔
دوست دشمن بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس قسم کی بیان بازی اور فوج جیسے ادارے کو سیاسی فریق ثابت کرکے ملک کے لئے بہتری کے کون سے راستے ہموار ہوسکتے ہیں۔ اس پر مستزاد سینیٹ میں سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی وطن واپسی کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ’جب وہ ملک سے گئے تھے، کیا ہم انہیں روک سکے تھے؟ اب اگر وہ واپس آٗئیں گے تو کیا ہم انہیں آنے سے روک سکتے ہیں؟ یہ فیصلے ہم نے نہیں کرنے بلکہ یہ تو کہیں اور ہوں گے‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی طرف سے پرویز مشرف کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کا وطن ہے، انہیں واپس آنے کا حق حاصل ہے۔ اس بحث میں حیرت کے کئی نمونے ہیں ۔ ایوان بالا کا ایک رکن اور سابق وزیر اعظم یہ اعلان کررہا ہے کہ ملک میں فیصلہ سازی کے میکنزم میں منتخب پارلیمنٹ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ فیصلوں کا حتمی اختیار جب منتخب پارلیمنٹ کی بجائے ’کہیں اور‘ ہوگا تو سیاست، معیشت اور معاشرت پر اسی ہاتھی کے پاؤں میں پاؤں ملاکر چلے گی۔
پرویز مشرف کی وطن واپسی کی بحث ان کی شدید علالت کے بعد شروع ہوئی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ وہ موجودہ طبی پیچیدگیوں سے جاں بر نہیں ہوسکیں گے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ادارے اور فوجی قیادت کا خیال ہے کہ جنرل مشرف کو واپس آنا چاہئے‘۔ اس بیان کے بعد نواز شریف نے بھی ایک ٹوئٹ میں حکومت سے کہا کہ پرویز مشرف کی واپسی میں سہولت کاری کی جائے۔ اور اب سینیٹ نے بحث کے دوران اپنی بے بسی ظاہر کی ہے۔ غداری کے مقدمہ سے بچنے کے لئے پرویز مشرف مارچ 2016 سے دوبئی میں مقیم رہے ہیں۔ انہیں ملک سے نکالنے کے لئے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حکومت پر دباؤ ڈالا تھا۔ خصوصی عدالت نے دسمبر 2019 میں آئین شکنی کے الزام میں پرویز مشرف کو سزائے موت دی تھی۔ اس کے خلاف فوج اور تحریک انصاف کی حکومت نے خوب واویلا کیا تھا ۔ پھر لاہور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بنچ نے عجلت میں دیے گئے ایک حکم میں خصوصی عدالت کو غیر آئینی اور اس کے حکم کو کالعدم قرار دیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ پاکستانی آئین کی بالادستی اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے والی سپریم کورٹ کو ابھی تک اس میں کوئی قانونی، اخلاقی یا آئینی سقم تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
اس پس منظر میں بستر مرگ پر پرویز مشرف کی واپسی کی گفتگو کرنے والا کوئی شخص یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ دوبئی میں 6 سالہ قیام کے دوران جب پرویز مشرف بہتر حالت میں تھے اور وطن واپس آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے تو وہ انہوں نے دوبئی ہی میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔ اب وطن پر ان کے حق کی بات کرنے والوں کو معاملہ کے اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

