آج صبح جب میں بیدار ہوا تو حسب عادت تمام اخبارات پر نظر دوڑائی ، شہ سرخیاں پڑھیں، جید لکھاریوں کےکالموں کا جائزہ لیا، سیانے لوگوں کے تبصرے پڑھے اور پھر اِس نتیجے پر پہنچا کہ ملک خداداد پاکستان میں اِس وقت حب الوطنی کا پارہ آسمان کو چھو رہا ہے۔یہ جان کر روح کو بہت شانتی ملی ۔ویسےعموماً یہ شانتی نیک لوگوں کو فوت ہونے کے بعد ملتی ہے ۔مولانا طارق جمیل کے انداز میں کہوں تو یہ وہ شانتی ہے جو جنت میں ملےگی اور جس کا قد ایک سو تیس فٹ ہوگا، مولانا نے باقی ’فگر‘ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا سو وہ میں آپ کے تخیل پر چھوڑتا ہوں۔لیکن ہم رِندوں کا جنت میں کیا کام ،ہمارے لیے تو اگر پاکستان میں دو چار کام سیدھے ہوجائیں تو وہی جنت بن جائے ۔مصیبت مگر یہ ہے کہ اب شاید دو چار کام سیدھے کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی ۔اِس دنیاوی جنت کا ہم نے وہ حال کر چھوڑا ہے کہ کوئی معجزہ بھی شاید اسے ہماری زندگیوں میں ٹھیک نہ کرسکے۔ میں معذرت چاہتا ہوں کہ چودہ اگست کو اِس قسم کی مایوسی کی باتیں لے کر بیٹھ گیا ہوں حالانکہ آج آزادی کی پچھترویں سالگرہ ہے ، سالگرہ والے دن تو بندہ دشمن کو بھی نیک تمناؤں کا پیغام بھجوا دیتا ہے، پاکستان تو پھر ہمارا ملک ہے ۔مگر میں کیا کروں ، چودہ اگست کا دن میرے اندر ایک عجیب قسم کی مایوسی پیدا کردیتا ہے ، یہ ویسی ہی مایوسی ہے جیسی زندگی میں کسی ناکام شخص کو اپنی پچھترویں سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے ہوتی ہے ۔ ایک مدت تک ہم خود کو یہ کہہ کر بہلاتے رہے کہ قوموں کی زندگیوں میں پچاس ساٹھ برس کوئی اہمیت نہیں رکھتے ، یہ استدلال کسی حد تک درست تھا مگر اکیسویں صدی میں اِس کا سہارا لینا بہرحال حماقت ہی تھی ۔یہ ٹھیک ہے کہ قومیں چند برسوں میں تشکیل نہیں پاتیں مگر آج کل دنیا میں ترقی کا ہر ماڈل دستیاب ہے ، ہمیں صرف اُس ماڈل کو نقل کرکے اپنے ملک میں لاگو کرنا تھا مگر ہم یہ کام نہ کرسکے۔اس کے مقابلے میں بھارت نے اپنے ہاں جمہوریت کا ٹوٹا پھوٹا ماڈل لاگوکیا اور ہم سے کہیں آگے نکل گیا۔ ہمارا حال تو اُن سردار جی جیسا ہے جنہوں نے شراب نہ پینے کو عہد کر رکھا تھا مگر ایک روز جب برداشت بالکل جواب دے گئی تو انہوں نےبوتل میز پر رکھی اور جیب سے سکہ نکال کر خود سے کہا کہ اگر ’ہیڈ ‘ آئے گا تو پیوں گا ’ٹیل ‘ آئے گا تو نہیں پیوں گا ۔بالآخر چھبیس مرتبہ سکہ اچھالنے کے بعد ’ہیڈ‘ آیا ۔ہم نے بھی اِس ملک کے ساتھ یہی کیا ہے، ہم اُس وقت تک سکہ اچھالتے رہتے ہیں جب تک اپنی مرضی کا نتیجہ نہ نکل آئے اور پھر وہ نتیجہ عوام پر مسلط کرکے امید کرتے ہیں کہ ملک ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا جائے گا، ایسا تاریخ میں کبھی ہوا ہےاور نہ آئندہ ہوگا۔
بات حب الوطنی کی ہورہی تھی ۔ ہماری حب الوطنی اب صرف چودہ اگست کو مال روڈ پر بغیر سائلنسر کے موٹر سائیکل چلانے اور یوم آزادی پر ایک ٹویٹ کرنے تک رہ گئی ہے ۔ چلیے اِس میں بھی کوئی حرج نہیں اگر یہ باتیں ’قانون عدم تضاد ‘ یعنی The Law of Non Contradiction کے مطابق ہوں۔یہ قانون بظاہر بے حد سادہ مگر حقیقت میں کافی باریک ہے۔اِس قانون کا مطلب یہ ہے کہ دو متضاد باتیں بیک وقت درست نہیں ہوسکتیں یعنی کسی بیان کو ایک ہی سانس میں درست اور غلط نہیں قرار دیا جا سکتا ۔گویا اگر ہم تسلیم کرلیں کہ ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے تو اسی لمحے اس کی تردید میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں محبت نہیں ہے ۔اِس قانون ِعدم تضاد کی خلاف ورزی کا مطلب حقیقت کا انکار کرنا ہوگا ، اسی لیے ،بقول ارسطو، علم و دانش کے حصول کے لیے اِس قانون پر عمل کرنا ضروری ہے۔لیکن ہم چونکہ پاکستانی ہیں اِس لیے کسی قانون کی پروا نہیں کرتے ۔ ہم نے آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہےتو یہ قانون عدم تضاد بھلاکیا چیز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں یوم آزادی کے موقع پر بلند و بانگ دعوے سنتا ہوں ، اخبارات میں بیانات پڑھتا ہوں اور جذبہ حب الوطنی سے بھرپور ویڈیوز دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اگر پوری قوم ہی محب وطن ہے تو پھر خرابی کہاں ہےاور پورے ملک پر نحوست کیوں طار ی ہے؟ اِس سوال کا جواب قانون عدم تضاد میں پوشیدہ ہے ۔ جس لمحے ہم حب الوطنی کا دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں اسی لمحے ہم ٹیکس بھی چوری کر رہے ہوتے ہیں ، ٹریفک کے اشارے کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہوتے ہیں، کسی اقلیتی گروہ کو تضحیک کا نشانہ بھی بنا رہے ہوتے ہیں ، کسی مزدور کی اُجرت بھی دبا کر بیٹھے ہوتے ہیں اور کسی سڑک کو روک کر وہاں ناجائز تجاوزات کا انبار بھی ہم نے لگا رکھا ہوتا ہے ۔لہذا ایسے میں جب ہم چودہ اگست کو اپنے گھر پر جھنڈا لہراتے ہیں یا یوم آزادی پر سبز اور سفید کپڑے پہن کر نکلتے ہیں تو وہ حب الوطنی کا محض کھوکھلا اظہار ہوتا ہے ۔حب الوطنی کا اصل اظہار آئین اور قانون سے پاسداری ہے ، آپ اپنی قمیض پر قومی پرچم لگائیں ،بہت اچھی بات ہے ،لیکن اگر آپ تاجر ہیں اور ٹیکس نہیں دیتے، مذہبی عالم ہیں اورمعاشرے میں منافرت پھیلاتے ہیں،ڈاکٹر ہیں اور مریضوں کو سفاکی سے ڈیل کرتے ہیں ، انجینئر ہیں اور ناقص تعمیرات کرتے ہیں ، قاضی ہیں اور انصاف نہیں کرتے ، سرکاری ملازم ہیں اور آپ میں work ethicsنہیں اورسرکاری نوکری کو آپ نے محض وظیفے کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے تو پھر اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نےیوم آزادی کیسے منایا۔آپ چاہے زار و قطار روتے ہوئے ملکی سلامتی اور خوشحالی کی دعائیں مانگیں اور سارا سال مانگتے رہیں، یہ دعائیں قبول نہیں ہوں گی کیونکہ دو متضاد رویے بیک وقت درست نہیں قرار دیے جا سکتے۔
بات کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہوگئی سوایک لطیفہ اور سُن لیں۔ایک شخص کچھ دنوں کے لیے شہر سے باہر گیا ، وہاں سے اُس نے اپنی بیوی کو خط لکھاکہ وہ فلاں دن گھر واپس پہنچے گا، جب وہ مقررہ دن پر گھر آیا تو دیکھا کہ گھر پر بیوی کے ساتھ کوئی غیر مرد بھی ہے ، اسے بے حد غصہ آیا اور اُس نے کھڑے کھڑے اپنی بیوی کو طلاق دےد ی۔ اُس کی ساس نے سنا تو دوڑتی بھاگتی ہوئی آئی اور اُس کی منت سماجت کرتی ہوئی بولی کہ بیٹا اِس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے ، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ تمہاری بیوی کو خط ہی نہ ملا ہو!اِس لطیفے کو آپ ملکی حالات پر منطبق کرکے دیکھ لیں ،آپ کولگے گاکہ کچھ ایسی ہی تاویلیں ہماری بھی ہیں۔ ۔ ۔تاجر کے پاس ٹیکس چوری کرنے کی تاویل ہے ، ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرنے والےکے پاس اپنے دلائل ہیں اور سرکاری ملازم کے پاس کام نہ کرنے کا اپنا بہانہ ہے ۔ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے مگر ہمارے بہانے ختم نہیں ہوئے ۔
چلتے چلتے ایک آخری بات۔جس بندے نے ہمارے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا،اُس کا نام محمد علی جناح تھا، اُس نے ۱اگست ۱۹۴۷کوآئین ساز اسمبلی میں ایک تقریر کی جس میں اُس نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عباد ت گاہ میں جانے کی آزادی ہوگی ، ریاست کا کسی کے مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا ۔یہ سوال اپنی جگہ کہ جو تقریر جناح صاحب نے ۱۹۴۷ میں کی وہ تقریر ۱۹۴۰ میں کیوں نہیں ہو سکتی تھی۔لیکن خیر ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے ، ہم صرف خود سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ہم نےاُس شخص کی تقریر کو بھلا دیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اِس کا جواب ہاں میں ہے ۔ آج اِس ملک کے پرچم کا تیس فیصد حصہ، جواقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے، سکڑ کر شاید پانچ فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے ۔ یہ اقلیتیں ہماری مہا حب الوطنی سے تنگ آ کر ملک چھوڑ کر جا چکی ہیں اور جو باقی رہ گئی ہیں ،وہ جانے کی کوشش میں ہیں ۔
میں آپ سے ایک مرتبہ پھر معذرت خواہ ہوں کہ لکھتے لکھتے بہک گیا،لیکن یقین کیجیے اِس میں میرا کوئی قصور نہیں ، میں نے کوئی بوتل میز پر رکھ کر سکہ نہیں اچھالا، میں نے تو تہیہ کیا تھا کہ آج طعنہ زنی سے کام لینے کی بجائے خوشگوار موڈ میں ہلکی پھلکی گفتگو کروں گا کہ آج پاکستان کی سالگرہ ہے مگر مجھے یوں لگتا ہے جیسے میری روح کو شانتی نہیں ملی۔میں فانی انسان ہوں، قیامت کا انتظار نہیں کرسکتا ،لہذاکیا ہی اچھا ہو اگر مجھے دنیا میں ہی شانتی مل جائے! ر ہی بات آخرت کی تو میں مولانا طارق جمیل سےدرخواست کروں گا کہ مجھے قیامت کے دن’این آر او‘ دلوا دیں، آخر وہ یہی کام تو کرتے ہیں !
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

