Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, مئی 7, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • آتش فشاں کی آواز سُنیے : حامد میر کا کالم
  • معرکہِ حق اور میزائل چوک : وسعت اللہ خان کا کالم
  • کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی گرفتار : 5 پولیس افسران کے خلاف ایکشن
  • ابلیسی طاقتوں کی دھمکیوں کا جواب : صدائے ابابیل / سیدہ معصومہ شیرازی
  • ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا
  • مغربی بنگال ہندو انتہاپسندوں کے نرغے میں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جے یو آئی ( ف ) کے رہنما مولانا محمد ادریس قتل : چارسدہ میں شدید احتجاج ، سڑکیں بلاک
  • جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ، ایک ہلاک، 14 زخمی,متعدد کی حالت نازک
  • کیا مصنوعی ذہانت تباہی کا سبب بن سکتی ہے؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • آہ پروفیسر حفیظ الرحمن : صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کی یاد نگاری
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»عطاء الحق قاسمی»عطا ء الحق قاسمی کاکالم:نیند کیوں رات بھر نہیں آتی!
عطاء الحق قاسمی

عطا ء الحق قاسمی کاکالم:نیند کیوں رات بھر نہیں آتی!

ایڈیٹرستمبر 22, 20221 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

میں نے ایک دوست سے کہا یار مجھے نیند کا پرابلم ہے،بستر پر لیٹتا ہوں تو لگتا ہے کہ آئی کہ آئی، مگر عملی طور پر دور دور تک اس کا نام و نشان نہیں ہوتا، چنانچہ کروٹ در کروٹ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ ’’وکھیاں‘‘ دکھنے لگتی ہیں، چنانچہ میں اٹھ کر صوفے پر آ بیٹھتا ہوں کہ شاید نیند کی بستر کے ساتھ ’’لگدی پھبدی‘‘ ہو، مگر صوفے پر بھی صورت حال جوں کی توں رہتی ہے۔ میرے دوست نے میری بپتا پوری توجہ سے سنی اور پھر بولا ’’تم نیند نہ آنے کی اصل وجہ بتائو تو میں اس کا علاج بھی بتائے دیتا ہوں‘‘ میں نے کہا یار جس دن نیند نے مجھے وہ وجہ بتائی میں دیر کئے بغیر تمہیں بتا دوں گا۔یہ سن کر دوست بولا چلو میں اندازے سے کچھ وجوہ بیان کرتا ہوں، تم ان کی تائید یا تردید کردینا۔ اس کا پہلا سوال وہی گھسا پٹا تھا ، اور مجھے اس سے اسی سوال کی امید تھی، یعنی کسی کے عشق میں مبتلا تو نہیں ہوگئے؟ میں نے کہا عشق انسان کا دشمن تو نہیں ہوتا کہ جو اس میں مبتلا ہو اس کی نیندیں اڑ جائیں، دوست نے یہ سن کر کہا بونگیاں نہ مارو، ہم بچپن سے سنتے اور شاعری میں پڑھتے آئے ہیں کہ عشق عاشق کی نیندیں اڑا دیتا ہے، میں نے کہا چلو مان لیا جو تم کہتے ہو مگر تم نے یہ کیسے فرض کرلیا کہ میں کسی کے عشق میں مبتلا ہوں، تم نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ مجھ پر بھی تو کوئی عاشق ہو سکتا ہے ، یہ سن کر میرا بدبخت دوست ہنسنا شروع ہوا تو ہنستا ہی چلا گیا، جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنایاہو۔ جب اس کی بے ہودہ ہنسی بمشکل اپنے اختتام کو پہنچی تو بولا مجھے سمجھ آگئی ہے کہ تمہاری نیندیں کیوں اڑ ی ہوئی ہیں، تم آئینے میں اپنی ’’تھوتھنی‘‘ دیکھتے ہو اور پھر ساری رات سوچتے رہتے ہو کہ اللّٰہ اگر کسی کی مت مار دے تو اسے کسی سے بھی عشق ہو سکتا ہے!
اس کے یہ بکواس مفروضے اللّٰہ جانے کب تک جاری رہتے، میں نے اسے اپنی پرانی دوستی کا واسطہ دیتے ہوئے کہا ’’یار یہ مذاق پھر کبھی سہی، فی الحال میری مشکل کا حل بتائو‘‘ یہ سن کر دوست سنجیدہ ہوگیا اور بولا ’’تم ٹھیک کہتے ہو مگر یہ بتاؤکہ انسان جب مسلسل سونے کی کوشش میں ناکام ہو رہا ہو تو اس کا ذہن بہت کچھ سوچتا ہے کہ ذہن کا کام ہی مصروف رہنا ہے، فراغت ہو، انسان سو رہا ہو، جاگ رہا ہو، وہ اپنا کام کرتا رہتا ہے، تم نیند نہ آنے کے دوران کیا سوچتے رہتے ہو؟ میں نے جواب دیا، دنیا جہان کی بے ربط باتیں، کبھی کچھ کبھی کچھ ، مثلاً یہ کہ زندگی کیا ہے، کیوں ہے، کیسے ہے، دوست بولا ’’ادھر ادھر کی نہ ہانکو، سنجیدگی سے بتاؤؤؤ کہ نیند نہ آنے کے دوران تم کن خیالوں میں گھرے رہتے ہو، میں نے کہا زندگی کے اتار چڑھائو کے بارے میں بھی سوچتا ہوں، لیکن یہ بھی کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے اور اس کا سلسلہ رکنے میںنہیں آ رہا، غریبوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ چالیس چالیس ہزار والے ایک ہزار بانڈ محض اس نیت سے خرید کر رکھے ہوئے ہیں کہ اگر سات کروڑ کا ایک بانڈ بھی نکل آیا تو غریبوں کی مدد کرنے کے قابل ہو سکوں گا۔ اس کے علاوہ تمہیں تو علم ہے میں درویش ٹائپ انسان ہوں مال و دولت دنیا سے مجھے غرض نہیں، شہر میں دس بارہ پلازے ہیں ان دنوں میری دو ہائوسنگ اسکیمیں بھی زیر تعمیر ہیں، تو ظاہر ہے ہاؤسنگ اسکیموں پر اربوں روپے خرچ آتے ہیں جن میں سے بھاری اماؤنٹ بینکوں سے قرض لینا پڑتی ہے اور یوں مقروض ہوں، تم تو جانتے ہو، مقروض پر تو زکوٰۃ بھی فرض نہیں ہوتی، پلازےبھی اسی طرح بنے ہیں مگر غریبوں کی حالت کا سوچ سوچ کر راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔
یہ سن کر ایک بار پھر اس دوست نما دشمن پر ہنسی کا دورہ پڑا، مجھے اس کی اس سنگدلی پر سخت غصہ آیا، اسے اپنے دوست کی پریشانیوں کی کوئی پروا ہی نہیں، چنانچہ میں نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ اس کا نام اپنے دوستوں کی فہرست سے خارج کردوں، اس نے شاید محسوس کرلیا کہ میں اس کی باتوں سے سخت رنجیدہ ہوں، چنانچہ وہ سنجیدہ ہوگیا بلکہ بڑی پکی سی شکل بنا کر کہنے لگا یار تم نے آج تک مجھے اپنے ان مسائل کے بارے میں بتایا ہی نہیں، میں تو سمجھتا تھا تم ماشا اللہ بہت کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتے ہو، مگر تم تو افلاس کی آخری حدوں کو چھو رہے ہو،ان حالات میں تمہیں بھلا نیند کیسے آ سکتی ہے، میں تمہارے لئے اور تو کچھ نہیں کرسکتا ایک ماہ پہلے تم سے پانچ سو روپے ادھار لئے تھے فی الحال میرے پاس تین سو روپے ہیں یہ لو، باقی دوسو روپے اگلے ماہ واپس کر دونگا اور اس نے تین سو روپے میری پھیلی ہوئی ہتھیلی پر رکھ دیئے جو میں نے فوراً جیب میں ڈال لئے۔ اس کی اس فراخی پر میں نے خود کو دل میں بہت کوسا کہ اتنے ہمدرد دوست کے بارے میں میرے دل میں ایسے واہیات خیالات کیوں آئے؟
اب شام کے سائے ڈھل رہے تھے میں نے واپس گھر جانے کیلئے راستے میں کھیرے، دھنیا اور بیسن بھی خریدنا تھا،میری اہلیہ نے صبح گھر سے نکلتے ہوئے اس سودا سلف کیلئے مجھے سو روپے دیئے تھے، جس میں سے میں نے ستر روپے والا سگریٹ کا پیکٹ خریدا تھا، تین سو روپے دوست نے دیئے تھے مگر مجھے خوف تھا کہ اس ڈرامے کے اختتام پر وہ مجھ سے مانگ نہ لے۔ میں نے اس سے اجازت مانگی تو وہی ہوا جس کا ڈر تھا، اس نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور کہا ’’ڈرامے باز میرے پیسے واپس کرو، ہم روزانہ ٹائم پاس کرنے کیلئے ’’یوٹیوبیوں‘‘ ایسی بے پر کی اڑاتے ہیں، ہم نے آج کا کوٹہ پورا کرلیا،اب جاؤ………‘‘ میرا یہ بے تکلف دوست دوستوں کی تکلیفوں کے حوالے سے بہت حساس واقع ہوا ہے۔ میں اٹھ کر جانے لگاتو بولا ’’ میں نے تمہاری شیخ چلی والی داستان سن لی، ڈیڑھ لاکھ روپے ماہوار پنشن پر گزارا کرنے والے، اب جاتی دفعہ سچ سچ بتاؤ تمہیں رات کو نیند کیوں نہیں آتی، کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ۔ اس بار میرا قہقہہ اس کے قہقہوں سے زیادہ بلند تھا جو وہ میری بے پر کی اڑاتے وقت مسلسل لگا رہا تھا، چنانچہ میں نے اسے مخاطب کیا ’’سچ سچ بتاؤں مجھے رات کو نیند کیوں نہیں آتی‘‘ بولا ’’بتاؤ‘‘ میں نے کہا ’’اس لئے کہ میں دن بھر سویا رہتا ہوں، رات کو پھر سونے کے لئے بستر پر جا لیٹتا ہوں ’’نیند‘‘ کہاں سے آنی ہے؟‘‘ اس آخری جملے پر یہ کلمات میرے کانوں کو سنائی دیئے۔ لاحول والا قوۃ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کا تجزیہ : عمران خان کی جنگ کو ن لڑ رہا ہے؟
Next Article کشور ناہیدکاکالم:سیلاب کے بعد فوٹو سیشن اور بس
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

آتش فشاں کی آواز سُنیے : حامد میر کا کالم

مئی 7, 2026

معرکہِ حق اور میزائل چوک : وسعت اللہ خان کا کالم

مئی 7, 2026

کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی گرفتار : 5 پولیس افسران کے خلاف ایکشن

مئی 6, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • آتش فشاں کی آواز سُنیے : حامد میر کا کالم مئی 7, 2026
  • معرکہِ حق اور میزائل چوک : وسعت اللہ خان کا کالم مئی 7, 2026
  • کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی گرفتار : 5 پولیس افسران کے خلاف ایکشن مئی 6, 2026
  • ابلیسی طاقتوں کی دھمکیوں کا جواب : صدائے ابابیل / سیدہ معصومہ شیرازی مئی 6, 2026
  • ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا مئی 6, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.