ٰ( گزشتہ سے پیوستہ )
مذکورہ بالا تجزیہ سے یہ نتیجہ اظہر من الشمس ہے کہ اس سیاسی بحران کے دو فریق ہیں ۔ ایک طرف امریکہ ، ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پی ڈی ایم کی حکومت ہے جن کے مذکورہ بالا دیرینہ اور خودغرضانہ مفادات شدت سے اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ جیسے بھی ممکن ہو عمران خان کو دوبارہ برسراقتدار آنے سے روکا جائے۔ دوسری طرف عمران خان کی ذات ہے جو حقیقی آزادی اور” پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ “ کا نعرہ لگا کر عوام میں مقبولیت کے آسمان پر پہنچ چکی ہے اور جسے ایک شفاف انتخاب میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار سامنے نظر آرہا ہے۔ یہی وہ منظر نامہ ہے جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کی حکومت مبینہ درپردہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی تائید یا ہدایت پر آئندہ عام انتخابات جلد کرانے سے محض گریزاں ہی نہیں بلکہ برملا انکاری ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سب سے بڑھ کر امریکہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی سیاست سے عمران خان کو کسی بھی طریقے سے مائنس کرکے یہاں ان کے خودغرضانہ مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی دیر پا حکومت قائم کر سکیں؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیں ان امکانات کے قابل عمل ہونے پر غور کرنا ہوگا جن سے عمران خان کو مائنس کیا جاسکتا ہے۔
عمران خان کو مائنس کرنے کی تین صورتیں ہیں ۔ اول یہ کہ فارن فنڈنگ ، توشہ خانہ ، دہشت گردی وغیرہ جیسے کیسوں میں ملوث کرکے اسے نااہل یا مجرم قرار دے کر سیاسی عمل سے یکسر خارج کردیا جائے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران حکومت نے ان خطوط پر کاروائی کرکے خود دیکھ لیا ہے کہ ایسی بظاہر قانونی طور پر جائز کاروائیوں کے ردعمل میں عمران خان کی مقبولیت کا گراف اور بھی اونچا ہوگیا ہے اس لیے ایسی کاروائیوں کو جاری رکھنا میرے نزدیک سراسر حماقت اور لا حاصل عمل ہے۔ عمران خان کو مائنس کرنے کی دوسر ی صورت یہ ہے کہ اس ”عذاب “ سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑا لی جائے جس کی عملی مثالیں ہماری سیاسی تاریخ میں موجود ہیں۔ کسی شفاف انکوائری سے قبل حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ عمران خان پر 03نومبر کا حالیہ ناکام قاتلانہ حملہ کسی ایسی سٹریٹیجی کے تحت تھا یا نہیں لیکن نہایت وثوق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ قاتلانہ حملہ عمران خان کے ”عذاب“ سے مستقل چھٹکار احاصل کرنے کے لیے کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تھا تو ایسی منصوبہ بندی کرنے والوں کو کسی پاگل خانہ میں ہمیشہ کے لیے قید کردینا چاہیے کیونکہ شہید عمران خان زندہ عمران خان سے کہیں بڑا ”عذاب “ بن کر نازل ہوگا۔ اسے سیاسی منظر سے لاتعلق کرنے کی تیسری صورت یہ ہے کہ ملک میں ہنگامہ آرائی اور امن و امان کی سنگین صورتحال پیدا کرکے جمہوریت کا بستر ہی سمیٹ دیا جائے۔ تاہم یہ یقینی امر ہے کہ موجودہ صورتحال میں مارشل لاءبھی قوم کو قابل قبول نہیں ہوگا اور ایسی حکومت زیادہ دیر نہ چل سکے گی۔ آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک ایسا جن ہے جسے بوتل سے نکال تو دیا گیا ہے لیکن اب کسی کو سمجھ نہیں آرہا کہ اس جن کو واپس بوتل میں کیسے بند کیا جائے۔ مجھے ان کی اس بات سے تو اتفاق ہے کہ ایک جن کو بوتل سے نکال دیا گیا ہے لیکن ان کی اس بات سے قطعاً اتفاق نہیں ہے کہ اس جن کو واپس بوتل میں بندکیسے کیا جائے کسی کو سمجھ نہیں آرہا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
بحران کے مذکورہ بالا اجزائے ترکیبی کے تجزیہ کے بعد بلین ڈالر سوال یہ ہے کہ آخر اس بحران کا حل کیا ہے؟ اور وہ حل اصل میں کس قوت یا ادارہ کے دائرہ اختیار میں ہے؟میری دانست میں اس بحران کا واحد اور حتمی حل ملک میں جلد از جلد عام انتخابات کے اعلان اور اس کے شفاف اور غیرمتنازعہ ہونے میں ہے۔ اگرچہ آئینی طور پر عام انتخابات کا اعلان اور اس سے متعلق تما متر انتظامات کا اختیار اور ذمہ داری مرکزی حکومت اورالیکشن کمیشن کی ہے لیکن ایک طویل عرصہ سے پاکستان کے معروضی حالات اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ موجودہ حالات میں اس معاملے کا ڈی فیکٹو اختیار ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی ہے۔ ہمارے موجودہ سیاسی حکمرانوں کی تو اغلباً یہی ترجیح ہوگی کہ اگرعمران خان نے ہی برسر اقتدار آنا ہے تو بہتر ہے کہ انتخابات سے ہی جان چھڑا لی جائے۔ بے شک جمہوریت کا بستر ہی گول کردیا جائے اور یوں مارشل لاءکی حکومت میں حصہ داری کرکے نہ صرف احتساب کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کیا جائے بلکہ اپنے سیاسی سرمایہ کو بھی محفوظ کیا جائے۔ میری دانست میں یقینی شدید قومی ردعمل اورسپریم کورٹ کے موڈ کے تناظر میں ملٹری کی طرف سے مارشل لاءکا امکان نہ ہونے کے برابر ہے ۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے عام انتخابات کا ڈی فیکٹو اختیار ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے مجھے حسن ظن ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا اپنی اناءاور ایک طویل عرصہ سے پاکستان کی سیاست پر کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ اجارہ داری کی ترغیبات پر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیں گے اور رضا کارانہ طور پر اس غیر آئینی اور غیر جمہوری سسٹم جس نے پاکستان میں آج تک سیاسی استحکام نہیں آنے دیا سے دست بردار ہوکر مرکزی حکومت کو پیغام دیں گے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے نیوٹرل ہونے کے اعلان کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عمران خان اور پی ڈی ایم کی مشاورت سے نگران حکومت ، غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے۔ رہا امریکہ تو باوجود عمران خان کے بتکرار اور واشگاف الفاظ میںاس اعلان کے کہ وہ اینٹی امریکہ قطعاً نہیں اور یہ کہ وہ پاکستان کے لیے امریکہ کے تعلقات کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے تاہم مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں امریکہ کی تو بہرحال یہی ترجیح ہوگی کہ عمران خان کو کسی طور بھی برسر اقتدار نہیں آنے دینا چاہیے ۔ اس کی بجائے وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو مارشل لاءلگانے اور اس کی بھرپور حمایت کی ترغیب دے گا ۔امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان میں جمہوریت کے حق میں بیانات محض ایک دھوکہ ہے۔امریکہ کو پاکستان میں صرف وہ” جمہوریت “قبول ہے جس کے ذریعے یہاں ماضی کی طرح اس کی پٹھو اور فرمانبردار حکومتیںقائم ہوتی رہیں۔ یہ ملٹری قیادت کا فرض اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کو دو ٹوک الفاظ میں یہ باور کرائے کہ پاکستان کے سیاسی استحکام ، مفاد اور زمینی حقائق کا تقاضا ہے کہ جلد عام انتخابات کے علاوہ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی وفاداری اول و آخر پاکستان سے ہے نہ کہ امریکہ سے ۔
ایک خودمختار اور امریکی ڈکٹیشن سے آزاد پاکستان کی اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکہ ہماری مشرقی سرحدوں پر انڈیا کی طرف سے کسی مہم جوئی تک کی سازش بھی کرسکتا ہے لیکن ایسی کسی ممکنہ سازش یا اس کی دھمکی کو بھی خاطر میں لانے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ ایک تو پوری قوم ایک پرعزم قیادت کے ساتھ فوج کے پیچھے کھڑی ہے اور دوسرا یہ کہ چین اور روس اپنے مفاد میں کبھی بھی انڈیا کو ایسی مہم جوئی کی ا جازت نہ دیں گے ۔ چنانچہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے پرزور استدعا ہے کہ ملک اور قوم کو اس بحران کے ذہنی کرب سے جس قدر جلد ممکن ہو نکالا جائے اور لانگ مارچ کے راولپنڈی یا اسلام آباد پہنچنے اور مزید کسی المناک سانحہ کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ضروری فیصلے کیے جائیں۔ اس سلسلہ میں اگرچہ اعلیٰ فوجی قیادت اس امرکی ناگزیریت سے بے بہرہ نہیں ہوسکتی لیکن پھر بھی گزارش ہے کہ فیصلے کرتے وقت ملٹری کی رینک اینڈ فائل کے جذبات اور نظریات کا بھی ایک سروے کروالیا جائے۔
اپنی معروضات ختم کرنے سے پہلے ہم جناب عمران خان کی خدمت میں بھی گزارش کریں گے کہ وہ (1) ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی اور کنفرنٹیشن کی پالیسی سے اجتناب فرمائیں۔(2)جلد بازی اور جذبات میں کیا گیا کوئی ایک فیصلہ بھی ان کے عظیم مشن اور جدوجہد کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے، اس طرز عمل سے ہر حال میں گریز کیا جائے ۔ (3)آپ قومی قیادت کے جس اعلیٰ ترین مقام پر کھڑے ہیں وہاں سیاسی مخالفین کے چوراور ڈاکوہونے کے باوجودانہیں ان القابات سے پکارنا آپ کے اعلیٰ سٹیٹس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ آپ صرف یہ اعلان کریں کہ جس کسی نے بھی کرپشن کی ہے اس کا کڑا احتساب آپ کے ایجنڈا کا حصہ ہے۔
فیس بک کمینٹ

