اسلام آباد : سابق صدر آصف علی زرداری نے نجی ٹی وی چینل آج کوایک خصوصی انٹرویو میں اس امکان کو رد نہیں کیا ہے کہ انتخابات سے قبل نہ صرف سابق وزیراعظم عمران خان گرفتار ہو سکتے ہیں بلکہ وہ توشہ خانہ ریفرنس جیسے کسی کیس میں نااہل بھی ہو سکتے ہیں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل سے بچانے کے لیے وہاں عدم اعتماد لے کر آئیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں بھی ان کے پاس اراکین کی تعداد پوری ہے، بس کچھ گمراہ دوست ہیں، جنھیں واپس لے کر آنا ہے۔جب ان سے اگست یا اکتوبر سے قبل انتخابات سے متعلق سوال پوچھا گیا تو آصف زرداری نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ پہلے انتخاب ہمیں یا جمہوریت کو سُوٹ کرتا ہے۔‘آصف زرداری نے کہا کہ اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہوں گئیں تو پھر یہاں انتخابات ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق دیکھتے ہیں وہ (عمران خان) کتنے ایم پی اے لے کر آتے ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ اگر وہ اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم الیکشن لڑیں گے، اگر نہیں توڑیں تو اپوزیشن کرتے رہیں گے۔’انشااللہ ہم پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد لائیں گے۔ کے پی میں سیٹیں ہیں تھوڑے دوست گمراہ ہیں، ان کو واپس لانا ہے۔‘
پی ٹی آئی رہنماؤں کو نااہل کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا کچھ حدود ہونی چاہئیں تاکہ یہ نا ہو کہ آپ نے پیسہ اکٹھا کیا اور نکل لیے۔ ان کے مطابق عمران خان نے تحفہ فروخت کیا ہے اور یہ ان کے خلاف سیدھا مقدمہ ہے۔انھوں نے کہا توشہ خانہ ریفرنس میں انھیں بھی سزا ہوئی اور وہ کیس 25 سال بعد اب جا کر ختم ہوا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک اقتدار میں رہے اور کبھی توشہ خانہ سے کوئی تحفہ لے کر فروخت نہیں کیا ہے۔
آصف زرداری نے کہا ہے کہ مقدمات کی بنیاد پر عوام فیصلہ نہیں کرتے ہیں۔ وہ جس رہنما کو چاہتے ہیں اسے ووٹ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے خلاف سالہا سال سے مقدمات قائم کیے گئے مگر لوگ انھیں ووٹ دیتے ہیں تو پھر یہ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے۔
فیس بک کمینٹ

