کچھ لوگوں کے ساتھ زندگی میں ایک انہونا رشتہ ہوتا ہے۔ ایک ایسا رشتہ کہ جس میں ہم روز نہ بھی ملیں تو خودکو ایک دوسرے کے قریب سمجھتے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے ساتھ روز مل کربھی قربت کااحساس نہیں ہوتا۔ قائم نقوی ان دوستوں میں سے تھے جن سے ملاقاتیں تو زیادہ نہیں تھیں لیکن وہ ہمیں اپنے دِل کے قریب محسوس ہوتے تھے۔ اپنی محبت بھری رفاقت کے ساتھ دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ اور اس لہجے کے ساتھ جسے سن کر آپ محسوس کرتے تھے کہ اپنائیت کایہ لہجہ صرف آپ سے ہی مشروط ہے کہ جیسے آپ ان کے بہت اہم ہیں لیکن اس میں تصنع نہیں تھا، کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو تھا جس میں سب کے ساتھ اپنائیت اور محبت جھلکتی تھی۔ قائم نقوی کا کبھی کبھار فون موصول ہوتاتھا،کبھی خیریت معلوم کرنے کے لیے،کبھی یہ بتانے کے لیے کہ میں آپ کے علاقے میں موجودہوں اورفلاں تاریخ کو ملتان بھی آنا ہوگا اگر ممکن ہو تو ملاقات ہوسکتی ہے، اب سوچتا ہوں کہ یہ آواز مجھے کبھی سنائی نہیں دے گی اب سوچتا ہوں کہ وہ مسکراتا ہوا چہرہ صرف ہمارے ذہنوں میں ہی موجودرہے گا اور ہم قائم نقوی کو صرف یادوں کے سہارے دیکھ سکیں گے۔ یہ سوچتاہوں تو دل مٹھی میں آجاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کبھی اطہر ناسک اور کبھی اخترشمار کی یاد دل کو اداسی سے بھر دیتی ہے۔
برادرم قائم نقوی کے انتقال کی خبر ہمیں انہی دنوں موصول ہوئی جب اختر شمار نے ہمیں جدائی کازخم دیاتھا، دونوں کا ہمارے خطے سے ہی تعلق تھا اور دونوں میرے دل کے بہت قریب تھے، پہلے قائم نقوی نے رخت سفر باندھا اور کچھ اس انداز میں رخصت ہوئے کہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے دوست بھی حیران رہ گئے۔ 2اگست 2022ء کی صبح وہ ریڈیوپاکستان لاہور کے مسالمے میں شریک تھے، سلام پڑھتے ہوئے انہیں دل کادورہ پڑا اورانہوں نے آنکھیں موندھ لیں،جو دوست اس محفل میں موجودتھے ان میں ایک نام راجا نیئر کابھی ہے۔مسالمے کے شرکاء قائم نقوی کو ہسپتال لے گئے اور دوگھنٹے کے بعد نقوی صاحب سب دوستوں کو ہمیشہ کے لیے جدائی کازخم دے گئے۔اختر شمار ان دنوں خود تیاری کے مراحل میں تھے اور اپنی علالت کوبھی دوستوں سے چھپائے بیٹھے تھے، انہیں تو شاید خبر بھی نہ ہوسکی کہ ان کے دوست قائم نقوی اب اس جہان میں نہیں رہے۔ آٹھ اگست کواختر شمار بھی قائم نقوی کے پاس چلے گئے۔ اختر شمار اور قائم نقوی کی جدائی پر میرے ساتھ تعزیت کرنے والے لاہور کے دوستوں میں صرف راجا نیئر ہی شامل تھے اور قائم نقوی کے لیے یہ کالم بھی میں راجا نیئر کے اصرار پرہی تحریرکررہاہوں کہ راجا نیئر جیسے دوست تعلق کو صرف زندگی میں ہی نہیں دوستوں کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی نبھانا جانتے ہیں۔
قائم نقوی کاآبائی علاقہ علی پور ضلع مظفر گڑھ تھا لیکن انہوں نے اپنی ساری زندگی لاہور میں بسر کی، ان کے والد علامہ منظور حسین نقوی معروف عالم دین تھے اور ان کی کتاب ”تحفۃ العوام“ مذہبی حلقوں میں بہت مقبول ہے۔یہ کتاب”بہشتی زیور“کی طرح بچیوں کوجہیز میں بھی دی جاتی ہے۔قائم نقوی کو قلم اورکتاب سے محبت اپنے والد کی وساطت سے ورثے میں ملی اور پھرانہوں نے اس وراثت کو سنبھال کررکھا۔نقوی صاحب کی ماہ نو کے ساتھ طویل وابستگی تھی، محکمہ اطلاعات کے زیراہتمام لاہور سے شائع ہونے والا یہ ادبی جریدہ اگرچہ اب ماضی کاحصہ بن چکا ہے لیکن اسے کشور ناہید اور قائم نقوی جیسے مدیروں نے جس بلندی پر پہنچایا وہ ادبی جرائد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ماہ نو کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شائع ہونے والی تخلیقات کا معاوضہ بھی دیاجاتاتھا، کسی کی غزل شائع ہوتی تو دوسوروپے کا منی آرڈر اس کے گھر کے پتے پر موصول ہوجاتاتھا،1980ء کے عشرے میں یہ کتنی خطیررقم تھی اس کاآپ خود اندازہ کرسکتے ہیں،اسی طرح نثری تخلیقات کی اشاعت پربھی پانچ سوروپے کا منی آرڈر مصنف کوارسال کیا جاتا تھا، ایسے منفعت بخش عہدوں پرفائز رہنے والے عموماً خود کومافوق الفطرت سمجھنے لگتے ہیں لیکن ماہ نو کی ادارت کے دوران قائم نقوی کی عاجزی اورانکساربدستورقائم رہا انہوں نے اس عہدے کے ساتھ بھی انصاف کیا اوراقرباء پروری کی بجائے معیارپرتوجہ دی، اس زمانے میں جس باقاعدگی کے ساتھ ماہ نو شائع ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ لاہور میں حلقہ ارباب ذوق کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ قائم نقوی کے شعری مجموعوں میں ”زاد ہجر“، ”نطق“ اور ”بیلے رمزاں دے“ قابل ذکر ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے نمود کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی شائع کیا۔ مجھ سمیت تمام دوستوں سے ان کی تخلیقات منگوائیں لیکن نام و نمود سے بے نیاز قائم نقوی ”نمود“ کو بھلا کیسے کامیاب بناسکتے تھے۔قائم نقوی ایک درویش صفت انسان کے طورپر جانے جاتے تھے ، ایک ایسی ہستی جو لوگوں میں خیر تقسیم کرتی تھی، ایک ایسا دوست جو سب کے لیے آسانیاں پیدا کرتاتھا۔ قائم نقوی نے بہت متحرک زندگی گزاری، ان کا نام لاہور کے ادبی حلقوں میں احترام کے ساتھ لیا جاتاتھا، آج وہ ہم میں موجودنہیں لیکن ان کی دوستی کی مہک ہمیشہ ہمارے دلوں میں موجودرہے گی۔قائم نقوی دوستی اورتعلق کاجورشتہ قائم کرگئے اسے کبھی زوال نہیں آئے گا۔ کالم کااختتام انہی کے دو اشعارپر کرتا ہوں جن میں ان کی زندگی کا عکس موجودہے۔
وہ اپنا بوجھ ہمارے سروں پہ چھوڑ گئے
معاملے تھے دلوں کے دلوں پہ چھوڑ گئے
ہمارا قتل ہوا دفتروں کے کربل میں
ہم ا پنے نقش فقط فائلوں میں چھوڑ گئے
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )
فیس بک کمینٹ

