یوں تو کسی شعبہ میں بھی حق گوئی کا رواج نہیں ہے تاہم کوئی اگر شعبہ صحافت سے منسلک ہو اور ساتھ ساتھ مشق سخن بھی جاری رکھے ہوئے ہو تو اکابرین صحافت و ادب کے بارے میں سچ بولنا مزید مشکل ہو جاتا ہے ۔ مگر داد دیجیے ، رضی الدین رضی کو ، جنہوں نے بیک وقت اپنے صحافتی و ادبی اکابرین کے قول و فعل کے تضاد کو اپنے قلم کی زینت بنایا ۔ وہ تو بھلا ہو انہوں نے فرضی نام سے کالم لکھے ورنہ تو 80 کی دہائی میں شہر اولیاء میں موجود مومن دکھائی دینے والے صحافتی و ادبی بہروپیے ان کا جینا دو بھر کر دیتے ۔
بات کو مختصر کرتے ہوئے ان کی نئی کتاب کی طرف بڑھتے ہیں ۔ ۔ "کالم ہوتل بابا کے” شاعرانہ نثر میں رنگی اس کتاب میں شہر اولیاء کی ادبی تاریخ کو اصل حوالہ جات کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے ،” اصل حوالہ جات“ سے مراد واقعات کو حقیقی انداز میں تحریر کرنا لیا جائے ۔ رضی الدین رضی چاہتے تو وہ اپنے کالموں کی اس کتاب میں تلخ باتوں کو شیریں جملوں میں تبدیل کر کے ہر جگہ سے ستائش حاصل کرتے مگر انہوں نے اپنے قلم سے بددیانتی نہیں کی ، شاید یہی ان کا طرۂ امتیاز ہے جو انہیں دیگر ہم عصروں سے حقیقی انداز میں ممتاز کرتا ہے ۔ ہوتل بابا کے ہر کالم میں آپ کو کاٹ دار جملے مل جائیں گے ، پہلی نظر میں تو آپ ان جملوں کو مزاح کے طور پر لیں گے تاہم بعد میں انہی جملوں میں قید طنز سے ایسے ایسے راز افشا ہوں گے کہ آپ نہ صرف رضی الدین رضی کی نثری صلاحیتوں کے قائل ہو جائیں گے بلکہ ان کی حق گوئی پر بھی ایمان لانا پڑے گا ۔
آخر میں ان کالموں سے کچھ جملے قارئین کی نذر کر رہا ہوں تاکہ آپ بھی اس کیفیت کا لطف لیں جس سے میں اس کتاب کو پڑھنے کے دوران کئی بار سرشار ہوا ہوں ۔امید ہے کہ آپ بھی رضی الدین رضی کی شاعری کی طرح ان کی نثر کے بھی دیوانے ہو جائیں گے ، اب مزید کسی تمہید کےبغیر "ہوتل بابا” کے کچھ نثری مصرعے ملاحظہ فرمائیں ۔
"اردو اکادمی دراصل اصیل مرغوں کا آشیانہ ہے -”
"جشنِ حزیں تو دھوم دھام سے منایا جانا چاہیے -”
"امین صاحب نے پہلے تو چھوٹے قد کی صنف ہائیکو ایجاد کی تھی – ”
"جب تک یہ رس گلے ختم نہیں ہوتے ڈاکٹر محمد امین ہی ہائیکو کے بانی ہیں -”
"طائرِ لاہوتی گواہ ہیں کہ حق ملکیت کا دعویٰ تو آج کل کوئی اپنی بیوی پر نہیں کر سکتا ، بے چاری غزل کیا چیز ہے ؟”
"واقعی شاعری بھی بہت پینڈا کراتی ہے -”
"رفعت کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ مصرعہ سنانے کے بعد اس کا اردو یا پنجابی ترجمہ بھی سناتا ہے ، اس کے بعد کہتا ہے ‘ہن تاں سمجھ آ گئی ہوسی’ (اب تو سمجھ آ گئی ہو گی) -”
"ہمیں سحر صاحب پر بہت ترس آیا ، دو روز پہلے حج سے واپس آئے اور آتے ہی جھوٹ بولنا پڑ گیا یعنی مناظر حسین نظر کو برصغیر کا نامور شاعر قرار دینا پڑ گیا -”
"جی ہاں شریف آدمی تھے تو پکڑے گئے ناں ، بدمعاش ہوتے تو فرار ہو چکے ہوتے -”
"بولتے تو پہلے بھی تھے مگر اب اردو اکادمی میں صحیح معنوں میں الو بولنے لگے ہیں -”
آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ رضی الدین رضی کی کتاب "کالم ہوتل بابا کے” ملتان کے 36 سال پرانے "ادبی منظر نامے” کے ساتھ ساتھ "ادبی خبرنامہ” بھی ہے ، جس میں ادبی افق کے اکثر ستاروں کی نہ صرف چالوں کا ذکر ہے بلکہ "بظاہر اونچے نظر آنے والے” ستاروں کی مستعار لی گئی روشنیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔

