اس سال کے آغاز میں رضی الدین رضی نے سال گزشتہ میں انتقال کرنے والوں کا جائزہ لکھا تو اس جائزے میں گزشتہ سال رمضان المبارک میں انتقال کر جانے والی شاعرہ، افسانہ نگار اور نقاد ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کا نام دیکھ کر یادوں کا ایک ایسا دبستان کھل گیا کہ درجنوں واقعات نظروں کے سامنے آگئے۔ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کی ادب کے میدان میں بطور شاعرہ کے تب ہوئ جب مظفر محمد علی نے جنگ پبلشرز سے ان کی پہلی کتاب مرے پر نہ باندھو شائع کی۔کتاب شائع ہوتے ہی ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کی شہرت آسمان پر پہنچ گئی۔بظاہر اس کا نام تمام بڑے ادبی حلقوں میں پہنچ گیا۔میری ناقص رائے میں یہی سے ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کا زوال شروع ہو گیا۔
بقول رضی الدین رضی
لوگ اسے مغرور بھی کہتے تھے اور اس سے خوفزدہ بھی رہتے تھے ۔ لیکن ڈاکٹر غزالہ خاکوانی بنیادی طور پر ایک معصوم لڑکی تھی ۔ جو بہت بے ساختگی کے ساتھ بھری محفل میںکسی سے کوئی بھی سوال کر دیتی تھی ۔ اور لوگوں کو خوف ا س لیے آتا تھا کہ اس کے سوالوں اور جملوں سے معززین کا پول کھل جاتا تھا ۔کئی برس پہلے اس نے ایک صحافی سے بہت معصومیت کے ساتھ ایک محفل میں یہ پوچھ لیا تھا کہ آج اپنی بیگم کی موجودگی میں تم مجھ سے بات کرتے ہوئے گھبرا کیوں رہے ہوعام حالات میں تو بہت بے تکلف ہو تے ہو ؟
غزالہ خاکوانی کی زندگی میں میں دکھ زیادہ جبکہ سکھ کم رہے ۔ یہ دکھ کم بھی ہو سکتے تھے۔آگر وہ شادی کر لیتی۔اس نے شادی کیوں نہ کی؟ یا اس کی شادی کیوں نہ ہو سکی؟ایک طرف خاندانی جاہ و حشم ،دوسری جانب اعلی تعلیم یافتہ اور تیسرا بطور شاعرہ کے اس کی ملک گیر شہرت۔ ان تمام وجوہات نے اس کے آئیڈیل کو آسمان تک پہنچا دیا۔جہاں سے اس کی زمین پر واپسی نہ ہو سکی۔ کہ غزالہ خاکوانی کو بہت کم عمری میں شہرت مل گئی ۔وہ خوبصورت بھی تھی اور ذہین بھی ۔ ملتان کے روایتی جاگیردار خاندان سے تعلق رکھنے والی غزالہ خاکوانی جرات کے ساتھ دو ٹوک بات کرتی تھی ۔ کسی بھی محفل میں جب وہ بلند آواز سے بات کرتی تو سب اس کی جانب متوجہ ہو جاتے تھے ۔ لیکن اسے کسی کی پروا ہی کب ہوتی تھی۔ اس کی گفتگو سے کس پر کیا قیامت گزر رہی ہے۔ وہ شان بے نیازی سے اپنی گفتگو جاری رکھتی تھی۔
اس کا دبنگ اور خود سر رویہ اس کے ہم عصر اور سینئرز کو بھی پریشان کرتا تھا ۔
1990 کے عشرے میں ”مون ڈائجسٹ“ کے مدیر ادیب جاودانی کو انٹرویو دیتے ہوئے غزالہ خاکوانی نے اس زمانے کی ادبی اشرافیہ کے بارے میں کھلی باتیں کیں ۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے میرے عاشقوں نے بہت نقصان پہنچایا ۔ بات یہیں تک رہتی تو شاید اتنا رد عمل بھی سامنے نہ آتا لیکن غزالہ نے ان عاشقوں کے نام بھی بتا دیے ۔
1986 میںغزالہ کی کتاب ” مرے پر نہ باندھو “ کی تعارفی تقریب ہوئی تو صدارت کے لیے اس وقت کے صوبائی وزیر چوہدری عبدالغفور ملتان آئے انہوں نے محفل میںڈاکٹر غزالہ کے والد یوسف خاکوانی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ اس کی دونوں کتابوں کی اشاعت میں انہوں نے بطور وزیر اپنا کردار ادا کیا تھا ۔ تیسری کتاب "در تو کھولئے "میں نے شائع کی۔تو اس کتاب کی اشاعت پر ایک مکمل کالم کبھی پھر سہی۔غزالہ خاکوانی کا اصل نام غزالہ تبسم تھا وہ ملتان میں پیدا ہوئیں اور اسی شہر سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ ایف ایس سی کے بعد انہوں نے قائد اعظم میڈیکل کالج بہاول پور سے ایم بی بی ایس کیا اور پھر ہاؤس جاب کے لیے لاہور چلی گئیں ۔لاہور سے واپسی کے بعد انہوں نے نشتر ہسپتال کے فیملی وارڈ میںرجسٹرار کی حیثیت سے کام کیا۔لیکن بیماری کی وجہ سے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لی۔ڈاکٹر غزالہ خاکوانی طویل عرصہ ذیابیطس کا شکار رہیں ۔ ان کے لیے چلنا پھرنا بھی دشوار ہو گیا تھا ۔ چوبیس فروری 2022کو انہوں نے آخری بار ملتان کی کسی تقریب میں شرکت کی ۔یہ تقریب ادبی بیٹھک میں ڈاکٹر قاضی عابد کی یاد میں منعقد ہوئی تھی ۔ تقریب کے بعد وہ لاٹھی کے سہارے آرٹس کونسل سے باہر آئیں ۔ ایک خوبصورت لڑکی کو آخری بار اس حال میں دیکھنا سب کے لیے بہت تکلیف دہ تھا ۔
1994 میں ڈاکٹر غزالہ خاکوانی نے اپنے والد کے ذریعے نوابزادہ نصراﷲ خان سے رابطہ کیا اور ان کو اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب کی صدارت کی دعوت دے ڈالی۔ اُس تقریب کا انتظام مرحوم پروفیسر خالد پرویز نے ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کے تعاون سے ملتان کے سب سے بڑے ہوٹل میں کیا۔ ملتان کے تمام بڑے ادیب اور شاعر غزالہ خاکوانی کی شاعری اور شخصیت پر اظہارِ خیال کرنے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ تقریب کے دعوتی کارڈز شہر میں تقسیم ہونا شروع ہوا تو ہم دوستوں نے سوچا کہ نوابزادہ نصراﷲ خان ملتان تو آ رہے ہیں کیوں نہ اُس دن ہم بھی انھیں اپنی کسی تقریب میں مدعو کریں۔ سبطین رضا لودھی سے تقریب کا خاکہ سوچنے کو کہا تو اس نے کہا ”مرشد! فکر نہ کر، کوئی نہ کوئی فنکشن اساں وی کر گھنسوں۔“
دو گھنٹے بعد اس نے فون پر بتایا کہ میرے ایک دوست کی بیٹی نے بہت سی پینٹنگز بنائی ہیں اور وہ اُن پینٹنگز کی نمائش کرنا چاہتی ہیں۔ مصورہ کا نام اُس نے فرحت طفیل بتایا ۔سبطین نے یہ بھی بتا کر نہال کر دیا کہ مصورہ کے والد ہوٹل کا خرچہ بھی برداشت کریں گے یعنی شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کا خرچہ۔ اب مسئلہ یہ آن پڑا کہ نوابزادہ نصراﷲ خان نے رابطہ کون کرے؟ اس سلسلے میں دوستوں نے بڑا صائب مشورہ دیا کہ چیئرمین پاکستان ٹوارزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پیر ریاض حسین قریشی سے مَیں رابطہ کروں۔ وہ اپنے دوست نوابزادہ نصراﷲ خان سے فرحت طفیل کی بنائی ہوئی تصاویر کی نمائش کا افتتاح کروائیں۔ مَیں نے پیر صاحب سے بات کی، نوابزادہ صاحب سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر تقریب میں آنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ ہم نے نوابزادہ صاحب کے سیکرٹری کو وہی وقت لکھوایا جو غزالہ خاکوانی کی تقریب کا تھا۔ جونہی فرحت طفیل کی تقریب کا کارڈ شائع ہو کر شہر میں تقسیم ہوا تو غزالہ خاکوانی کا غصے سے بھرا ہوا فون آ گیا کہ تم نے اچھا نہیں کیا۔ مَیں دیکھتی ہوں کہ نوابزادہ نصراﷲ خان کس طرح تمہارے پروگرام میں آتے ہیں۔
یہ سنتے ہی ہم نے پیر صاحب کو ایک مرتبہ پھر یاددہانی کرائی تو انہوں نے کچھ دیر بعد نوابزادہ صاحب کی آمد کا کنفرم کر دیا۔ تقریب کے دن جیسے ہی نوابزادہ صاحب اپنے ہوٹر والے لاو لشکر کے ساتھ ہوٹل پہنچے تو پروگرام کے تحت ہم نے ہالی ڈے(اب رمادا) باہر انھیں ریسیو کیا۔ اب انہیں کیا معلوم کہ ہم غزالہ خاکوانی کی طرف سے اُن کا استقبال کر رہے ہیں یا فرحت طفیل کی طرف سے۔ ریاض قریشی مرحوم نوابزادہ نصراﷲ خان کو اُس ہال میں لے گئے جہاں پر فرحت طفیل کی پینٹنگز آویزاں تھیں۔ فیتہ تیار تھا۔ نوابزادہ صاحب نے پیرانہ سالی کی وجہ سے کانپتے ہاتھوں سے نمائش کا افتتاح کیا۔ مَیں ڈائس پر گیا، سٹیج پر نوابزادہ نصراﷲ خان، پیر ریاض حسین قریشی اور فرحت طفیل کو بٹھایا۔ ابھی تلاوت کے لیے قاری کو سٹیج پر بلایا ہی تھا کہ نوابزادہ نصراﷲ خان نے مجھ سے پوچھا ”بھئی یہ ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کا فنکشن کہاں پر ہے؟“ اس سے پہلے کہ مَیں اُن کے اس سوال کا جواب دیتا ہال کے داخلی دروازے پر ڈاکٹر غزالہ خاکوانی اور خالد پرویز کھڑے تھے اور کسی بزرگ کو اشارے سے بتا رہے تھے نوابزادہ صاحب غلطی سے اس تقریب میں چلے گئے ہیں۔ وہ بزرگ تیزی سے سٹیج کی طرف بڑھا، نوابزادہ صاحب کے کان میں سرگوشی کی، وہ بات سنتے ہی نوابزادہ نصراﷲ خان تلاوت کے دوران ہی تقریب سے کھڑے ہو گئے اور پیر ریاض حسین قریشی سے کہنے لگے مَیں معذرت چاہتا ہوں کیونکہ مجھے غزالہ خاکوانی کے پروگرام میں جانا ہے جو میرے دوست کی بیٹی ہے اور یوں مرحوم نوابزادہ نصراﷲ خان خطاب کیے بغیر اُس تقریب سے چلے گئے لیکن سبطین رضا لودھی میلہ لوٹ چکا تھا۔ نمائش کا فیتہ نوابزادہ نصراﷲ خان اپنے دستِ مبارک سے کاٹ چکے تھے۔ سٹیج پر بیٹھے ہوئے ملتان کے تمام پریس فوٹوگرافر تصاویر کھینچ کر اپنا کام مکمل کر چکے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن بھی کوریج کر کے اپنا کیمرہ اور لائٹس سمیٹ کر واپس جا رہا تھا اور ہم اخبارات کو خبر جاری کرنے کے لیے بیٹھ چکے تھے۔ اگلے دن کے جب اخبارات شائع ہوئے تو اس میں غزالہ خاکوانی کی تقریب کی نہ تو خبر تھی اور نہ ہی تصویر لیکن مصوری کی نمائش کی تصویر اور مصوری کے بارے میں نوابزادہ نصراﷲ خان کے نادر خیالات اخبارات میں نمایاں طور پر شائع کیے کہ وہ بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی کی وجہ سے اخبارات میں مرکزی جگہ پالیتے تھے۔ اس طرح کے بےشمار واقعات ہماری یادوں کی پوٹلی میں موجود ہیں۔جو ہم گاہے گاہے اپنے پڑھنے والوں کے سامنے لاتے رہیں گے۔فی الحال تو یہ بتانا مقصود ہے کہ ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کی موت طبعی نہیں بلکہ اس کو مختلف لوگوں نے آہستہ آہستہ موت کے قریب کیا۔اگر ہماری بات پر آپ کو یقین نہ آئے تو نامور شاعر نوازش علی ندیم سے دریافت کر لیں جو ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کو ایک عرصے تک اصلاح دیتے رہے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

