پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 1956میں بنایا گیا۔1957میں یہ ادارہ باقا عدہ انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا رُکن بنا اور بنیادی مقصد یہ تھا کہ نیو کلیئرانرجی /اٹامک انرجی کو انسانی فلاح و بہبود اور امن کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
نے اپنا پہلا باقاعدہ ہسپتال 1960میں کراچی میں بنایا جس کا نام ”جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر“ ہے۔اُس کے بعد سے لے کر آج تک 19باقاعدہ کینسر ہسپتال (AECHs)پورے پاکستان میں کینسر کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔PAECکے زیر اہتمام یہ کینسر سینٹر اسلام آباد، کراچی، لاہور،گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان،بہاولپور، لاڑکانہ، جامشورو، نواب شاہ، کوئٹہ، پشاور، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آبااور گلگت اور سوات میں موجود ہیں۔ PAECکینسر آگاہی مہم کے حوالے سے بھی کام کر رہا ہے۔اور اس ضمن میں سیمینار، واک،ریڈیو،ٹی وی اور اخبارات میں یہ آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔
مینار کینسر ہسپتال (MINAR) بھی اٹامک انرجی کمیشن ہسپتالوں میں ایک بڑا ہسپتال ہے جو نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نصف سے زیادہ کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ مینار کینسر ہسپتال میں کینسر کی جلد تشخیص کے لئے میموگرافی Mammography)) الٹرا ساؤنڈ، FNAC، بایؤپسی، CT Scan (سی ٹی سکین)، MRI، SPECT-CT، کارڈیک سکین، گردوں کا سکین، ہڈیوں کا سکین، تھائی رائیڈ غدود کا سکین، اور خون کے مختلف ٹیسٹوں کی سہولت موجود ہے جو کہ کینسر کی تشخیص کے حوالے سے اہم ہے۔اس کے علاوہ مینار کینسر ہسپتال میں کینسر کا شاعوں کے ذریعے علاج کرنے کے لئے جدید ترین LINACمشین کی سہولت بھی موجود ہے۔اسکے علاوہ جدید ترین بریکی تھراپی (Brachytherapy) مشین کی سہولت بھی موجود ہے جو خواتین کے مخصوص اعضاء کے کینسر کے علاج کے لئے بہت ضروری ہے۔
مینار ہسپتال میں بذریعہ کیموتھراپی اور مالیکیولر / ٹارگٹڈ (Molecular/ Targeted) تھراپی سے کینسر کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے یہاں پر ماہر امراض کینسر اور ماہر سٹاف بھی موجود ہے۔ مینار ہسپتال میں مریضوں کے داخلے کے لئے وارڈاور پرائیوٹ کمروں کی سہولت موجود ے۔مینار کینسر ہسپتال میں صحت سہولت کارڈ کی فراہمی کی وجہ سے اس بات کو ممکن بنایا گیا ہے کہ100 فیصد کینسر کے مریضوں کا علاج مفت کیا جائے اس کے علاوہ مینار ویلفیئر سوسائٹی اور بیت المال بھی مریضوں کے مفت علاج کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔بلا شبہ جنوبی پنجاب کی تاریخ میں کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے ”مینار کینسر ہسپتال“ایک سنگ میل ہے۔
ہر سال 4فروری کو ورلڈ کینسر ڈے یعنی سرطان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔2022سے 2024تک اس دن کو ایک نام دیا گیا ہے جو کہ ہے: "Close the Care Gap” یعنی کینسر کے علاج معالجے کے حوالے سے سہولیات اور علاج کے فرق کو ختم کیا جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی تفریق کے بغیر ہر قسم کے کینسر کے علاج کو مریضوں کے لئے آسان بنایا جائے تاکی اس بیماری کو شکست دی جا سکے۔
ایک اندازے کے مطابق (Globocan) پاکستان میں گزشتہ سال کینسر کے تقریباً 17لاکھ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر 5میں سے ایک مرد اور ہر 6میں سے ایک عورت کو زندگی کے کسی حصےّ میں کینسر ہو سکتا ہے۔پاکستان میں نئے Casesمیں تقریباً88,000 مردوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور تقریباً 90,000عورتوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ان میں چھاتی کا کینسر سر فہرست رہا۔ 2022 کے اندازے کے مطابق مینار کینسر ہسپتال میں تقریبا ساڑھے تین ہزار سے زائد مریض دیکھے گئے ہیں جو کہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا تھے جن میں تقریبا ایک ہزار چھاتی کے کینسر کے مریض دیکھے گئے اور دیگر کینسرز میں منہ ناک گلے کا کینسر، آنتوں کا کینسر، خون کا کینسر، جگر کا کینسر، معدے اور خوراک کی نالی کا کینسر، خواتین کے مخصوص اعضا کا کینسر، پھیپھڑوں کا کینسر، مثانے اور مردانہ غدود کا کینسر سرفہرست رہے
اس موذی مرض کی وجوہات میں زیادہ تر تمباکو نوشی، شراب نوشی، ناقص خوراک، موٹاپا اور Hereditary Cancer
یعنی موروثی سرطان شامل ہیں۔اس کے علاوہ ہیپا ٹا ئٹس Bاور C اہم وجوہا ت ہیں۔
کینسر کے مرض کو اگر ابتدائی مراحل میں تشخیص کر لیا جائے تو اس کے علاج کے ذریعے سے اچھے اور بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں
اور ہم اس بیماری کو شکست دے سکتے ہیں عام طور پر کچھ علامات ہیں جن پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے جیسے بلاوجہ تھکاوٹ یا سستی،چھاتی
میں گلٹی یا نپل سے خون آنا،بھوک کاکم لگنا، مستقل کھانسی رہنا یا بلغم میں کھانسی آنا، جسِم کے کسی بھی حصے میں گلٹی کا نکلنا یا موجودہ گِلٹی کا تیزی
سے بڑھ جانا، پاخانے یا پیشاپ سے خون آنا، وزن میں کمی ہونا شامل ہیں۔
اگر درج بالا علامات ظاہر ہوں تو اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں، لیکن ایک بات ہمیشہ یا د رکھنی ہے: گلٹی /پھوڑے /زخم
میں درد کا ہونا کینسر کی علامات نہیں ہے۔
پرہیز علاج سے بہتر ہے۔
کینسر کے حوالے سے یہ قول بہت اہم ہے بہت سے ایسے کینسر موجود ہیں جن کے لیے Screening Programموجود ہیں یعنی کچھ ایسے Test موجود ہیں جو کینسر کی موجودگی کے حوالے سے باخبر کر سکتے ہیں۔ان Cancersمیں چھاتی کا سرطان،
آنتوں کا سرطان، پھیپھڑوں کا سرطان، مردانہ غدودProstate/کاسرطان، رحم کے نچلے حصے کا سرطان اور جگر کا سرطان شامل ہیں۔
ایسے Screening Programمیں شامل ہونے کے لیے ما ہر امراض کینسر سے رابطہ کریں۔کینسر سے بچاؤ کے مندرجہ ذیل
طریقے ہیں۔
موٹاپا کنٹرول کریں۔روزانہ سیر اور ورزش کریں (کم از کم 45منٹ روزانہ) ۔ اچھی خوراک جِن میں پھلوں، سبزیوں اور دالوں کی خاصی مقدارموجود ہوں اور زیادہ فائبر والی خوراک موزوں ترین ہے مثلاًگندم۔گوشت کا استعمال کم سے کم کریں۔ سگریٹ نوشی سے پرہیز، شیشہ سے پرہیز، پان،بیڑا اور نسوار سے پرہیز کریں۔ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔انجکشن لگوانے سے پہلے ہمیشہ سیل بند سرنج استعمال کریں۔ خون لگوانے سے پہلے ہیپا ٹا ئٹس کا ٹیسٹ ضرورکروائیں۔کھانے پینے میں صفائی ستھرائی اور بازار کے کھُلے کھانے اور گندے برتنوں میں کھانے پینے سے پرہیزکریں ۔سورج کی روشنی میں نکلنے کے لیے مناسب کپڑوں کا استعمال کریں۔بچیوں کی شادی مناسب عُمر میں کریں۔بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ کریں۔بچوں کو اپنا دودھ پلائیں۔جنسی تعلقات میں صِرف شریک حیات تک محدودرکھیں۔اگر خاندان میں (مثلاًقریبی رشتہ داروں میں)کوئی کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہو تو باقاعدگی سے اپنے ڈاکٹر سے معائینہ کروائیں
ہم سب کو چاہیے کہ کینسر کی روک تھام کے لیے اپنا اپنا حصہّ ضرور ڈالیں تاکہ اس مرض کے موذی اثرات سے خود کو بچا سکیں۔
سکول، کالج اور یونیو رسٹیوں میں آگاہی پروگرام کروانے سے اپنی آنے والی نسلوں کو اس مرض سے بچا سکتے ہیں۔ٹی وی، ریڈیواور اخبار
کے ذریعے سے عوام الناس میں شعورپیدا کرنے سے بھی اس مر ض میں کافی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں مختلف شہروں میں کینسر کے علاج کے لیے ہسپتال بنائے گئے ہیں لیکن جس تیزی کے ساتھ یہ مرض بڑھ رہا ہے اس
سلسلے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ بد قسمتی سے اس مرضکاعلاج مہنگا ہے۔کینسر کے علاج میں سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتال اپنا اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ملتان میں اس حوالے سے مینار کینسر ہسپتال اور نشتر ہسپتال ملتا ن کا آنکولوجی وارڈ یہ خدمات سر انجام
دے رہے ہیں اور بہاولپورمیں BINOہسپتال اور وکٹوریہ ہسپتال کا شعبہ سرطان اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔
لیکن جس تیزی کے ساتھ جنوبی پنجاب میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے یہ سہولیات ناکافی ہیں۔اس لیے سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کا کینسر کے علاج اور روک تھام کے لیے عملی میدان میں آنا ضروری ہے۔
مینار کینسر ہسپتال میں کینسر کے Screening ٹیسٹوں کی سہولت موجود ہے۔ جن میں چھاتی کے کینسر کے لئے الٹراساؤ نڈ،
میموگرافی، FNACاور بائیو پسی(Biopsy)شامل ہیں دیگر Cancers کے حوالے سے Tumor Markers کی سہولت
بھی مہیا ہے۔تاکہ عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ Cancer Screeningاور کینسر کے بارے میں معلومات دی جائیں۔
کینسر کی روک تھام کے لئے اور کینسر کے علاج کی سہولیات کو باآسانی فراہم کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اعداد شمار ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ آئندہ 25سالوں میں دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔

