Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جون 3, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی
  • لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا
  • فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار
  • امن معاہدہ تو تیار ، صرف سرنامے پر ’اختلاف‘ ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • تم جیو ہزاروں سال : پاکستان نے ہزارویں میچ میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرا دیا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»سید مجاہد علی کا تجزیہ:عمران خان کی گرفتاری، ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت
تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ:عمران خان کی گرفتاری، ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت

ایڈیٹرمئی 10, 20231 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

جمہوری نظام میں کسی بھی سیاسی لیڈر کی گرفتاری کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایسی کسی گرفتاری سے کسی لیڈر کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کو بھی ریاستی جبر ہی کہا جائے گا خواہ اس کے لئے کوئی بھی عذر تراشنے کی کوشش کرلی جائے۔ البتہ یہ اصول بیان کرنے کے بعد یہ کہنا بھی بے حد اہم ہے کہ ملک کو موجودہ حالت تک عمران خان سمیت سیاست دانوں اور پارٹیوں نے خود پہنچایا ہے۔ جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ملک میں جمہوری روایات پامال ہیں تو اس کے ذمہ دار سیاست دان ہیں جو عوامی فلاح کی بجائے محض حصول اقتدار کے لئے سیاست کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیب کے وارنٹ پر رینجرز کے ہاتھوں عمران خان کی گرفتاری ایک ایسے وقت دیکھنے میں آئی ہے جب فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک روز قبل آئی ایس آئی کے ایک میجر جنرل پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا تھا اور قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم عمران خان نے روایتی جوش سے آج پاک فوج کے وضاحت نما انتباہ کو مسترد کیا۔ انہوں نے ’آئی ایس پی آر صاحب‘ کہتے ہوئے بیان جاری کیا اور ایک میجر جنرل پر اپنے قتل کی سازش کرنے کا الزام کا سلسلہ جاری رکھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایس پی آر صاحب میری بات غور سے سنو! عزت کسی ادارے تک محدود نہیں ہوتی۔ بلکہ ہر شہری کو عزت ملنی چاہیے‘ ۔
آج بھلے نیب کے وارنٹ پر رینجرز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے عمران خان کو گرفتار کیا ہو لیکن ملک کے بہت کم لوگ ہوں گے جو اس کی وجہ تسمیہ سے آگاہ نہ ہوں۔ اس کا ہلکا سا نمونہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے رد عمل میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس وقوعہ کی خبر ملتے ہی اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو پندرہ منٹ کے اندر پیش ہو کر وضاحت کرنے کا حکم دیا۔ یوں لگتا تھا کہ چند ہی منٹ میں ہائی کورٹ عمران خان کو پیش کرنے اور پھر ان کی رہائی کا حکم جاری کردے گی۔
اس سے پہلے تسلسل سے یہی دیکھنے میں آتا رہا تھا کہ عدالتیں عمران خان کو ریلیف دینے کے لئے اپنے مقررہ طریقہ کار اور ضوابط کو نظر انداز کر کے سہولت بہم پہنچانے کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ آج کی گرفتاری نہ صرف عدالت کے احاطہ سے ہوئی تھی بلکہ عمران خان کو ایک ایسے وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے خلاف درج مقدمات کی ضمانت کے لئے ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے لئے آئے تھے۔ ان میں سے ایک مقدمہ اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے بارے میں بھی تھا۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی گرفتاری کے وقوعہ پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور چند گھنٹوں بعد گرفتاری کو جائز قرار دیتے ہوئے اس واقعہ پر رجسٹرار ہائی کورٹ کو ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیے۔
سول حکمرانی اور عوامی حاکمیت کے اصول کے تحت سیاسی عمل میں فوجی اداروں یا عدالتوں کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ فوج اس ملک میں 70 سے سیاست کرتی رہی ہے اور عدالتوں نے ہمیشہ غیر آئینی طور سے ملکی جمہوریت کو ریگولیٹ کرنے کے عمل میں فوج کے معاون کا کردار ادا کیا۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے کچھ پہلے فوج نے سیاست سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن عدالتوں کے متعدد ججوں نے سیاسی پسند کو قانونی عمل داری سے زیادہ اہم سمجھتے ہوئے ملکی سیاست میں براہ راست مداخلت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کی سب سے پہلی مثال تو تحریک عدم اعتماد کے خلاف سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت کارروائی تھی۔
یہ شق بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے چیف جسٹس کو از خود کارروائی کرنے کا اختیار دیتی ہے لیکن ملکی پارلیمنٹ کو خود اس ملک کے عوام چنتے ہیں اور ان کے نمائندے ہی قانون سازی یا آئین میں ترمیم یا رد و بدل کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس لئے قانون کے طالب علموں کے لئے یہ سوال جوب طلب رہے گا کہ کوئی عدالت کیوں کر کسی پارلیمانی کارروائی پر رد عمل ظاہر کر کے اس کے نتیجہ میں ہونے والے سیاسی فیصلوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ کسی عدالت کا یہ اقدام کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو، کسی مہذب جمہوری ملک کے عدالتی فیصلوں میں اس کی نظیر تلاش کرنا مشکل ہو گا۔ پی ڈی ایم کو چونکہ اس عدالتی کارروائی کا براہ راست فائدہ ہو رہا تھا، اس لئے اس کی طرف سے پارلیمنٹ کے کام میں اس براہ راست عدالتی مداخلت کا خیر مقدم کیا گیا۔ اور عمران خان نے احتجاج کے لئے امریکہ مخالف تحریک چلا کر سیاسی فائدہ سمیٹنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ ضروری ہی نہیں سمجھا کہ اس سوال پر عدالتی اختیار کو چیلنج کیا جاتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ آمنے سامنے ہیں اور عمران خان، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی حمایت میں ریلیاں نکالتے رہے ہیں۔
ملک میں فوج یا عدالتیں جیسے غیر منتخب ادارے اسی لئے مضبوط اور کسی حد تک خود سر ہیں کیوں کہ سیاست دان ملکی مسائل کو باہم معاونت و مواصلت سے حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان میں سیاست کرنے کا ایک ہی سنہری نسخہ تلاش کیا گیا ہے کہ اداروں کو ساتھ ملا کر حکومت حاصل کی جائے اور مخالفین کا عرصہ حیات تنگ کیا جائے۔ کل عمران خان نے فوج کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا اور ریاستی اداروں اور عدالتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کے علاوہ دیگر اپوزیشن لیڈروں کا ناطقہ بند کیا۔ اب شہباز شریف اینڈ کمپنی کو موقع ملا ہے تو وہ وہی ہتھکنڈا عمران خان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری اسی افسوسناک اور ناقابل قبول صورت حال کا نقطہ عروج ہے۔ جب تک سیاست دان یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ ایک دوسرے کو چور کہہ کر وہ کسی اور کو نہیں بلکہ انہی اداروں کو مضبوط کرتے ہیں جن پر مشکل وقت میں سیاسی انجینئرنگ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ عمران خان اس صورت حال کا شکار ہونے والے پہلے لیڈر نہیں ہیں۔ لیکن اگر وہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے اور عدالتی پشت پناہی کے زعم میں سیاسی مخالفین اور فوجی قیادت کے ساتھ یکساں طور سے دشمنی کا رشتہ استوار نہ کرتے تو شاید ملک کو موجودہ تشدد اور بے چینی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
ملک میں اسی وقت جمہوری عمل جاری و ساری ہو سکتا ہے اور بنیادی حقوق کی روایات مستحکم ہوں گی جب اداروں کو ان کی حدود میں رکھنے کے سوال پر تمام سیاست دان مل کر میثاق جمہوریت جیسا کوئی لائحہ عمل اختیار کریں اور سختی سے اس پر کاربند رہنے کا عزم کریں۔ اگر اپنی سیاسی کامیابی و اقتدار کے لئے موقع ملنے پر اداروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا چلن جاری رہے گا تو ملکی سیاست میں وہ ’ریڈ لائنز‘ موجود رہیں گی جنہیں عبور کرنے پر ممکنہ طور سے عمران خان گرفتار ہوئے ہیں اور فی الوقت انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ بھی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سیاست دانوں نے اپنے فائدے کے لئے اداروں کی اعانت قبول کر کے ان ریڈ لائنز کو عملی طور سے مقدس قانون کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔ پھر انہیں عبور کرنے سے گریز کرنا لازم ہے۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ جب فوج عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے نواز شریف کو نشانے پر لئے ہوئے تھی اور ہر دھاندلی سے تحریک انصاف کو کامیاب کروایا گیا تھا تو فوج صراط مستقیم پر تھی۔ اور جب یہ سہولت فراہم کرنے سے انکار کیا گیا تو اسے قتل کی سازش کرنے والوں کا گروہ کہا جائے۔ اور ایک اعلیٰ افسر کا نام لے کسی ثبوت و دلیل کے بغیر الزام تراشی کی جائے اور ملک میں بے چینی پیدا کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
عمران خان ایک مقبول لیڈر ہیں۔ گرفتاری سے ان کی مقبولیت میں کمی نہیں ہوگی بلکہ ان کے ساتھ ہمدردی میں اضافہ ہو گا لیکن اگر اس وقت تحریک انصاف کی قیادت نے ہوشمندی سے کام نہ لیا اور پارٹی کارکنوں کو اسی طرح توڑ پھوڑ کرنے اور جی ایچ کیو کے علاوہ کور کمانڈرز کے گھروں پر حملے کرنے پر اکسانے کی کوشش کی جاتی رہی تو عمران خان کی سیاست کے ساتھ ملک میں جمہوری عمل کو خواب بنتے دیر نہیں لگے گی۔ شاہ محمود قریشی جیسے لیڈروں کو اس موقع پر جذباتی بیان بازی کی بجائے ٹھوس اور جمہوری حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت تحریک انصاف کے علاوہ حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور حالات کو خراب کرنے کی بجائے انہیں درست کرنے کے لئے اقدامات کر نے چاہئیں۔
ملک میں سیاسی مکالمہ ہی موجودہ بحران کا واحد حل ہے۔ اسی سے تعطل بھی دور ہو گا، اداروں کو حدود میں رہنے کی ترغیب بھی دی جا سکے گی اور سیاسی پارٹیوں میں احترام کا رشتہ بھی استوار ہو سکے گا۔ لیکن اگر سیاست دان ایک دوسرے میں ’چور لٹیرے‘ تلاش کرتے رہے تو نہ جمہوریت بچے گی اور نہ اداروں سے اقتدار مانگنے والوں کو عزت و احترام ملے گا۔
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)جمہوری نظام میں کسی بھی سیاسی لیڈر کی گرفتاری کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایسی کسی گرفتاری سے کسی لیڈر کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کو بھی ریاستی جبر ہی کہا جائے گا خواہ اس کے لئے کوئی بھی عذر تراشنے کی کوشش کرلی جائے۔ البتہ یہ اصول بیان کرنے کے بعد یہ کہنا بھی بے حد اہم ہے کہ ملک کو موجودہ حالت تک عمران خان سمیت سیاست دانوں اور پارٹیوں نے خود پہنچایا ہے۔ جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ملک میں جمہوری روایات پامال ہیں تو اس کے ذمہ دار سیاست دان ہیں جو عوامی فلاح کی بجائے محض حصول اقتدار کے لئے سیاست کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیب کے وارنٹ پر رینجرز کے ہاتھوں عمران خان کی گرفتاری ایک ایسے وقت دیکھنے میں آئی ہے جب فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک روز قبل آئی ایس آئی کے ایک میجر جنرل پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا تھا اور قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم عمران خان نے روایتی جوش سے آج پاک فوج کے وضاحت نما انتباہ کو مسترد کیا۔ انہوں نے ’آئی ایس پی آر صاحب‘ کہتے ہوئے بیان جاری کیا اور ایک میجر جنرل پر اپنے قتل کی سازش کرنے کا الزام کا سلسلہ جاری رکھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایس پی آر صاحب میری بات غور سے سنو! عزت کسی ادارے تک محدود نہیں ہوتی۔ بلکہ ہر شہری کو عزت ملنی چاہیے‘ ۔
آج بھلے نیب کے وارنٹ پر رینجرز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے عمران خان کو گرفتار کیا ہو لیکن ملک کے بہت کم لوگ ہوں گے جو اس کی وجہ تسمیہ سے آگاہ نہ ہوں۔ اس کا ہلکا سا نمونہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے رد عمل میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس وقوعہ کی خبر ملتے ہی اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو پندرہ منٹ کے اندر پیش ہو کر وضاحت کرنے کا حکم دیا۔ یوں لگتا تھا کہ چند ہی منٹ میں ہائی کورٹ عمران خان کو پیش کرنے اور پھر ان کی رہائی کا حکم جاری کردے گی۔
اس سے پہلے تسلسل سے یہی دیکھنے میں آتا رہا تھا کہ عدالتیں عمران خان کو ریلیف دینے کے لئے اپنے مقررہ طریقہ کار اور ضوابط کو نظر انداز کر کے سہولت بہم پہنچانے کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ آج کی گرفتاری نہ صرف عدالت کے احاطہ سے ہوئی تھی بلکہ عمران خان کو ایک ایسے وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے خلاف درج مقدمات کی ضمانت کے لئے ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے لئے آئے تھے۔ ان میں سے ایک مقدمہ اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے بارے میں بھی تھا۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی گرفتاری کے وقوعہ پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور چند گھنٹوں بعد گرفتاری کو جائز قرار دیتے ہوئے اس واقعہ پر رجسٹرار ہائی کورٹ کو ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیے۔
سول حکمرانی اور عوامی حاکمیت کے اصول کے تحت سیاسی عمل میں فوجی اداروں یا عدالتوں کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ فوج اس ملک میں 70 سے سیاست کرتی رہی ہے اور عدالتوں نے ہمیشہ غیر آئینی طور سے ملکی جمہوریت کو ریگولیٹ کرنے کے عمل میں فوج کے معاون کا کردار ادا کیا۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے کچھ پہلے فوج نے سیاست سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن عدالتوں کے متعدد ججوں نے سیاسی پسند کو قانونی عمل داری سے زیادہ اہم سمجھتے ہوئے ملکی سیاست میں براہ راست مداخلت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کی سب سے پہلی مثال تو تحریک عدم اعتماد کے خلاف سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت کارروائی تھی۔
یہ شق بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے چیف جسٹس کو از خود کارروائی کرنے کا اختیار دیتی ہے لیکن ملکی پارلیمنٹ کو خود اس ملک کے عوام چنتے ہیں اور ان کے نمائندے ہی قانون سازی یا آئین میں ترمیم یا رد و بدل کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس لئے قانون کے طالب علموں کے لئے یہ سوال جوب طلب رہے گا کہ کوئی عدالت کیوں کر کسی پارلیمانی کارروائی پر رد عمل ظاہر کر کے اس کے نتیجہ میں ہونے والے سیاسی فیصلوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ کسی عدالت کا یہ اقدام کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو، کسی مہذب جمہوری ملک کے عدالتی فیصلوں میں اس کی نظیر تلاش کرنا مشکل ہو گا۔ پی ڈی ایم کو چونکہ اس عدالتی کارروائی کا براہ راست فائدہ ہو رہا تھا، اس لئے اس کی طرف سے پارلیمنٹ کے کام میں اس براہ راست عدالتی مداخلت کا خیر مقدم کیا گیا۔ اور عمران خان نے احتجاج کے لئے امریکہ مخالف تحریک چلا کر سیاسی فائدہ سمیٹنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ ضروری ہی نہیں سمجھا کہ اس سوال پر عدالتی اختیار کو چیلنج کیا جاتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ آمنے سامنے ہیں اور عمران خان، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی حمایت میں ریلیاں نکالتے رہے ہیں۔
ملک میں فوج یا عدالتیں جیسے غیر منتخب ادارے اسی لئے مضبوط اور کسی حد تک خود سر ہیں کیوں کہ سیاست دان ملکی مسائل کو باہم معاونت و مواصلت سے حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان میں سیاست کرنے کا ایک ہی سنہری نسخہ تلاش کیا گیا ہے کہ اداروں کو ساتھ ملا کر حکومت حاصل کی جائے اور مخالفین کا عرصہ حیات تنگ کیا جائے۔ کل عمران خان نے فوج کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا اور ریاستی اداروں اور عدالتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کے علاوہ دیگر اپوزیشن لیڈروں کا ناطقہ بند کیا۔ اب شہباز شریف اینڈ کمپنی کو موقع ملا ہے تو وہ وہی ہتھکنڈا عمران خان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری اسی افسوسناک اور ناقابل قبول صورت حال کا نقطہ عروج ہے۔ جب تک سیاست دان یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ ایک دوسرے کو چور کہہ کر وہ کسی اور کو نہیں بلکہ انہی اداروں کو مضبوط کرتے ہیں جن پر مشکل وقت میں سیاسی انجینئرنگ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ عمران خان اس صورت حال کا شکار ہونے والے پہلے لیڈر نہیں ہیں۔ لیکن اگر وہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے اور عدالتی پشت پناہی کے زعم میں سیاسی مخالفین اور فوجی قیادت کے ساتھ یکساں طور سے دشمنی کا رشتہ استوار نہ کرتے تو شاید ملک کو موجودہ تشدد اور بے چینی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
ملک میں اسی وقت جمہوری عمل جاری و ساری ہو سکتا ہے اور بنیادی حقوق کی روایات مستحکم ہوں گی جب اداروں کو ان کی حدود میں رکھنے کے سوال پر تمام سیاست دان مل کر میثاق جمہوریت جیسا کوئی لائحہ عمل اختیار کریں اور سختی سے اس پر کاربند رہنے کا عزم کریں۔ اگر اپنی سیاسی کامیابی و اقتدار کے لئے موقع ملنے پر اداروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا چلن جاری رہے گا تو ملکی سیاست میں وہ ’ریڈ لائنز‘ موجود رہیں گی جنہیں عبور کرنے پر ممکنہ طور سے عمران خان گرفتار ہوئے ہیں اور فی الوقت انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ بھی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سیاست دانوں نے اپنے فائدے کے لئے اداروں کی اعانت قبول کر کے ان ریڈ لائنز کو عملی طور سے مقدس قانون کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔ پھر انہیں عبور کرنے سے گریز کرنا لازم ہے۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ جب فوج عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے نواز شریف کو نشانے پر لئے ہوئے تھی اور ہر دھاندلی سے تحریک انصاف کو کامیاب کروایا گیا تھا تو فوج صراط مستقیم پر تھی۔ اور جب یہ سہولت فراہم کرنے سے انکار کیا گیا تو اسے قتل کی سازش کرنے والوں کا گروہ کہا جائے۔ اور ایک اعلیٰ افسر کا نام لے کسی ثبوت و دلیل کے بغیر الزام تراشی کی جائے اور ملک میں بے چینی پیدا کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
عمران خان ایک مقبول لیڈر ہیں۔ گرفتاری سے ان کی مقبولیت میں کمی نہیں ہوگی بلکہ ان کے ساتھ ہمدردی میں اضافہ ہو گا لیکن اگر اس وقت تحریک انصاف کی قیادت نے ہوشمندی سے کام نہ لیا اور پارٹی کارکنوں کو اسی طرح توڑ پھوڑ کرنے اور جی ایچ کیو کے علاوہ کور کمانڈرز کے گھروں پر حملے کرنے پر اکسانے کی کوشش کی جاتی رہی تو عمران خان کی سیاست کے ساتھ ملک میں جمہوری عمل کو خواب بنتے دیر نہیں لگے گی۔ شاہ محمود قریشی جیسے لیڈروں کو اس موقع پر جذباتی بیان بازی کی بجائے ٹھوس اور جمہوری حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت تحریک انصاف کے علاوہ حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور حالات کو خراب کرنے کی بجائے انہیں درست کرنے کے لئے اقدامات کر نے چاہئیں۔
ملک میں سیاسی مکالمہ ہی موجودہ بحران کا واحد حل ہے۔ اسی سے تعطل بھی دور ہو گا، اداروں کو حدود میں رہنے کی ترغیب بھی دی جا سکے گی اور سیاسی پارٹیوں میں احترام کا رشتہ بھی استوار ہو سکے گا۔ لیکن اگر سیاست دان ایک دوسرے میں ’چور لٹیرے‘ تلاش کرتے رہے تو نہ جمہوریت بچے گی اور نہ اداروں سے اقتدار مانگنے والوں کو عزت و احترام ملے گا۔
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleمظہر عباس کاکالم:’زنجیروں میں جکڑا‘ سیاسی نظام
Next Article یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم:ایک بے ربط کالم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم

جون 3, 2026

طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک

جون 3, 2026

علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار

جون 3, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم جون 3, 2026
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک جون 3, 2026
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار جون 3, 2026
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی جون 1, 2026
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی جون 1, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.