جناح ہاؤس حملہ کیس میں گرفتار خدیجہ شاہ کو لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
سابق آرمی چیف کی نواسی اور سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ کو قیدیوں والی وین میں ایک گھنٹے سے زائد انتظار کے بعد عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی۔
خدیجہ شاہ کو چہرہ ڈھانپ کر کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے خدیجہ شاہ کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوانے کی استدعا کی۔
پولیس نے بتایا کہ خدیجہ شاہ کیس کے تفتیشی افسر ہائی کورٹ میں مصروف ہیں۔
عدالت نے خدیجہ شاہ اور ہما سعید کی حاضری مکمل کی اور دونوں خواتین کو واپس لے کر جانے کی اجازت دے دی۔
عدالت نے مزید کارروائی کچھ دیر کے لیےملتوی کردی ۔
عدالت نے خدیجہ شاہ کو کمرہ عدالت میں شوہر سےملاقات کی اجازت بھی دی۔
اس سے قبل وین میں موجود خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ شدید گرمی ہے، سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے، مجھے دمہ کی بیماری ہے، میری طبعیت خراب ہو رہی ہے، جس پر پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ گاڑی کو چھاؤں میں کر دیتے ہیں۔
پولیس کے مطابق خدیجہ شاہ کو پولیس وین میں پانی پہنچایا گیا، وین میں خدیجہ شاہ کے ساتھ دیگر دو خواتین بھی شامل تھیں۔
واضح رہے کہ لاہور کے جناح ہاؤس میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں مطلوب معروف فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا۔
گزشتہ دنوں خدیجہ شاہ کی آڈیو سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا کہا تھا مگر پولیس کو گرفتاری دینے کے بجائے وہ گھر سے فرار ہوگئی تھیں۔
خدیجہ شاہ سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی نواسی اور سابق مشیر سلمان شاہ کی صاحبزادی ہیں۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
فیس بک کمینٹ

