آپ کے لئے وہ ڈاکٹر علی اطہر شوکت ہے ہمارے لئے وہ مسلم سکول کے ہمارے دراز قد اور سمارٹ استاد شوکت صاحب کا بیٹا ، وہ نشتر میڈیکل کالج کے ان طالب علموں میں سے ہے جنہوں نے "ہر” کام کیا اور "جی بھر کے” عشق کیا اور پھر کبھی تنگ آکر دونوں کو ادھورا نہیں چھوڑا کہ وہ ہمارے شاہ حسین ثانی یعنی خالد سعید کے یکے از مادھوان لال تھا سو دوستوں کے لئے مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے ڈاکٹر کہیں یا مصنف اور شاعر ، وہ جو بھی ہے وفا شعار ہے ۔
علی اطہر کی زندگی کا بیشتر حصہ مختلف پراجیکٹس میں ایک ہم درد، انسان دوست کنسلٹنٹ کے طور پر گذرا، پھر جب ہم سے ہمارا” ازلی مہربان ” امریکہ بگڑا اور بھارت کے تعاون سے ” ٹیرر فنانسنگ ” کا کٹہرا تیار ہوا تو پھر بیورو کریسی میں نہ کوئی شہزاد قیصر رہا نہ طارق محمود ، ان کے ادب نواز سینئرز کی تو بات چھوڑیں سو جب کئی ملین ڈالر کے پراجیکٹ پاکستان سے دوسرے ممالک وغیرہ میں منتقل ہونے لگے تو وہ "مجھے کیا ؟” قسم کے بیوروکر یٹ سے ملا کہ کام کرنے کے اجازت نامے میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سےوطن عزیز کو مل سکنے والا کثیر زر مبادلہ کسی اور خطے میں چلا جائے گا تو اس نے اپنی گھومنے والی کرسی پر کسی غیر ملکی کی طرح کہا تو میں کیا کروں” ؟
آپ جب اس کے سفرنامہ ملاوی (فاصلوں کے درمیاں) کو پڑھیں گے تو افریقہ کے دل میں دریاوں ، جنگلوں اور حشرات الارض سے اٹے ملاوی کی پاکستان سے کئی مماثلتیں سامنے آ جاتی ہیں ۔اگر آپ پڑھنے کی ترتیب کو الٹ دیں تو وطن عزیز کے کسٹمز ، ایوی ایشن اور امیگریشن کے رشوت گزیدہ’ فرض شناس’ افسروں سے ملاقات ہو جاتی ہے جو ہمارے ڈاکٹر کو بتاتے ہیں کہ آپ کے ویزے کی مدت ختم ہوئے 72 گھنٹے ہو چکے ہیں۔ توسیع کے لئے وزارت خارجہ سے اجازت لینی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ پھر ایک معقول نذرانہ طے ہوجاتا ہے اور پاسپورٹ پر مہریں لگ جاتی ہیں۔ پھر ایر لائنز کے ہمارے ہی ہم زادوں سے ملاقات ہوتی ہے جو پوچھتے ہیں اسی فلائٹ سے جانا کیوں ضروری ہے ؟ اور پھر ایک نذرانہ انہیں بھی دیا جاتا ہے ۔علی اطہر نے فیس بک پر یا کسی ویب سائٹ پر جب یہ سفرنامہ لکھنا شروع کیا تو ہمارے خالد سعید نے اس کا فراخ ماتھا چوما اور کہا جا بچہ ، تمہاری اس کتاب کو شہرت دوام ملے گی مگر جو بشریات ، نفسیات ، جمالیات، الہیات اور ادبیات کے کیپسول گول باغ ملتان میں رات گئے تک بیٹھنے والوں کو ملتے ہیں ان کی مقدار بڑھا کے ملاوی والوں کے دلوں میں جھانکو وہاں عیسائیت ، اسلام ، بدھ مت اور لامذہبیت کے ملاپ سے انسانوں کے پرانے رنگ یعنی کالے رنگ کی چمک دمک کے جگنو اور تتلیاں ڈھونڈو۔ پھر ہمارے علی اطہر کے پاس علم تو وافر ہے ہی۔ حسن بیان اور مشاہدہ بھی ہے اور اس نے سفر نامہ نگاروں کے کچھ
"گر” بھی آزمائے۔ فلرٹ ، تبسم اور فوٹو گرافی مگر پھر اس کا اصل ہنر کام آیا۔ اس نے اہل زبان ہونے کا اپنا زعم توڑا تو اسے ملاوی میں تونسہ کی سرائیکی بھی سننے کو مل گئی۔ انگریزی کی مہارت نے اسے بین الاقوامی مسافروں، سیاحوں اور ملاوی کے محکمہ صحت یا معاون طبی عملے کی بشریت بھری پر کشش حماقتوں اور خباثتوں کی ہمہ گیری کو تلاش کرنے میں مدد دی ۔
اب ذ را اس سفرنامے میں ابواب کے دلچسپ عنوانات کی معنویت کا اندازہ لگائیے
آ جاو افریقہ ، شب گذری تے جگ سویا ، باری تھاں نی چڑھیا ، دھا دھن تا دھا دھن دھن تا ، او دھاڑی اوئیے( یار علی اطہر ہم سرائیکی دھاڑ وو کہتے ہیں ) میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا ، تمہارے پیر مرمریں ، ایدھے چک دے پھٹے ، دکھاں تو وی لمبیاں نیں دکھاں دیاں کہانیاں ، بوچھن ڈوریئے دا۔
اس سفر نامے میں ہماری مشترکہ پسندیدہ گلوکارہ تصور خانم کے رسیلے گانے ، اس کے بالائی ہونٹ اور آنکھ کی خفیف جنبش کی دل آویزی’ کی یاد میں اس پنجابی گیت کو پڑھا تو اس کے بول بھی پہلی دفعہ دل میں اترے۔
باری تھاں نی چڑھیا
نواں دن اڑیا
یہ باری کھڑکی ہے جس میں سے جھانکتی سورج کی شعاعیں سونے والوں کو نئے دن کا پتا دیتی ہیں ۔ سب سے زور دار حصہ وہاں کے شادی بیاہ کی رسموں (مٹھائی کی جگہ چینی یا شکر کا بورا لے جانا، بارات کے آنے پر دولہا والوں کا گالیوں اور طعنوں سے سواگت ، دولہا دلہن کے نئے گھر کی سجاوٹ کے لئے تحائف ، ہم درد مہمانوں کی طرف سے لائی سوغاتوں کی نیلامی وغیرہ) کا بیان ہے۔
فیس بک کمینٹ

