پیارے شاکر
اس خط کے ساتھ ڈاکٹر انور سدیدکا 1985ءکا ملتان کا”جائزہ ادب “ارسال کررہاہوں ۔یہ ابھی شائع نہیں ہوا انہوں نے اس کی ایک کاپی میرے حوالے کردی تھی۔ 17دسمبر1985ءکا لکھا ہوا یہ جائزہ بہت دلچسپ ہے۔ میں نے نئے سال کے حوالے سے ہمیشہ کی طرح پیش گوئیوں کامضمون امروز کوارسال کیا ہے۔چند جملے پڑھواور لطف لو
مارشل لاءکے بعد مارشل آرٹس کوفروغ ملے گا
ہتھوڑا گروپ کے ذکرپر نجومی نے ہیلمٹ پہن لیا
چارلس اورڈیانا کے درمیان کسی نئے رومان کاامکان نہیں
1986ءمیں بارہویں مہینے کی 12تاریخ کو12بجے دن مشرقی پنجاب کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
اس سال کسی قدآور ادبی شخصیت کی پیدائش کاامکان نہیں
مضمون چھپنے کے بعدتمہیں ارسال کروں گا۔آج ملتان سے ایک فون آیا معلوم ہوا اعزاز احمد آذر کی رخصتی ہورہی ہے اور الوداعی پارٹیاں جاری ہیں۔کل اردو اکادمی نے اس کے ساتھ ایک نشست کی ،آج نیشنل سنٹروالے اسے پارٹی دے رہے ہیں۔نئے افسر نے چارج بھی لے لیا ہے۔ آج یہ مختصر خط ہی قبول کرو
رضی الدین رضی
21دسمبر1985
فیس بک کمینٹ

