نامور ماہر زراعت اور مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد حسین گردیزی نے کہا ہے کہ مینگوفیسٹیول کے موقع پر گورنرپنجاب انجینئر بلیغ الرحمن کی جانب سے مینگو میوزیم اور بوٹینکل گارڈن کا افتتاح ایک تاریخی قدم ہے ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے مینگو فیسٹیول کے آخری روز اے پی پی سے بات چیت کے دوران کیا۔
زاہد حسین گردیزی نے کہاکہ آموں کے باغات کٹنے کے بعد مینگو گروورز ایسوسی ایشن کی تحریک پر ڈی ایچ اے نے آموں کے باغبانوں کے لیے مثبت اقدامات بھی شروع کردیئے ہیں جن میں بین الاقوامی معیار کا سالانہ مینگو فیسٹیول بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس فیسٹیول کے انعقاد میں نوازشریف زرعی یونیورسٹی بھی اپنا کردارادا کررہی ہے اوراس سلسلے میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی کی خدمات کونظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ یہ میلہ عوام کے ساتھ باغبانوں کے رابطے کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے مطالبہ پرایک بڑا رقبہ باغات کوکاٹے بغیراصلی حالت میں مینگو اینکلیو (Enclave) کے طورپر محفوظ کردیاگیا ہے ۔اس کے علاوہ چارایکڑ رقبہ مینگو میوزیم اور بوٹینکل گارڈن کے لیے وقف ہے جہاں اعلی معیار کالیکچر ہال ہوگا جو آڈیو ،وڈیو سہولتوں سے آراستہ ہوگا اوراس کی تعمیر میں بین الاقوامی معیار کو مدنظررکھا جائے گا۔اسی کے ساتھ آموں کی تاریخ کے حوالے سے لائبریری اور ریڈنگ روم ہوگا۔ایک کیفے ٹیریا اور ریسرچ لیبارٹری بھی قائم کی جارہی ہے۔
بوٹینکل گارڈن میں دو ایکڑ پر محیط آموں کے دوہزار ایک پودے لگائے جائیں گے جن میں دنیابھر کے آم پیدا کرنے والے ممالک سے ان کی پانچ اہم ترین ورائٹیاں منگوا کر کاشت کی جا ئیں گی۔ یہ بوٹینکل گارڈن مینگو سٹی ملتان کو نئی شناخت دے گا۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد میوزیم ہوگا۔زاہد حسین گردیزی نے کہاکہ ہمارے ہارٹیکلچر ماہرین آنے والے وقتوں کے لیے ٹشوکلچر سے آموں کی بہتر ورائٹیاں تیارکرسکیں گے۔
فیس بک کمینٹ

