خیبر پختون خوا میں پرویز خٹک کی سربراہی میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز بنوا کر بزعم خویش اس صوبے میں بھی تحریک انصاف کے کفن میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم کے اعلانات کے باوجود نگران حکومت کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ملک میں مباحث جاری ہیں کہ نگران حکومت کی سربراہی کا قرعہ فال کس کے نام نکلے گا۔ موجودہ حکومت کے اندر مختلف سیاسی دھڑے من پسند نگران وزیر اعظم بنوانے کے لئے زور لگا رہے ہیں جبکہ اس حوالے سے اسٹبلشمنٹ کی اپنی ضرورتیں اور خواہشات بھی اہم ہیں۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے نائب چئیرمین شاہ محمود قریشی نے گلہ کیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق کرلیا ہے لیکن باقی سب اس سے بے خبر ہیں۔ انہیں شکوہ ہے کہ تحریک انصاف ملکی سیاست میں اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ اسے نگران سیٹ اپ کے بارے میں مشاورت سے علیحدہ رکھنا افسوسناک ہے۔ شاہ محمود قریشی کا یہ شکوہ تو بجا ہوسکتا ہے لیکن ملکی سیاست میں ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کا فیصلہ خود تحریک انصاف ہی نے کیا تھا۔
اس وقت تحریک انصاف میں جو ٹوٹ پھوٹ جاری ہے، اسے کوئی بھی نام دیا جاسکتا ہے۔ دل چاہے تو سیاسی لیڈروں کی بزدلی یا مفاد پرستی کہہ لیا جائے کہ وہ مشکل وقت میں دباؤ قبول نہیں کرسکے۔ اور اگر خواہش ہو اسے اسٹبلشمنٹ کا ’دباؤ‘ بھی کہا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے اہم سیاسی لیڈر تحریک انصاف چھوڑ کر نئے آشیانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ بعض خبروں کے مطابق دوسری پارٹیاں تحریک انصاف کے ’بھگوڑوں‘ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ اسی لئے پنجاب میں استحکام پاکستان پارٹی کے بعد اب خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف پارٹی پارلیمنٹیرینز کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
البتہ اس ساری سیاسی کج بحثی کے دوران میں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ’نیا پاکستان‘ بنانے کے جوش میں عمران خان نے پارٹی قیادت کو ملک کے سیاسی ماحول سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا ۔ پارٹی کے طور پر تحریک انصاف نے ملک کی باقی تمام سیاسی جماعتوں کو ’کرپشن و لوٹ مار‘ نامی ایک ہی ڈنڈے سے ہانکا۔ یوں ملک میں سیاسی انارکی کا ماحول پیدا کیا۔ عمران خان نے ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کو ہی واحد قابل اعتبار فریق سمجھا اور آخر دم تک وہ فوج کے ساتھ مواصلت کا کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ البتہ 9 مئی کے بعد اس کے امکانات ختم ہونے پر اب تحریک انصاف کے ہمدردفوج اور عسکری قیادت کے خلاف ہر قسم کی مہم جوئی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ تحریک انصاف نے غلط فریق کے ساتھ دوستی و دشمنی کا رشتہ استوار کرکے خود اپنا راستہ کھوٹا کیا ہے۔
پرویز خٹک نے پشاور میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرنز کے قیام کا ا علان کرتے ہوئے دو دلچسپ باتیں کی ہیں۔ ایک تو انہوں نے سانحہ 9 مئی کی ذمہ داری براہ راست عمران خان پر عائد کی ہے۔ اس طرح اب صرف حکام ہی یہ الزام عائد نہیں کررہے کہ اس روز کے واقعات میں تحریک انصاف اور اس کے کارکن و لیڈر ملوث تھے بلکہ پارٹی کے اہم لیڈر بھی اب یہ اعتراف کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے عمران خان پر جمہوریت و انتخابات کا راستہ نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ ’انتخاب کا موقع گنوا کر تصادم کی راہ کیوں اپنائی گئی‘؟ اس حوالے سے وہ سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات کے بارے میں پٹیشنز کی سماعت کے موقع پر حکومت اور تحریک انصاف میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دے رہے تھے۔ ان مذاکرات میں حکومت کی طرف سے جولائی میں اسمبلی توڑ کر ستمبر یا اکتوبر میں انتخابات کروانے کی پیش کش کی گئی تھی۔ لیکن عمران خان نے مذاکراتی ٹیم سے بالا ہی بالا یہ الٹی میٹم دے کر ان مذاکرات کو ناکام بنادیاتھا کہ 14 مئی تک قومی اسمبلی توڑنے سے کم پر معاہدہ نہیں ہوگا۔ اس طرح مذاکرات ناکام ہوگئے۔ اور عمران خان کی اسلام آباد میں گرفتاری کے وقت احتجاج کے دوران میں توڑ پھوڑ اور عسکری تنصیبات پر حملوں نے ملکی سیاست میں ڈرامائی تبدیلیاں پیدا کیں۔
تحریک انصاف کے مایوس اور ناراض لیڈروں نے پہلے لاہور میں جہانگیر ترین کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی قائم کی اور اب پشاور میں پرویزخٹک او ر سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کی قیادت میں تحریک انصاف کے درجنوں لیڈروں نے پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے نام سے نئی جماعت بنائی ہے۔ پارٹی کا منشور اور پرچم جلد ہی جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس موقع پر نئی پارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ عوام اور پارٹی قیادت نے عمران خان کا ملک دشمن ایجنڈ یکساں طور سے مسترد کردیا ہے۔ ان محب وطن سیاست دانوں نے نو مئی کے بعد تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرلی ہے‘۔ یعنی اب بات صرف سیاسی راستہ علیحدہ کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی لیڈر اپنی ہی سابق پارٹی اور لیڈر پر ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے قائد پرویز خٹک نے وعدہ کیا ہے کہ ’ ہم ملک کے مفاد میں فیصلے کریں گے‘۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ ملکی مفاد کہاں ذاتی ضرورتوں کا محتاج ہوجاتا ہے اور کس وقت کوئی سیاسی لیڈر اپنی ذات، برادری، دھڑے یا گروہ کی ضروتوں کو ہی قومی مفاد سمجھنے لگتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار کی صورت میں یہ تسلیم کرنا پڑے کا پاکستان میں قومی مفاد کی کوئی ایک قسم موجود نہیں ہے۔ کیوں کہ درجنوں سیاسی پارٹیاں صرف قومی و ملکی مفاد ہی کے لئے کام کررہی ہیں۔ ابھی تک ملک میں ایسا ماحول پیدا نہیں ہوسکا کہ اگر سب کا مقصد ہی ایک ہے تو اس کے حصول کے لئے مل جل کر کام کا کوئی ایک طریقہ بھی تلاش کرلیا جائے ۔ لیکن 2006 میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے بعد کوئی بامقصد کوشش نہیں کی گئی۔ اس معاہدے کو بھی بڑی حد تک نعرے بازی کے لئے ہی استعمال کیا گیا ہے اور یہ دونوں پارٹیاں مل کر کوئی ایسا سیاسی پلیٹ فارم استوار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں جس پر وسیع تر اتفاق رائے ہوسکے۔ حکومت خواہ کسی پارٹی کی قائم ہو لیکن بنیادی اصولوں سے انحراف نہ ہو۔ یعنی فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث کرنے سے گریز کیا جائے۔ اعلیٰ عدلیہ کو خود مختار بنانے اور اس میں ججوں کی تقرری و احتساب کا شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے۔ آزادی رائے کا احترام ہو اور ملک میں سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ سب سیاسی گروہ اگرچہ ان مقاصد کو اہم کہتے ہیں لیکن انہیں حاصل کرنے کے لئے متفقہ حکمت عملی اختیار نہیں کرتے۔ موقع ملنے پر ہر سیاسی گروہ اسٹبلشمنٹ کو ساتھ ملا کر انتخابی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمام سیاسی حکومتیں یکساں طور سے میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے اور مخالفانہ آوازوں کو کچلنے میں مستعد دکھائی دیتی ہیں۔ تحریک انصاف کے دور میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کا جینا حرام کیا گیا تھا لیکن شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے اس طریقہ کو بدلنے کی بجائے زیادہ شدت سے انہی جابرانہ ہتھکنڈوں کو عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنے کو ہی اپنی سیاسی بقا کے لئے ضروری سمجھا ہے۔ میڈیا پر عمران خان کا نام لینا اور تصویر دکھانا ممنوع ہے اور سرکاری رائے سے اختلاف رکھنے والے میڈیا اور صحافیوں کو ہراسانی اور ریاستی جبر کا سامنا ہے۔
شہباز شریف کا دعویٰ ہے کہ وہ سیاست کے ذریعے عوامی خدمت کے چالیس سال پورے کرچکے ہیں اور انہوں نے ہر طرح کا گرم و سرد موسم دیکھا ۔ اقتدار میں بھی رہے اور قید وبند اور جلاوطنی کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ لیکن اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس طویل سیاسی سفر میں بھی وہ سب کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کا سبق نہیں سیکھ سکے۔ اور نہ ہی تسلیم کرسکے ہیں کہ آج ان کی حکومت جو تکلیف سیاسی مخالفین کو پہنچا رہی ہے، وہی مشکل اپوزیشن میں انہیں خود بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ کبھی تو انتقامی سیاست کے اس شیطانی چکر کو ختم کرنا ہوگا۔ کوئی تو سامنے آئے جو دوسرے کی لاش پر اپنے اقتدار کا محل بنانے سے انکار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
پاکستان کا سیاسی منظر نامہ ’ایکشن ری پلے ‘کا نمونہ ہے۔ سیاسی بیانات سے لے کر حکومتی اقدامات تک میں سر مو فرق نوٹ نہیں کیا جاسکتا۔ جو حالات اس وقت دیکھے جارہے ہیں، دس بیس یا تیس سال پہلے بھی ملکی عوام کو اسی صورت حال کا سامنا تھا اور سیاست دان اور ادارے اسی طریقے سے انہیں حل کرنے کی کوشش کررہے تھے جیسے اب سانحہ 9 مئی کے بعد ملکی سیاست کے اونٹ کو ایک محدود سے خیمے میں فٹ کرنے کی کاوش کی جارہی ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں اور بطور خاص تحریک انصاف اس دن رونما ہونے والے واقعات کی سنگینی اور ملکی فوج پر اس کے مرتب ہونے والے اثرات کا اندازہ کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) اور دیگر حکمران جماعتوں نے اسے تحریک انصاف کو گرانے اور اس کے سیاسی چیلنج کو ختم کرنے کا موقع سمجھا اور یہ مقصد حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے فوج سے معافی تلافی میں ناکامی کے بعد 9 مئی کو مزاحمت کا استعارہ بنا کر خود کو ’اینٹی اسٹبلشمنٹ‘ سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی گئی کہ اسٹبلشمنٹ کے دست شفقت میں پروان چڑھنے اور پنپنے کے بعد اب وہ اسی کے خلاف کون سی جنگ لڑنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
حکمران جماعتیں اور تحریک انصاف یہ ادراک نہیں کرسکیں کہ 9 مئی کے واقعات کسی ایک جماعت کی غلطی کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ سیاسی افراتفری اور سماجی مایوسی کے ایک طویل سلسلہ کا فطری اظہار تھا۔ پاک فوج کے لئے اس کے مضمرات سیاسی نہیں بلکہ ادارہ جاتی تھے۔ اسے ملک میں سیاسی پارٹیوں کے طرز عمل سے زیادہ اس حقیقت کا سامنا ہے کہ ملکی سیاست میں رونما ہونے والے واقعات کیوں کر فوج کے نظم و ضبط پر اثر انداز ہوئے اور بعض عناصر نے ادارہ کی ہمہ گیریت کی بجائے ایک سیاسی خواب کی تکمیل کو ضروری سمجھا۔ سیاسی جماعتیں اگر فوج کی اس مشکل کو تحریک انصاف کے خلاف مہم جوئی سمجھنے کی غلطی کرتی رہیں گی تو اس سے معاملات پیچیدہ اور مشکل ہوں گے۔
فوری راستہ بنانے کے لئے شاید تحریک انصاف میں توڑ پھوڑ اور عمران خان کو سیاسی مجہول بنانا ضروری سمجھا جارہا ہو۔ لیکن اگرملک کے انتخابی و سیاسی عمل کو اس ایک سانحہ سے منسلک کرکے عوامی بالادستی کے تسلیم شدہ آئینی اصول کو نظر انداز کیا گیا تو 2023 کے انتخابات پاکستان کی مشکلات کے خاتمہ کا سبب نہیں بنیں گے بلکہ ملک میں مایوسی ، پریشانی اور بے چینی کے ایک نئے عہد کا نقطہ آغاز بن جائیں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

