”برخودار“شاکرحسین شاکر جیتے رہو
پرسوں تمہیں خط پوسٹ کیا ، خیال تھا تمہارا خط ایک آدھ روز میں مل جائے گا لیکن آج چارتاریخ کوبھی تمہارا کوئی خط مجھ تک نہیں پہنچا۔اب اگرآیابھی تومجھے آٹھ تاریخ کوملے گا کیونکہ میں کل ملتان جارہاہوں۔ پرسوں جس مقصد کے لیے خط لکھنے بیٹھاتھا وہ درمیان میں ہی رہ گیا۔ میں ادھر ادھر کی ہانک کر خاموش ہوگیا۔اصل بات بعد میں یادآئی جب خط بند کرچکاتھا۔ پھر میں نے لفافے پرچند جملے لکھ دیئے۔ پہلے سوچا کہ لفافہ کھول کر دوبارہ جملے ڈال دوں پھرخیال آ یا کہ لفافہ خراب ہوجائے گا۔اب یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں کتنا نفاست پسند ہوں۔
پہلی بات یہ کہ تم نے تادم تحریر اپنا شناختی کارڈ نمبر یا اس کی فوٹو کاپی نہیں بھجوائی۔ تم اگر بھیج بھی دیتے تو میں فارم جمع نہ کراتا کیونکہ احمد غزالی صاحب نے مجھے انتہائی تفصیل کے ساتھ سارا معاملہ سمجھا کر یہ مشورہ دیا کہ پیسے اورفارم جمع نہ کراﺅں ۔ان کاکہنا تھا کہ جوہر ٹاﺅن سکیم میں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ درخواستیں آچکی ہیں اور جن لوگوں کے ناموں کا قرعہ اندازی میں اعلان ہونا ہے ان کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے۔ (بشری رحمان کے بھائی غزالی صاحب ایل ڈی اے آفس میں پلاٹوں وغیرہ سے متعلق شعبہ میں افسر ہیں)۔اس سکیم کااصل مقصد صرف پیسے جمع کرنا ہے یعنی پہلے تو درخواست فارموں سے ہی حکومت کو 25لاکھ روپے مل چکے ہیں یعنی ہرفارم کی قیمت پانچ روپے ہے۔لوگوں نے دوسرے شہروں سے بھی آکرفارم جمع کرائے ہیں۔ جب انہوں نے مجھے یہ تعداد بتائی اس وقت آخری تاریخ میں ابھی کچھ دن باقی تھے اور مزید درخواستوں کارش پڑنے والاتھا۔ دوسرا فائدہ حکومت کو زر ضمانت کے پیسوں کا ہوگا جو تمام لوگ درخواستوں کے ساتھ جمع کرارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زرضمانت واپس ضرور ملتا ہے مگر ایک طویل پروسیجر کے بعد اوراس میں دوڈھائی سال کم ازکم اور زیادہ سے زیادہ معلوم نہیں کتنا عرصہ لگ جائے۔ پھر میں نے سوچا کہ جب نام نکلنے کی امید بھی نہیں تو ہم اپنا پیسہ کیوں بلاک کریں۔ پیسے تو میں نے باجی طاہرہ سے بھی لے لیے تھے وہ انہیں واپس کردیئے۔
یہاں حالات بدستور وہی ہیں یعنی ہمارا کمرہ تاریکی کی وجہ سے سزائے موت کے قیدیوں والی کال کوٹھڑی بنا ہوا ہے۔ مالک مکان کے گھروں کے چکر لگ رہے ہیں دیکھیں کب ”شنید “ہو۔دراصل ”دید شنید“کے لیے لکھ لکھ کریہی لفظ استعمال کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ملتان میں ممتاز اطہر و الا کیس سیریس ہورہا ہے۔ جاوید کو سمن آرہے ہیں کہ عدالت میں گواہی دو۔ پہلی دو پیشیوں پر تو وہ اس لیے نہ گیا کہ ”کچھ “ بڑے صلح کی کوشش کررہے تھے۔ مگر اب صلح کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں کہ موصوف کہہ رہے ہیں کہ رضی اگر سب لوگوں میں کہہ دے کہ میں نے یہ مقدمہ حسین سحر کے کہنے پر درج کرایاتھا تو صلح ہوجائے گی۔ اب اسے کیا معلوم کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں۔ پھراس کا موقف ہے کہ کیس جعلی ہے۔ پیسے دے کر میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کیاگیا،وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اورجب رضی اوراس کے ساتھی کیس ہارجائیں گے تو میں ان پر ہتک عزت کادعوی کردوں گا۔ہماری تو کوشش تھی کہ بات نہ بڑھے لیکن اگرو ہ مصر ہے تو مجبوری ہے ۔میں نے بھی ریاض لطیفی صاحب کو وکیل مقر ر کرلیا ہے ۔چندہ کرکے بھی کیس لڑ لیں گے ۔لطیفی صاحب کاکہنا ہے کہ اگر کیس چلا تو اس میں ڈیڑھ دوسال سزا بھی ہوسکتی ہے۔ پرسوں میں مختارنامہ داخل کرادوں گا ۔بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔یہاں حلقہ احباب ذوق میں زبردست سیاست چل رہی ہے اوراسرارزیدی حلقہ کے خلاف اخبارجہاں میں مسلسل دوکالم لکھ چکے ہیں۔الیکشن قریب ہیں اور نوبت گالم گلوچ تک بھی پہنچی ہوئی ہے۔ نوائے وقت ملتان میں دوچار روزپہلے فرحت نواز کا مضمون شائع ہوا تھا ارسال کررہاہوں ۔لطف آئے گا۔
ملتان کی آتشزدگی کاحال تو تمہیں اخباروں سے پتا چل گیا ہوگا۔ کل اسلام تبسم نے مجھے ملتان کے دوایک اخباربھیجے تو معلوم ہوا کہ بہت آگ لگی۔ مسجد ولی محمد کے پیچھے جو لکڑی کے کھوکھوں والا کپ بازار ہے وہاں سارا جل گیا۔مسجد کوبھی نقصان پہنچا۔جا کر دیکھوں گا کہ کیا صورت حال ہے۔
والسلام تمہارا رضی
4فروری1986

