برادرم شاکر حسین شاکر کے نام
آج پھرتمہیں ملتان سے خط لکھ رہا ہوں۔پرسوں رات آیا تھا اور کل سے اب تک بھٹی کا جائزہ چھپوانے میں مصروف رہا۔ کل صبح کاپیاں جوڑیں اور شام کو پریس پر دے آئے۔ لیکن ہمارے ملک نے جس شاندار طریقے سے لوڈشیڈنگ میں ترقی کی ہے اس کے نتیجے میں پریس بار بار بند ہوجاتے ہیں۔ لائٹ نہ ہونے کے باعث اب تک جائزہ چھپ نہیں سکا۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ پتا کریں گے۔ بہت اچھے انداز میں اور سلیقے سے تیارکیا ہے۔ اورتو اور جائزے میں تمہاری منگنی کابھی تذکرہ ہے۔ تصویر تمہاری کبیروالا چلی گئی تھی۔”صدف“ کی اشاعت کے لیے۔ ان سے منگوائی اسی دوران ایک اور مل گئی۔وہ لگادی ہے۔ قمررضا حسب معمول اس مرتبہ بھی تمہارا ایڈریس لے گیا ہے اور دوبارہ گم کردے گا۔ دوچارروز پہلے انور سدید صاحب ملتان آئے تھے۔ انہوں نے بھری محفل میں بہت محبت سے میرا تذکرہ کیا۔ اعزاز احمد آذر ملتان سے رخصت ہوگئے ہیں۔ آج ہم نیشنل سنٹر گئے۔سلیم جہانگیر،خالد خلیل وہاں کے نائب قاصد اور ٹائپسٹ (نام بھول گیاہوں) سب بہت خوش تھے۔ گلے مل رہے تھے اور مبارکیں دے رہے تھے۔ ظہور بخاری نے نعرہ لگایا ”او آئے جناں ملتان وچ بمب چلائے“۔ کل نیشنل سنٹر میں اصغر ندیم سید کی نئی کتاب کی تقریب ہے۔ خالد خلیل کہہ رہے تھے کہ آپ نئے ڈائریکٹر سے مل لیں، میں نے کہاکیا ضرورت ہے ڈائریکٹر سے ملنے کی آپ مجوکہ کو ملوا دیں ۔تم تو جانتے ہو میرے مزاج کو میں ان ڈائریکٹروں سے دور بھاگتا ہوں ۔
یہاں دودن بہت سردی رہی۔ آج دھوپ نکلی ہے۔ خدا کرے اب نکلی ہی رہے۔ میں ابھی کل کادن یہیں ہوں۔پرسوں شام لاہو ر جاؤں گا۔ اگلے روز شاید تمہاراکوئی خط مجھے ملے۔پھراس کاوہیں سے جواب دوں گا۔ کل مسعود کھدرپوش بھی رخصت ہوگئے۔ بہت اچھے آدمی تھے۔ ابھی دوچارروز پہلے میں ان سے ملاتھا۔ ہمارے دفتر کے قریب ہی رہتے تھے۔ بابائے پنجابی تھے،بہت دلچسپ انسان۔ میں ان کے بارے میں تفصیلی مضمون لکھنا چاہتا ہوں۔ خط مختصر لکھ رہاہوں۔ ابھی دوبارہ پریس پر جانا ہے،تفصیلی باتیں لاہور سے کروں گا۔ ماموں بھی تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔انہوں نے آج کل شاہین مارکیٹ والی بیکری لے رکھی ہے۔ وہی بیکری جہاں ہم کئی مرتبہ جاتے رہے۔ٹرکوں کے اڈے کے پاس۔ میری طرف سے بھائی طاہر اوربھائی مظاہر سمیت سب کوسلام۔
ملتان آتے ہوئے پانچ گھنٹے کے سفر کے دوران ٹرین میں ایک غزل کہی۔سن لو
سوچتے ہیں اب بسر یہ زندگی کیسے کریں
ہم بھلا ہراک خدا کی بندگی کیسے کریں
گومگو کی کیفیت جب زندگی کا نام ہو
سوچئے تو فیصلہ پھر آخری کیسے کریں
شاعری تو خوشبوؤں کو بانٹنے کا نام ہے
پھول سب مرجھا گئے ہیں شاعری کیسے کریں
جرم ہے سچ بولنا اس عہد میں لیکن رضی
آج ہم اس جرم سے انکاربھی کیسے کریں
والسلام
تمہارا رضی
چھبیس دسمبر انیس سو پچاسی

