شاکر بھائی آج 11جولائی 1986ءہے۔
وقت کتنابے رحم ہوتا ہے اور کتنی تیزی سے اپنا چکر مکمل کرتا ہے۔ ٹھیک ایک برس پہلے کی بات ہے کہ صبح دس بج کر دس منٹ پر آج ہی کے روز تم مجھ سے آخری مرتبہ ملے تھے۔اور تم نے کہا تھا ” اچھا بھئی ۔۔پھر “ ۔اس سے زیادہ تم کچھ نہ کہہ سکے او ر میں نے صرف اتنا کہا” یار حوصلہ کرو“۔ ۔ بس پھر 11بجے تم طیارے میں داخل ہوگئے اور میں گویا اپنے ہی دیس میں تنہا رہ گیا۔سارا دن لاہور کی سڑکوں پر بھٹکتا رہا۔ نہ مجھے کوئی راستہ آتا تھا ۔نہ کسی ٹھکانے کی خبر تھی۔ مال روڈ پر جی پی او کے سامنے ایک گراﺅنڈ ہے ۔میں ہونق ہو کروہاں کوئی دوگھنٹے بیٹھا رہا۔ اب بھی جی پی او کے پاس سے گزروں تو وہ چھوٹا سا لان جسے میں گراﺅنڈ لکھ چکا ہوں بہت یادآتا ہے اوروہ دن بھی۔
اس وقت شام کے ساڑھے سات بجے ہیں۔ جمعہ کا دن ہے۔ گزشتہ برس میں اسی وقت سنیما ہال میں بیٹھا اپنا دھیان ادھر ادھر کررہا تھا۔ فلم چل رہی تھی اور جب میں ساڑھے نوبجے فلم دیکھ کر باہر نکلا تو تم اس وقت فضاﺅں میں تھے اور پھرجب میں ویگن میں بیٹھ کر سجادبٹ کے ہمراہ اسی کمرے میں پہنچا جہاں آج بیٹھا ہوں تو تم جدہ پہنچ چکے تھے۔ سائینس پل بھر میں آدمی کو کہاں سے کہاں پھینک دیتی ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں ،اتنی ترقی نہ ہی ہوتی تو اچھاتھا۔
آج ایک سال بعد میں لاہور کی سڑکوں سے واقف ہوچکا ہوں۔اس شہر میں اب اجنبی بھی نہیں رہااور بہت سی تبدیلیاں آگئی ہیں۔اور وہ جو خود کو ایک برس پہلے گنوا بیٹھا تھا وہ ادھورا پن ابھی بھی باقی ہے۔ آج سارا دن گھر بیٹھا رہا ۔صبح تھوڑی دیر کے لیے ڈاکٹر انور سدید کے ہاں گیاتھا۔ ان سے ایک کتاب لیناتھی ۔پھرآکر تمہارے خط پڑھنا شروع کیے تو خیال آیا کہ ایک سال میں کتنا کچھ بدل گیا۔ اختر انصاری اکبر آبادی کی وفات کی خبرآئی ،اعزاز احمد آذر کی رخصتی ہوگئی۔ ممتاز اطہر اور نسیم شاہد سے صلح ہوگئی۔ میں لاہور آگیا اور تمہاری شادی کی بات چل پڑی۔ گویاجب تم گئے تو ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ تمہارے خط پڑھتے ہوئے بڑا مزا آیا۔ ابتدائی خطوط میں تم نے وہاں کے حالات بتائے۔ پھر میرے حالات پر مجھے تسلی دی۔ کئی خطوط میں میری ڈھارس بندھاتے رہے۔ اور بہت سے خطوں میں میں تمہیں حوصلہ دیتارہا۔خیر اب تمہارے آنے میں صرف تین چارماہ باقی ہیں۔ بارہ ماہ گزرنے کے بعد یہ تین چارماہ ”صرف“ ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ابھی بہت بارش ہوکر جل تھل کرچکی ہے۔ بارش نہ ہوتی تو جمعہ گزارنے کے لیے شام کو ٹی ہاﺅس جاتا مگر اب ناممکن ہے۔ ہاں البتہ ابھی مجھے دوبارہ ڈاکٹر انور سدید صاحب کی طرف جانا ہے ۔صبح جو کتاب لایاتھا وہ آج ہی واپس کرنی ہے۔ کچھ نوٹس لینے تھے اس کتاب میں سے ۔ویسے یہاں آکر نئی کتابیں تو پڑھنے کومل جاتی ہیں اورسب ڈاکٹر صاحب کی مہربانی ہے۔ ورنہ ملتان میں تو صرف کتاب کا تذکرہ ہی سنتے تھے۔ وہاں کتابیں جمع کرنے کا شوق تھا لیکن پڑھنے کا وقت کم ملتاتھا۔ یہاں مطالعہ بھی اپ ڈیٹ ہوگیا۔منگل کے روز تمہیں خط پوسٹ کیاتو اسی روز کبیروالا سے منیرراہی آگیا اگلے دن صبح واپس گیا رات میرے پاس ہی ٹھہرا۔ ۔لطف یہ ہے کہ پیر کے روز یہ صاحب مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے بشری رحمان صاحبہ کے گھرپہنچ گئے تھے۔ عجیب صورتحال ہے یار کیا کہوں ۔ ایک طویل نظم ارسال کررہا ہوں ۔ دوچار ماہ پہلے کہی تھی تمہیں پسند آئے گی۔ اوراق کو بھیج دی ہے۔ باقی سب خیریت ، سب کو سلام کہنا۔
تمہارا رضی
11جولائی 1986
فیس بک کمینٹ

