لاہور : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار نے سیاست اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ریاست مخالف بیانیے کی حمایت کرتے تھے اور نو مئی کو ہونے والے حملوں کا مقصد فوج پر دباؤڈال کر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ’ہٹانا‘ تھا۔
پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام ’آن دا فرنٹ ود کامران شاہد‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عثمان ڈار نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کے واقعات کا منصوبہ چیئرمین پی ٹی آئی کی زیر صدارت زمان پارک میں بنایا گیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فوج سے ٹکراؤ کی پالیسی کی قیادت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کی صورت میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی، حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت خود عمران خان نے دی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’نو مئی ایک ایسا شرم ناک سانحہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور وہ ایک ایسا سیاہ دھبہ ہے، جس سے دھلنے میں وقت لگے گا۔‘
عثمان ڈار نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے کارکنوں کی ذہن سازی کی، کارکنوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔
عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ نو مئی کا واقعہ ایک دن میں رونما نہیں ہوا، ہماری مرکزی حکومت ختم ہونے کے بعد پارٹی میں دو گروپ بن گئے تھے، ایک گروپ میں مراد سعید،اعظم سواتی،حماد اظہر،فرخ حبیب تھے، یہ گروپ ٹکراؤ کی سیاست پر یقین رکھتا تھا۔
جبکہ اسد عمر، عمر ایوب، علی محمد خان، شفقت محمود اور وہ خود فوج کے ساتھ مفاہمت کی بات کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا تحریک انصاف کا اکتوبر 2022 میں لانگ مارچ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی رکوانے کے لیے کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ جس طرح اداروں پر حملے ہوئے اس کے بعد پی ٹی آئی کی بنیادیں ہل گئیں۔ عثمان ڈار نے کہا کہ اگر پارٹی آج اس حال کو پہنچی ہے تو یہ عمران خان کے فیصلوں سے ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے آج سے 12 سال پہلے تحریک انصاف کا پلیٹ فارم ایسا لگا کہ جس میں صاف ستھری سیاست ہوسکتی تھی اور لاکھوں نوجوان عمران خان سے متاثر ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور سیاست دونوں کو خیرباد کہہ دوں، میں نے سیاست تحریک انصاف سے شروع کی تھی اور ختم بھی اسی سے کی ہے۔‘
فیس بک کمینٹ

