ظلم وبربریت کی ایک انوکھی داستان رقم ہوئی ہے۔آج ایک عورت کا قتل ہوا ہے جب کسی عورت کو قتل کیا جاتا ہے تو وہ صرف ایک جان نہیں ہوتی بلکہ اس کے وجود سے جڑی اور بھی معصوم جانیں ہوتی ہیں جو قتل کر دی جاتی ہیں یہ حقیقت پر مبنی ایک واقعہ ہے جو ہمارے علاقے میں پیش آیا ہے اس صنف نازک کا قصور کیا تھا جو اسے قتل کر دیا گیا بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ اس کے بچوں کے سامنے جو روتے تڑپتے رہے کہ ہماری اماں کو مت مارو ۔
وہ گناہگار تھی تو تم کون سا پرہیزگار پانچ وقت کے نمازی ہو ؟
تمہاری غیرت کا اندازا تو یہیں سے ہو رہا ہے کہ تم نے ایک عورت کو نشانہ بنایا ہے ۔مرد تھے تو ثابت کرتے ۔اور تم ہوتے کون ہو یہ ثابت کرنے والے کہ کون گناہگار اور کون پرہیزگار ؟
اس چھوٹی معصوم کا کیا قصور تھا ابھی صرف ماں کے دودھ پہ پل رہی تھی ؟
بچے یتیم ہوگئے یہی قسمت تھی ؟ نہیں یہ قسمت میں نہیں تھا یہ تم لوگوں نے بنائی ہے ان کی قسمت اپنے کیے نظر نہیں آتے بس ہر بات قسمت پہ ڈال دینی ہے ۔
اب جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے اب یہی جھوٹی تسلیاں مل رہی تھیں ان معصوم بچوں کو جو خوفزدہ ہو کر آٹھ سال کی بڑی بہن سے لپٹے ہوئے تھے۔
اب قتل کیوں ہوا کوئی وجہ سامنے آئی ؟ سوال پوچھا کسی نے ۔
ہاں اس عورت (مرحومہ) کی تصویریں وائرل ہو گئی تھیں سوشل میڈیا پر اس وجہ سے غیرت کے نام پر چچا کے بیٹے نے شوہر کے ہوتے ہوئے تین گولیوں سے اس کے وجود کو بے دردی سے چھلنی چھلنی کر دیا ۔اس وقت کیا قیامت گزری ہو گی ان معصوموں پر یہ ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں مگر وہ خوف درد اذیت ہم نہیں محسوس کر سکتے جو اس وقت ان بچوں پہ طاری تھی۔
شوہرکے ہوتے بیوی کا قتل بلکہ وہ تو خود شامل تھا اس قتل میں وہ کیا بیوی کو بچاتا ۔مار دیا بچاری کو چبھ رہی تھی سبھی کی آنکھوں میں غریب کی جو بیٹی تھی یہ تو ہونا تھا ۔باپ کا پتا تھا چور ہے ماں در در کے کام کر کے اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرتی ہے بس اب جو کرنا ہے کرو اس کے ساتھ کوئی اس کا نہیں آئے گا اسے بچانے کے لیے۔کوئی پوچھے ان سے تم لوگوں نے کون سے ایوار ڈ لیے ہوئے ہیں پرہیزگاری کے ؟
فیس بک کمینٹ

