آج ملتان میں میرا آخری دن ہے۔ ایسا ہی ایک دن 19 جنوری 2013 کو بھی آیا تھا لیکن اس بار میرا ارادہ لوٹ کر آنے کا نہیں ہے۔ میں کہاں جا رہا ہوں، یہ میں نہیں بتا سکتا، احباب کسی دن خود جان جائیں گے ۔ اس آخری دن میں کچھ شخصیات کا نام لے کر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میرے طبی کیریر کو نئی زندگی دی ہے۔ ان میں سرفہرست بیسٹ کیئر ہسپتال ملتان کے مالک ڈاکٹر عرفان اختر ہیں۔ آپ ملتان میں میرے سب سے بڑے محسن اور مددگار ہیں۔ ان کے علاوہ میڈی کیئر ہسپتال ملتان کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن ممتاز، معروف ماہر امراض نوزائدگان ڈاکٹر احمد اقبال قدوسی اور سابق ڈین چلڈرن ہسپتال ملتان پروفیسر مختار حسین بھٹی کا بھی میں تہہ دل سے ممنون ہوں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں میرا ساتھ دیا اور میری رہنمائی کی ۔
جاتے ہوئے کچھ باتیں میں اپنے چاہنے والوں کے گوش گزار کرنا اور کچھ غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہیں کہ میں شاعر اور کمیونسٹ ہونے سے پہلے ایک طبی ماہر ہوں اور بہت پریکٹیکل آدمی ہوں۔ میں نظریاتی طور پر ترقی پسند ہوں اور سماج کی معاشی بدحالی کو تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ سمجھتا ہوں ۔ میں یاسیت پسند اور مایوس انسان ہرگز نہیں ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ملتان مسلسل شکست و ریخت کے باوجود آگے بڑھے گا اور جنوبی پنجاب کے مظلوم، پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات ایک دن جدید طبی سہولیات سے بہرہ ور ضرور ہوں گے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں بسلسلہء روزگار اور شدید مجبوری کے عالم میں ملتان چھوڑ رہا ہوں اور مجھے اپنے شہر سے کوئی شکوہ یا شکایت ہرگز نہیں ہے ۔ ملتان شہر یا میری دھرتی کا میرے حالات ابتر کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔
ایک اور بات کہ مجھے دوست ہمیشہ خاموش رہنے کی نصیحت کرتے ہیں، ان کے نزدیک میری صاف گوئی میری مشکلات میں اضافہ کرتی ہے اور میں ہمیشہ بحرانوں میں گھرا رہتا ہوں۔ تو عرض یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ میں نے بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور، نشتر ہسپتال ملتان، آغا خان ہسپتال کراچی اور شوکت خانم ہسپتال لاہور میں کئی سال کام کیا ہے، آپ وہاں کام کرنے والے میرے ساتھیوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ سر جھکا کر کام کیا ہے، سب کو عزت دی ہےاور میری اپنے کسی بھی سینئریا جونیئر ساتھی سے کبھی کوئی تلخ کلامی تک نہیں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ایک صلح جو، حالات کے مطابق ڈھل جانے والا اور لحاظ دار انسان ہوں اور دیے گئے ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ اس کے باوجود میں ان کی نصیحت کو سرآنکھوں پر رکھتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ میں خود کو اخلاقی لحاظ سے بہتر کرنے کی کوشش کروں گا۔
میری سوشل میڈیا پوسٹس، تحاریر اور ویڈیوز کچھ اداروں کو بری لگتی تھیں، اس لیے وہ میں نے کئی ماہ پہلے حذف کر دی تھیں ۔
اب ”گردوپیش” میں چھپنے والے میرے کالمز بھی کچھ دوستوں کی طبیعت پر گراں گزر رہے ہیں اور مجھے زبان بندی کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ اس مشورے پر بھی میں ضرور غور کروں گا لیکن ایک انسان سب کو خوش نہیں رکھ سکتا۔ میں اپنے کالمز میں اپنے اکثریتی نچلے اور پسے ہوئے طبقے کی بات کرتا ہوں، جو میری تحاریر کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے چند لوگوں کی خوشنودی کی خاطر یہ سلسلہ شاید فی الحال میں بند نہیں کر سکتا، جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔
جب انسان پر برا وقت آتا ہے تو اس میں سب کو برائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ میرے کچھ اپنوں کا ایک جملہ جس نے مجھے سب سے زیادہ دکھ دیا ہے وہ یہ ہے کہ میں بےراہروی کا شکار ہوں، شاعری اور شراب میں ڈوب چکا ہوں اور رائج الوقت مذہب اور معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کا منکر ہو گیا ہوں۔ یہ محض الزامات ہیں اور ملتان چھوڑنے سے پہلے میں ان کی پرزور تردید کرتا ہوں۔ میں مادہ پسند ہوں اور مذہب یا روحانی عقائد کو اپنا ذاتی معاملہ سمجھتا ہوں اس لیے ان کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ سکتا۔ ہمارے ہاں ہر بات میں مذہبی ٹچ دینے کی روایت ہے اور لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں بھی یہ ٹچ دوں، یہ میں نہیں کر سکتا، اس پر بھی معذرت۔
میری سماجی تنہائی کے باوجود ملتان میں رضی الدین رضی بھائی نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور ہر روز مجھ سے رابطے میں رہے، ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ملتان میں قیام کے دوران رضی الدین رضی نے گردوپیش پبلیکیشنز کے پلیٹ فارم سے میری شاعری کی کتاب "حیرت کدے میں حیرت” چھاپ دی جس کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کا تمام تر سہرا رضی بھائی کے سر ہے۔
آخر میں بیسٹ کیئر ہسپتال اور میڈی کیئر ہسپتال کے جونیر ڈاکٹرز اور نرسز کا بھی میں بےحد شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے بےپناہ عزت اور محبت دی۔ اس بار میرا واپسی کا ارادہ نہیں ہے لیکن قسمت میں ہوا تو پھر ملاقات ضرور ہو گی۔ مجھے امید ہے کہ تمام دوست ہمیشہ میرے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔
فیس بک کمینٹ

