آج سے دس سال پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ایک کتاب شائع کی، نام تھا ’’ادھوری یادیں‘‘۔ یہ کتاب دراصل شیخ مجیب الرحمٰن کی چار نوٹ بکس پر مشتمل یادداشتوں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1967 میں جیل میں قید کے دوران قلمبند کیں ۔اِس کتاب کا بہترین حصہ و ہ ہے جو شیخ مجیب نے نہیں لکھا بلکہ اُن کی سیاسی زندگی کا خاکہ ہے جو کتاب میں ابتدائیے کے طور پر موجود ہے ، اِس خاکے کا مصنف کوئی نہیں کیونکہ اِس حصے میں(غالباً) ناشر نے شیخ مجیب کی زندگی سے متعلق فقط حقائق اکٹھے کردئیے ہیں تاکہ قاری کو سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہ کتاب گزشتہ کئی برس سے میری لائبریری میں موجود ہے ، جب بھی دسمبر کا مہینہ آتا ہے ، میں اِس کتاب سے گرد جھاڑتا ہوں،اُس کےورق پلٹتا ہوں ، شیخ مجیب کی زندگی کا سیاسی خاکہ پڑھتا ہوں اور واپس رکھ دیتا ہوں۔آج اسی حصے میں سے کچھ حقائق یہاں اکٹھے کیے ہیں تاکہ ہمارے دماغ میں ملک ٹوٹنے کی جو بھولی بسری داستان ہے وہ تازہ ہوجائےاور نوجوان یہ جان سکیں کہ جس شیخ مجیب کو ہم ’مغالطہ پاکستان‘ میں غدار سمجھتے تھے ، کیا واقعی وہ اِس لقب کا حقدار تھا یا اصل غدار کوئی اور تھا!
یہ بات شایدکم لوگوں کے علم میں ہو کہ شیخ مجیب نے اپنے چھ نکات پہلی مرتبہ لاہور میں پیش کیے تھے ۔5 فروری 1966 کو لاہور میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس ہوا جہاں مجیب نے اپنا چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔اگلے ماہ شیخ مجیب عوامی لیگ کے صدر منتخب ہوگئے جس کے بعد انہوں نے چھ نکات کے لیے عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کی غرض سے ملک گیر مہم شروع کی۔1968 میں حکومت پاکستان نے مجیب اور چونتیس بنگالی سول و فوجی افسروں کے خلاف بدنام ِزمانہ اگرتلہ سازش کیس دائر کیا جس میں شیخ مجیب کو مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ، اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کی سازش کی ہے ۔اِس کیس کی کاروائی زیادہ آگے نہ بڑھ سکی، مشرقی پاکستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جنہیں کچلنے کے لیے حکومت نے دفعہ 144 نافذ کی مگر حالات قابو میں نہ آسکے جس کے بعد مظاہرین پر براہ راست گولیاں بھی چلائی گئیں ،نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت آگئی ۔بالآخر حکومت کو مظاہرین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور جو اگرتلہ سازش کیس بڑے طمطراق کے ساتھ دائر کیا گیا تھا وہ ایک ہی سال کے اندر نہایت شرمندگی کے ساتھ حکومت کو واپس لینا پڑا ۔
1970 کے عام انتخابات کا اعلان ہوا تو عوامی لیگ نے بھی اُن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ، 7 جون کو ریس کورس گراؤنڈ میں شیخ مجیب نے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اُن کی جماعت چھ نکات کی بنیاد پر ہی انتخاب لڑے گی لہذا عوام چھ نکات کو ذہن میں رکھ کر انہیں ووٹ دیں۔اِس سے واضح ہوتا ہے کہ چھ نکات پہلے دن سے مجیب الرحمٰن کی انتخابی مہم کا حصہ تھے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جنرل یحییٰ نے اِن نکات کو کبھی پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی ۔بہرحال ،7 دسمبر کو پورے ملک میں پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات ہوئے جن میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 169 میں سے 167 نشستیں جیت لیں اور یوں وہ متحدہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ۔3 جنوری 1971 کو مجیب نے ریس کورس گراؤنڈ میں عوامی لیگ کے ارکان سے حلف لیا کہ وہ چھ نکات کی بنیاد پر ہی آئین کا ڈھانچا تشکیل دیں گے ۔5 جنوری کو مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹونے مرکز میں عوامی لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر رضا مندی ظاہر کی ۔اِس ضمن میں 27 جنوری کو دونوں جماعتوں کے سربراہوں کی ڈھاکہ میں ملاقات ہوئی مگر تین دن جاری رہنے والے اِن مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔بالآخر 13 فروری کو صدر یحییٰ نیند سے بیدار ہوئے اور انہوں نے نو منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ کو ڈھاکہ میں طلب کرلیا۔یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا ،اِس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے 15 فروری کو قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں اقتدار وہاں کی اکثریتی جماعتوں کو سونپ دیا جائے۔ عوامی لیگ کی جانب سے اِس اعلان کا بہت سخت رد عمل سامنے آیا اور شیخ مجیب نے اِس مطالبے کو غیر منطقی قرار دے کر کہا کہ ’اب طاقت کا منبع مشرقی پاکستان کے عوام ہیں۔‘یکم مارچ کو صدر یحییٰ نے اچانک قومی اسمبلی کا بلایا گیا اجلاس ملتوی کردیا جس پر مشرقی پاکستا ن میں ہیجان برپا ہوگیا اور مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا، عوامی لیگ نے 3 مارچ کو پورے ملک میں ہڑتال کی کال دے دی جس پر مشرقی پاکستان کے عوام نے لبیک کہا، کامیاب ہڑتال کے بعد شیخ مجیب نے صدر یحییٰ سے مطالبہ کیا کہ انتخابات کے نتائج کی روشنی میں اقتدار فوری طور پر اُن کی جماعت کو منتقل کیا جائے ۔7 مارچ کو شیخ مجیب نے اپنی مشہور زمانہ تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ اب یہ جدو جہد غلامی سے آزادی کی جدو جہد ہے، اِس تقریر کے آخر میں انہوں نے جیو بنگلہ کا نعرہ تو لگایا مگر جیو پاکستان بھی کہا۔
تاریخ کو کھنگالا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس دن صدریحییٰ نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیااُس کے بعد عملاً 7 مارچ کو مشرقی پاکستان پر حکومت کی رِٹ ختم ہوگئی اور وہاں شیخ مجیب کا حکم لاگو ہوگیا۔ کتاب کے الفاظ میں لکھوں تو ’ایک جانب یحییٰ خان کے احکاما ت تھے اور دوسری جانب 32 نمبر سڑک،دھان منڈی سے جاری کردہ مجیب الرحمٰن کی ہدایات تھیں۔ پوری قوم نے مجیب الرحمٰن کی ہدایات پر عمل کیا۔ہر ادارے بشمول سرکاری دفاتر، عدالتوں،بیمہ کمپنیوں،اسکولوں،کالجوں،ملوں،فیکٹریوں نے ان کے احکام کی تعمیل کی۔ ان کی اپیل پر بنگلہ دیش کے عوام نے جس بھرپور رد عمل کا مظاہر کیا ، اس کی نظیر اس خطے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔در حقیقت مجیب الرحمٰن نے 7 مارچ سے 25 مارچ تک ایک آزاد بنگلہ دیش پر حکمرانی کی۔‘اِس کے بعد مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اُس آپریشن کی مخالفت میں مغربی پاکستان سے کوئی آواز نہیں اٹھی(اکا دکا استثنیٰ تو بہرحال ہوتے ہی ہیں )۔26 مارچ کی رات ساڑھے بارہ بجے شیخ مجیب الرحمٰن نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کردیا، اسی دن جنرل یحییٰ نے اپنی تقریر میں عوامی لیگ پر پابندی عائد کرتے ہوئےشیخ مجیب الرحمٰن کو غدار قرار دے دیا۔ 16 دسمبر 1971 کو یہ ڈراما اُس وقت اپنے منطقی انجام کو پہنچا جب ڈھاکہ کے ریس کورس میدان میں جنرل نیازی نے بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈالے اور شکست کی ذلت آمیزدستاویز پر دستخط کیے۔شیخ مجیب اُس وقت پاکستان کی قید میں تھےجن کو شدید عالمی دباؤ کے تحت بالآخر 8 جنوری کو رہا کرنا پڑا۔رہائی کے فوراً بعد مجیب الرحمٰن لندن گئے ،وہاں برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کی اور پھر براستہ دلی ،ڈھاکہ واپس آئے ۔دلی میں بھارتی صدر اور وزیر اعظم نے ہوائی اڈے پر اُن کا استقبال کیا ، 10 جنوری کو وہ ڈھاکہ پہنچےجہاں سے ائیر پورٹ سے سیدھا ریس کورس گراؤنڈ گئے اور عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ 12 جنوری 1972 کو شیخ مجیب الرحمٰن نے بنگلہ دیش کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
میں جب بھی سن ستّر اور اکہتر کے واقعات کو تسلسل کے ساتھ پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ جس شیخ مجیب کو ہم غدار کہتے تھے اُس کا آخر قصور کیا تھا؟ کیا پاکستان کے عوام نے اسے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب نہیں کروایا تھا اور کیا جمہوریت کے اصول کے مطابق اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ اگر اِن باتوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر میں ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ شیخ مجیب کو کس منطق کے تحت ہم غدار کہتے ہیں!
(گردوپیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

