Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, اپریل 22, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جنم ، قلم اور اظہار الم : غلام دستگیر چوہان کی یاد نگاری
  • اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں اور غیر یقینی صورتِ حال : جے ڈی وینس آج پاکستان روانہ ہوں گے
  • امن معاہدہ کی طرف بڑھتے ہوئے فریقین کی لاچاری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر قبضے کا دعویٰ
  • تیل اور گیس کے نئے ذخائر : عوام کے چولہے پھر بھی ٹھنڈے : شہزاد عمران خان کی خصوصی رپورٹ
  • ایران کا ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہتھیار : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
  • ناروے سے مفرور ، اسلام آباد میں امریکی نائب صدر کا استقبال کرنے پہنچ گیا : سید مجاہد علی تجزیہ
  • امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»الیاس کبیر»الیاس کبیرکی یاد نگاری:حبیب الرحمٰن بٹالوی،”ایک اور زاویے سے آسماں لگتا ہے”
الیاس کبیر

الیاس کبیرکی یاد نگاری:حبیب الرحمٰن بٹالوی،”ایک اور زاویے سے آسماں لگتا ہے”

ایڈیٹرفروری 5, 2024109 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

حبیب بٹالوی صاحب سے تعلقِ خاطر ربع صدی تک محیط ہے۔ یعنی پچیس برس اور کسی انسان کی زندگی میں پچیس برس زیست کا ایک بڑا حصہ ہوتا یے۔ حاصلات، ممکنات اور لاحاصلی و لایعنیت کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک پر مشرف آمریت کے گہرے سائے منڈلا چکے تھے۔ آمرانہ جبر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اینٹھتا پھر رہا تھا۔ روشن فکر لوگوں کے بولنے، سوچنے اور لکھنے پر براہ راست قدغن تو نہیں تھی لیکن خوف و دہشت کی فضا بہرکیف موجود تھی۔ قلب و نظر سے عاری کھلے بندوں پھر رہے تھے۔ گویا:
ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
انہی دنوں حرف و معنی کی جستجو اور فکرِ معاش مجھے ہزاروں سالہ قدیمی شہر ملتان کھینچ لائی۔ فکرِ دنیا میں سر کھپانے کے لیے اس کے گلی کوچوں میں کشاں کشاں پھرتا رہا۔ پرہلاد کے اس شہر کے در و بام سے کہنگی جھلکتی اور تاریخ ورق پلٹتی ہے تو کتنے ہی دلکش منظر اور کتنے ہی باصفا لوگوں کے چہرے جلوہ ریز ہوتے ہیں۔ انہی منظروں اور چہروں کے درمیان ایک روشن، معصوم اور طمانیت بھرا چہرہ حبیب بٹالوی کا بھی دکھائی دیتا ہے۔ دراز قامت، منحنی جسامت، درویشانہ عجز و انکسار اور خلوص و للہیت کی مجسم تصویر۔ یہ سب خصوصیات بظاہر نحیف و نزار شخص کی نمائندگی کرتی ہیں لیکن یہی چیزیں کسی صاحبِ کردار فرد کے لیے سب سے بڑی ڈھارس بھی ہے۔
گرمیوں کے دن تھی اور سورج کا سبھاؤ کچھ زیادہ ہی بھاؤ کھا رہا تھا۔ دارِ بنی ہاشم پہنچا تو وسیع دالان میں موجود لسوڑی کے درخت کے نیچے بان کی چارپائی پر سید عطاء المحسن بخاری (خدا ان کی لحد کو نور سے بھر دے) براجمان تھے۔ انہی کے ساتھ حبیب بٹالوی کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ دھان پان سی جسامت اور نستعلیق مزاج کے بموجب وہ اپنی ہی وضع کے نہایت منفرد شخص دکھائی دیے۔ ان سے علیک سلیک ہوئی تو وہ نہایت دھیمے مزاج اور دوستی میں عزت آمیز احترام دینے کے متمنی دکھائی دیے۔ انھیں دیکھتے ہی جوش کا یہ شعر ذہن میں گونجنے لگا۔
بہت جی خوش ہوا اے ہم نشیں کل جوش سے مل کر
ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں
اور وہ واقعی اگلی شرافت کا ایک مثالی نمونہ تھے۔ جن میں چاہے جانے کی ایسی خصوصیت مجتمع تھی جو اب ناپید ہے۔ اگر آج کہیں "شرافت” دکھائی بھی دے تو اس میں شر اور آفت کی آمیزش ہوتی ہے۔ حقیقی شرافت اب چنیدہ لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے۔
یہ حبیب بٹالوی سے پہلی ملاقات تھی۔ عام طور پر پہلی ملاقات یادگار بھی ہو سکتی ہے اور سرسری بھی۔ جس کے نقوش تادیر بھی رہ سکتے ہیں اور فوراً طاقِ نسیاں میں بھی چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ یکسر مختلف تھا۔ ایسے تعلق کی نیو اٹھائی گئی جس نے دو دہائیوں سے زائد تک رہنا تھا۔ اس ملاقات کے نقوش ہمیشہ کے لیے دل و دماغ پر نقش ہو گئے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ملتان ایسے محبتی شہر کے مکین تھے۔ اگرچہ وہ بٹالہ سے آئے تھے اور بٹالہ کی مٹی سے انھیں انس اور اپنائیت بھی بہت تھی اور بٹالہ کو اپںے نام کا حصہ بھی بنایا تھا لیکن اب ان کی تحریر و تقریر کی توجہ کا مرکز ملتان ہی تھا۔ یہاں کی زمینی مہک انھیں مہکائے ہوئے تھی اور وہ اسی کی مہر و وفا میں رچے بسے دکھائی دیتے تھے۔ ہمارے ارشد ملتانی نے شاید ایسے لوگوں کے بارے میں ہی کہا تھا:
ڈھونڈے سے بھی نہ پاؤ گے ارشد جہاں میں
خوئے وفا و مہر جو ملتانیوں میں ہے
حبیب بٹالوی سے دوست داری مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔ قریب قریب روزانہ کی بنیاد پر ان سے ملاقاتیں رہتیں۔ ان ملاقاتوں میں ملتان کا ادبی منظرنامہ زیر بحث آتا، کبھی سیاست کی غلام گردشوں میں بھٹکتے کرداروں کو بے نقاب ہوتے دیکھا جاتا۔ کبھی ان کی تخلیقات کا ذکر چل نکلتا تو میں انھیں کتابی صورت میں لانے کے لیے اصرار کرتا۔ وہ پس و پیش سے کام لیتے، اور کسی اور دن کے لیے اسے موقوف کر لیتے۔
وہ تعلق نبھانا جانتے تھے اور تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی مختلف خوش نمائیاں کرتے رہتے تھے۔ کسی دوست کی خوشی اور غم کو اپنے اندرون تک محسوس کرتے تھے۔ یہ اپنائیت کی ایسی خصوصیت ہے جو بہت کم لوگوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ میں 2009ء میں جب رشتہءازدواج سے منسلک ہوا تو وہ طویل سفر کرکے خصوصی طور پر میرے گاؤں میراں پور (میلسی) تشریف لائے۔ یہ بہرحال میرے لیے نہایت خوش کن اور یادگار لمحہ تھا۔
15مارچ 2022ء کو میرا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا اور جب حبیب بٹالوی کو خبر ہوئی تو وہ فوراً بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچے۔ پھولوں کے ساتھ ہمت و حوصلہ دیا۔ میں جب تک ہسپتال میں رہا وہ روزانہ کی بنیاد پر وہاں آتے رہے۔ اور بعد ازاں انھوں نے معمول بنا لیا تھا کہ ہر اتوار کو گھر تشریف لاتے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ میرے علاج سے متعلقہ لوازمات اپنے ہمراہ لائیں اور ایسا ایک آدھ بار نہیں بلکہ بار بار ہوا۔ یہ سب ان کے مزاج کا وصفِ خاص تھا کہ انھیں دوستوں پر بے دریغ خرچ کرنے میں سرشاری ہوتی تھی۔ ایسی سرشاری جو کسی لوث اور تمنا کے بغیر تھی۔ اس کے علاوہ وہ اپنے کسی دوست کو مجھ سے ملاتے تو ان کی خوشی دیدنی ہوتی۔ اسی دوران وہ جب بھی تیمار داری کے لیے گھر تشریف لاتے تو کبھی کبھار ان کا کوئی عزیز ترین دوست بھی ان کے ساتھ ہوتا۔ وہ رضی الدین رضی، عبدالعزیز بلوچ اور مستحسن خیال کو کئی بار اپنے ہمراہ لائے ۔
وہ باقاعدگی سے ادبی تنظیموں بالخصوص سخن ور فورم کے اجلاسوں میں بھی شریک ہوتے رہے اور اپنی تخلیقات پیش کیں۔ اسی فورم کے اہتمام سے رضی الدین رضی اور شاکر حسین شاکر نے ان کی کتاب "ماں اور مامتا” کی تقریب پذیرائی بھی منعقد کی تھی۔ رضی نے فورم کے اجلاسوں میں شریک ہونے والے اہل قلم کا تعارفیہ”سخن وارانِ ملتان” کے عنوان سے کتابی سلسلہ شروع کیا تو اس کی پہلی جلد میں بھی حبیب بٹالوی کے حوالے سے محبت سے لکھا۔
حبیب بٹالوی نے مختلف تعلیمی بورڈذ میں ملازمت کی۔ پہلے پہل وہ لاہور بورڈ سے منسلک ہوئے، بعد ازاں ملتان بورڈ میں اہم عہدوں پر تعینات رہے۔ ایسی پوسٹوں کے لیے بعض لوبھ پسند "لُندھے” لوگ ہلکان ہوئے پھرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے کبھی بھی یہاں سے "کسبِ فیض” نہیں کیا۔ جب دیکھا کہ ہر سمت بے طرح بدعنوانی عام ہوگئی ہے اور دیانت داری سے کام کرنا مشکل تر ہو رہا ہے تو قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر ملازمت کا طوق گلے سے اتار پھینکا۔ اس روز وہ بہت زیادہ ہشاش بشاش تھے۔ ایسے لوگ اب خال خال ہی ملتے ہیں جوحقیقی معنوں میں رزقِ حلال کو عین عبادت سمجھتے ہوں۔
ان کا پسندیدہ میدان تو تدریس تھا، ایسا نہ ہو سکا تو انتظامی مصروفیات سے وابستہ ہو گئے لیکن ان کا یہ عشق ماند نہیں پڑا۔ چنگاری دبی رہی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ چنگاری شعلہء جوالہ بنی تو وہ ملتان کے ایک نجی کالج سے وابستہ ہو گئے اور یہاں علم کے چراغ اس طور روشن کیے کہ طلبا ان کی تدریس سے بسمل ہوئے۔ وہ ایسے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے جو تدریس کو حقیقی معنوں میں مقدس پیشہ سمجھتے ہیں۔ محض تنخواہ وصول کرنے کی ملازمت نہیں۔ ان کے نمایاں ہونے والے شاگردوں میں سے ایک طالبہ حریم طارق بھی ہے جو ان سے بہت متاثر ہوئیں۔ کیوں کہ انھیں اپنے اس استاد سے والد جیسی شفقت اور احترام نصیب ہوا۔ انھوں نے اپنے استاد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک کتاب "حق ادا نہ کر سکیں گے” بھی لکھی۔ یہ ایک طالب علم کی طرف سے اپنی نوعیت کی اہم کتاب ہے۔ حریم اگرچہ میڈیکل کی طرف گئیں لیکن شعر و ادب کا پِنڈ نہ چھوڑا۔ آج وہ نشتر ہسپتال میں ڈاکٹر بن کر استاد سے کسب فیض کی بدولت انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ افسانے اور روزانہ کی بنیاد پر ڈائری بھی لکھ رہی ہیں۔
شگفتگی اور برجستگی حبیب بٹالوی کے مزاج میں شامل تھی۔ وہ سیاسی منظرنامے اور سیاست دانوں کے مضحکہ خیز بیانات کو مزید استہزائیہ بنانے کا فن جانتے تھے۔ ان کے مزاج میں یہ بذلہ سنجی اور برمحل جملگی ذوالکفل بخاری مرحوم ( جنھیں ہم استاد جی کہتے تھے۔ خدا ان کی روح کو ہمیشہ آسودہ رکھے) کی محفلوں کے مرہون تھا۔
حبیب بٹالوی میں ایک نمایاں خوبی صاف گوئی اور معاملہ فہمی تھی۔ انھوں نے عمر بھر کسی سے ناانصافی نہیں کی اور معاملاتِ حیات نہایت دیانت داری اور ایمان داری سے انجام دیے۔ نیک نیتی سے اپنی اولاد کی اچھی تربیت کی۔ انھیں سرد و گرم چشیدہ بنایا۔ انسان دوستی سکھائی کہ وہ عمر بھر اسی کے پرچارک رہے تھے۔ ان کے فرزند ادیب الرحمن میں بھی وہی خوبیاں عود کر آئی ہیں جو ان کے والد میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان میں بھی اپنے والد کا عکس نظر آتا ہے۔
حبیب بٹالوی نے لکھنے کا آغاز ادبی تقریبات اور مشاعروں کی رودادوں سے کیا۔ جن کی ایک زمانے میں خاصی شہرت رہی۔ ایسی ہی ایک یادگار اور معرکہ آرا روداد پڑھ کر ملتان کے نظم گو شاعر پروفیسر تاثیر وجدان بوجوہ چیں بہ جبیں ہوئے تھے۔ لیکن جلد ہی ان کی جبیں شکنوں سے آزاد ہوگئی تو حبیب نے ان سے پہلی جیسی "حبیبیائی” جاری رکھی۔ یہ ان کا خاص انداز تھا کہ وہ کسی سے خفا نہیں ہوتے تھے۔ شاید ان کے خمیر میں خفگی کے عناصر اور لغت میں بے اعتنائی کے الفاظ تھے ہی نہیں۔ کیوں کہ انھیں اپنے نام کا پاس رکھنا خوب آتا تھا۔
ان کی پہلی تصنیف "ہر قدم روشنی” کے عنوان سے شائع ہوئی۔ یہ حج کا سفرنامہ ہے۔ لفظیات، اسلوب اور زبان و بیان کی بدولت اسے بلا مبالغہ ملتان میں تقدیسی سفرناموں کی روایت میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ محبت آمیز احترام اور جذباتی لگاؤ اس کتاب کا خاص رنگ ہے۔
مختلف اصنافِ سخن سے ہوتے ہواتے حبیب صاحب شاعری کے خارزار میں اترے اور پابند اور آزاد نظم کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔ پہلے مجموعے "چمنِ خیال” کی پذیرائی ان کے تخلیقی وفور کے لیے مہمیز ثابت ہوئی اور وہ اردو اور اپنی ماں بولی پنجابی میں شعر کہتے رہے۔ اس دور میں ان کا ایک پنجابی شعر خاصا زیر بحث رہا:
بارہ مُولا مری وچ ٹھنڈیاں ہواواں نیں
گرمی دا مزہ لیں مولتان چلیے
اس دوران انھوں نے شخصی مضامین اور کہانیاں بھی لکھیں جنھیں”خاکہ کہانی” کے عنوان سے منظر عام پر لائے۔ ان کی کہانیوں میں سماجی کرب، انسان دوستی اور بے درد دردمندی دکھائی دیتی ہے۔ شخصی مضامین میں لگی لپٹی بغیر دو ٹوک اندازِ بیاں پڑھنے کو ملتا ہے۔ گزشتہ برس ان کا دوسرا مجموعہ "بادل، بارش اور ہوا” شائع ہوا۔ اپنے موضوع، اسلوب اور مواد کے حوالے سے دیکھا جائے تو اسے "چمنِ خیال” کی توسیع کہا جا سکتا ہے۔
کسی بھی فرد کی اپنی ماں سے محبت اور جڑت فطری جذبہ ہے۔ اس سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حبیب بٹالوی کو بھی اپنی ماں سے جذباتیت سے مملو محبت تھی۔ اس جذبے کا انھوں نے مضامین اور نظموں میں اظہار کیا۔ اس ضمن میں ان کی دو کتابیں "ماں اور مامتا” اور "ماں کی اشکوں بھری کہانی” ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ ان کتابوں میں ان کے علاوہ دیگر مشاہیرِ ادب کی تحریریں بھی شامل ہیں۔
حبیب بٹالوی اگرچہ ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کی قبیل کے آدمی اور ان دونوں سے بہت متاثر اور ان کی تحریروں کے اسیر و قتیل تھے لیکن تمام عمر ہنگامہ خیزی سے دور رہے۔ وہ دراصل صلح جو آدمی تھے اور صلہ و ستائش کی پروا کیے بغیر خاموشی سے کام کرتے رہے۔ ان کا ایک اہم اور محنت طلب کام "خطباتِ شورش کاشمیری” کی یکجائی ہے۔ اس کے لیے انھوں نے نہایت محنت سے شورش کے خطبات کو آڈیو کیسٹ سے ضابطہء تحریر میں لائے۔
"مترادف ضرب الامثال” حبیب بٹالوی کا تحقیقی نوعیت کا نہایت اہم کام ہے۔ اس میں انھوں نے مختلف ضرب الامثال کی اردو، انگریزی، عربی، فارسی اور پنجابی مثالیں یکجا کر دی ہیں۔ یعنی ایک ہی ضرب المثل کو مختلف زبانوں میں کیسے پیش کیا جاتا ہے۔
تین ماہ قبل میں نے انھیں کہا کہ "خاکہ کہانی” میں سے خاکے الگ کر دیں کیوں کہ اس طرح ایک ہی کتاب میں خاکے دب گئے ہیں۔ اور اس کتاب کے بعد لکھے گئے نئے خاکے بھی اس میں شامل کر دیں اور اسے دربارہ شائع کرائیں۔ میری اس تجویز سے بہت خوش ہوئے۔ وہ دوستوں کے مشورے، تجاویز اور آرا کو بہت احترام دیتے تھے۔ سو انھوں نے اسے کتابی صورت میں لانے کا اہتمام شروع کر دیا اور کمپوزنگ شروع کرا دی۔ ایک دن گھر آئے تو مجھ پر لکھا گیا ایک خاکہ بھی ہمراہ لائے اور کہا کہ اب کتاب مکمل ہو گئی ہے۔ میں نے پس و پیش کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ خاکہ شامل ہوگا تو کتاب چھپے گی ورنہ کبھی نہیں چھپے گی۔ مجبوراََ مجھے خاموش رہنا پڑا۔ کتاب کا نام "قلمی تصویریں” منتخب ہوا تو میں نے اس کا سرورق بنا دیا۔ کیوں کہ ان کی خواہش ہوتی تھی کہ میں ہی ان کی کتابوں کے سرورق بناؤں اور ان کی اکثر کتابوں کے سرورق میں نے ہی بنا رکھے ہیں۔ "قلمی تصویریں” طباعت کے لیے تیار ہو گئی لیکن انھوں نے عقبیٰ سدھارنے کی تیاری کر لی اور داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔
"قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارہ”
یہ کتاب ان کی زندگی میں تو شائع نہیں ہو سکی۔ اب ان کی شاگرد عزیز ڈاکٹر حریم طارق اور ہم سب کی خواہش اور کوشش سے یہ کتاب بہت جلد منظر عام پر آئے گی۔ کیوں یہ قلمی تصویریں انھوں نے دل کے فریم میں سجا رکھی تھیں، سو اس فریم کو سامنے تو آنا چاہیے۔
فی زمانہ کہ جب ہر سمت للک اور لوبھ نے انسان کی توقیر ذرہ برابر بھی نہیں رہنے دی۔ کچھ لوگ اپنے دو رویاء رویوں کی وجہ سے دور سے شناختے جاتے ہیں۔ اپنے کردار و عمل سے بوزنے اور بونے ہو گئے ہیں، اسی زمانے میں ہمارے آس پاس حبیب بٹالوی جیسے بلند انسانی رویوں کی وجہ سے آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے شاید ان کے بارے میں بہت پہلے کہہ رکھا تھا:
‘ایک اور زاویے سے آسماں لگتا ہے”

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleپاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے
Next Article پی سی بی کے نئے چیئرمین کا انتخاب کل، محسن نقوی مضبوط امیدوار
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم

اپریل 22, 2026

امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 22, 2026

جنم ، قلم اور اظہار الم : غلام دستگیر چوہان کی یاد نگاری

اپریل 21, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم اپریل 22, 2026
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 22, 2026
  • جنم ، قلم اور اظہار الم : غلام دستگیر چوہان کی یاد نگاری اپریل 21, 2026
  • اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں اور غیر یقینی صورتِ حال : جے ڈی وینس آج پاکستان روانہ ہوں گے اپریل 21, 2026
  • امن معاہدہ کی طرف بڑھتے ہوئے فریقین کی لاچاری : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 21, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.