سابقہ سیاسی ادوار میں صحافیوں کے سیاستدانوں سے ذاتی تعلقات اور مراسم ہوتے تھے۔ ملتان کے نامور صحافیوں میں مسعود اشعر، ایثار راعی، ولی محمد واجد، خان رضوانی، بعد میں نوجوانوں میں نذیر بلوچ، روف کلاسرا، مظہر جاوید اور کئی کہنہ مشق صحافیوں نے عرق ریزی کر کے جنوبی پنجاب کےسیاسی گھرانوں کو نمایاں کیا ، وہ اکثر و بیشتر ٹھنڈی سڑک پر ” Kaswar Lodge”پر جمع ہوتے جسے مولانا بھاشانی نے سرخ بسیرا بنایا اور بلوچ رہنماوں نے ” بلوچستان ہاوس“ قرار دیا آج انوع و اقسام کے کمرشل بلڈنگز
قسور گردیزی روڈ پر ہیں ۔ یہ میرے والد قسور گردیزی کی یادگارتصاویر میں سے ایک ہے ۔ مظہر جاوید صاحب نے تصدیق کی کہ یہ وہاڑی کے حافظ عبدالخالق صاحب ہیں جو روزنامہ جسارت کے ملتان میں نمائندے تھے ۔ بعد ازاں انہوں نے اسلام آباد جا کر پہلی اردو نیوز ایجنسی این این آئی کی بنیاد رکھی ۔
فیس بک کمینٹ

