چند دن پہلے کی بات ہے، پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک شخص اپنی بیوی کے ہمراہ کچھ خریداری کر رہا تھا کہ وہاں اسے ایک اجنبی ملا، اجنبی نے مسکرا کر دونوں کا حال احوال پوچھا، میاں بیوی نے جھجکتے ہوئے اسے جواب تو دیا مگر استفہامیہ نظروں سے دیکھتے رہے، وہ سمجھ گیا کہ دونوں اسے پہچان نہیں پائے۔ تھوڑی دیر تک وہ اُن کی اِس کیفیت سے محظوظ ہوتا رہا اور پھر قہقہہ لگا کر بولا: ”شاید آپ نے مجھے نہیں پہچانا اور پہچانیں گے بھی کیسے، دراصل ہماری کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ البتہ آپ کے بیٹے سے مختصر ملاقات ہوئی تھی جب وہ آرمی پبلک اسکول میں پڑھتا تھا، اُس وقت میں نے ہی اسے گولیوں سے چھلنی کیا تھا، بڑا پیارا بچہ تھا۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہاں کیسے؟ تو اللہ کا شکر ہے کہ حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد اب مجھے عام معافی مل چکی ہے سو میں نے سوچا آپ سے سلام دعا کر لوں، میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے گا۔“ یہ کہہ کر وہ اجنبی چھلاوے کی طرح غائب ہو گیا۔
جی نہیں، ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، یہ واقعہ میں نے ابھی ابھی گھڑا ہے۔ اور اِس لیے گھڑا ہے تاکہ وہ صورتحال ہمارے ذہنوں میں واضح ہو سکے جو طالبان سے مذاکرات کے بعد ’ڈیل‘ کے نتیجے میں پیدا ہوگی اور جس کے تحت عام معافی کے بعد انہیں شہروں میں عام لوگوں کے ساتھ بسایا جائے گا۔ ممکن ہے آپ کہیں کہ میں بہت دور کی کوڑی لایا ہوں اور جو منظر کشی میں نے کی ہے وہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے، اِس طرح ہونا ممکن نہیں۔
چلیے میں یہ بات مان لیتا ہوں۔ شاید ایسا نہ ہو۔ مگر پھر کیا ہو گا؟ اگر ایسے کوئی مذاکرات ہوئے اور اُن کا کوئی آئیڈیل نتیجہ نکلا تو وہ ممکنہ آئیڈیل نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟ یہی ہو سکتا ہے کہ ریاست کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کو عام معافی دے دی جائے گی، انہیں جیلوں میں بند نہ کیا جائے اور انہیں گھومنے کی آزادی مہیا کر دی جائے۔ یہ باتیں کسی مفروضے پر مبنی نہیں بلکہ ماضی میں کئی مرتبہ اِس قسم کی باتیں اعلیٰ سطح پر دہرائی جا چکی ہیں۔چلیے ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے کہ مذاکرات ہونے چاہئیں یا نہیں ہونے چاہئیں، ماضی میں کیا ہوا یا حال میں کیا ہو رہا ہے، ہم فقط یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اِس مرتبہ فریقین نیک نیتی سے غیر مشروط مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، سو ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں مذاکرات کرنے کا درست طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔سب سے پہلے تو ہمیں ریکارڈ درست کر لینا چاہیے۔ مذاکرات کی خواہش عموماً اُس فریق کی جانب سے کی جاتی ہے جو کمزور پڑ رہا ہو اور اسے خدشہ ہو کہ اگر اُس نے بات چیت کے ذریعے کوئی با عزت حل نہ نکالا تو مستقبل میں وہ بھی نہیں ملے گا جو آج مذاکرات کے نتیجے میں مل سکتا ہے۔ یادش بخیر، آج سے فقط دس سال پہلے تک دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا جب ملک میں دھماکہ نہ ہوتا ہو۔ اُس دہشت گردی کو فوج، پولیس اور سیکورٹی اداروں کے افسروں اور جوانوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ ختم کیا لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ ہم دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور جیتی، اُس کی مثال حالیہ تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ سو، ہمیں مذاکرات کی ضرورت نہیں، ضرورت اگر ہے تو دوسرے فریق کو ۔ آگے چلتے ہیں۔
دنیا میں مذاکرات کا بہترین ماڈل دستیاب اور وہ ماڈل کولمبیا کے پاس ہے۔ کولمبیا میں کئی سال تک گوریلا جنگ رہی، اِس جنگ میں دونوں طرف سے لوگ مارے گئے، آخر کار جب فریقین مذاکرات کے لیے راضی ہوئے تو معاملات طے ہونے میں کئی برس لگے اور اِس میں سب سے مشکل اور پیچیدہ مرحلہ وہ تھا جس میں یہ فیصلہ کیا جانا تھا کہ سویلین ہلاکتوں کی ذمہ داری کا تعین کیسے ہو گا۔ ظاہر ہے کہ گوریلا جنگجو یہ سمجھتے تھے کہ وہ ایک غیر قانونی اور باطل حکومت کے خلاف جد و جہد کر رہے ہیں جبکہ کولمبین حکومت کا کہنا تھا کہ وہ جمہوری اقدار کی محافظ ہے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ دار ہے، گویا دونوں میں سے کوئی بھی فریق خود کو غلط سمجھنے پر تیار نہیں تھا۔طویل اور تھکا دینے والے مذاکرات کے بعد سب سے پہلے یہ طے پایا کہ سب سے پہلے بے گناہ مرنے والوں کا تعین کیا جائے، اُن کے لواحقین کو معقول معاوضہ دینے کا بندو بست کیا جائے، سچ کی کھوج کی جائے اور یہ پتا چلایا جائے کہ بے گناہوں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے، اُن کے لواحقین اور بچ جانے والے زخمیوں کی حفاظت کو مکمل بندوبست کیا جائے اور یہ یقین دہانی لی جائے کہ آئندہ یہ عمل نہیں دہرایا جائے گا۔ اِس کے بعد پانچ ادارے قائم کیے گئے۔
پہلے ادارے کا کام سچ کی کھوج لگانا، حقائق کو کھنگال کر درست کرنا اور ذمہ داری کا تعین کرنا تھا۔ دوسرے ادارے کام معافی کے اہل افراد کا تعین کرنا تھا، یہ ایسا نہیں تھا کہ کسی جنگجو نے اعتراف کیا کہ اس فلاں فلاں آدمی کا قتل کیا اور پھر اسے عام معافی دے دی گئی، یہ ادارہ باقاعدہ اِس بات کا فیصلہ کرتا تھا کہ کیا معافی خواستگار اِس کا اہل بھی ہے یا اُس کا جرم اِس قدر سنگین ہے کہ اسے معافی نہیں دی جا سکتی۔تیسرے ادارے کا کام اُن افراد کی قانونی حیثیت کا تعین کرنا تھا جو معافی کے اہل نہیں تھے، گویا یہ ادارہ فیصلہ کرتا تھا کہ اُن کے خلاف قانونی کارروائی کو کیسے آگے بڑھانا ہے۔ چوتھے ادارے کا کام تفتیش اور استغاثہ کی کارروائی کرنا تھا، یہ اُن جرائم میں کیا گیا جن کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، اِس ادارے کی کارروائی کے بعد کیس کو امن ٹربیونل کی طرف بھیجا جاتا تھا جہاں مزید پانچ قسم کی درجہ بندیاں کی جاتی تھیں اور جرم اور مجرم کی سنگینی کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تھا۔
میں نے بے حد اختصار کے ساتھ یہ سارا عمل بیان کیا ہے جبکہ اِس کی جزئیات بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ اِس پورے مذاکراتی عمل کا اب آپ اِس جملے سے موازنہ کریں کہ ہمیں طالبان سے مذاکرات کر کے انہیں عام معافی دینی چاہیے اور انہیں شہری علاقوں میں بسانا چاہیے۔ اگر ہم اِس طرح مذاکرات کریں گے تو پھر نتیجہ وہی نکلے گا جو میں نے شروع میں ایک فرضی واقعے کے ذریعے بیان کیا ہے۔ بے شک دنیا میں بد ترین دشمنوں کے درمیان بھی مذاکرات ہوتے ہیں مگر اُس کا طریقہ کار وہ ہے جو کولمبیا نے اپنایا۔ ہم ایسے بھی گئے گزرے نہیں کہ وہ نہ کرسکیں جو کولمبیا نے کیا!
(بشکریہ:ہم سب)
فیس بک کمینٹ

