نصف صدی پیشتر اپنی وضع کی شخصیت شاعر اور اہل علم ازہر منیر نے میرا ایک طویل انٹرویو ’’نصف صدی کا قصہ ہے‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیا۔ اب لکھتے ہوئے ایک دہائی اور گزر گئی ہے اس دوران سینئر ادیبوں اور جونیئر ادیبوں سے میری بے تکلفی جاری رہی کہ مجھے مصنوعی سنجیدگی اچھی نہیں لگتی چنانچہ اب اپنے سے جونیئرز کے ساتھ اسی طرح فری ہو جاتا ہوں جیسے یہ جونیئر اپنے سے سینئر ادیبوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ ان دنوں میرے سمیت بس دوچار سینئر باقی رہ گئے ہیں جو مجھ سے عمر میں تین چار سال بڑے ہیں۔ ان میں افتخار عارف، کشور ناہید اور چند ایک دوسرے بھی! ان میں کچھ لاہور سے باہر دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں اور یوں ان کے ساتھ ہنسی مذاق ممکن نہیں مگر یہ موضوع میں نے اس حوالے سے چھیڑا ہے کہ ادیبوں کی عمریں عموماً بہت طویل ہوتی ہیں اگر وہ حیات ہوتے تو میں لبرٹی لیتے ہوئے کہہ سکتا تھا کہ ان کی رسی دراز ہوتی ہے میرے بہت سے ادیب دوست ایسے تھے جو صحت و سلامتی کے ساتھ ہمارے درمیان رہے جن میں احمد ندیم قاسمی، مشتاق احمد یوسفی، مرزا ادیب، مشکور حسین یاد، تابش دہلوی ، محب عارفی، اکرام اللہ توصیف، تبسم احمد سبزواری، رسا چغتائی اور بہت سے دوسرے سینئر شامل ہیں جن کے نام فی الحال یاد نہیں آ رہے۔ انڈیا میں گوپی چند نارنگ کے علاوہ اور بھی بہت سے ادیب ہیں جو درازی عمر کے حق دار ٹھہرے۔
یہ موضوع چھیڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسی مقصد سے گہرا لگائو اور قدرت کے قوانین کے علاوہ ان کی زندہ دلی بھی انہیں زندگی سے وابستہ رکھتی ہے اس حوالے سے مجھے بہت سے واقعات یاد ہیں۔ میں اورینٹل کالج میں پڑھتا تھا ان دنوں ڈاکٹر سید عبداللہ وہاں پرنسپل تھے ڈاکٹر وحید قریشی اور سید وقار عظیم میں کچھ ’’لگدی پھبدی‘‘ تھی اور وہ ایک دوسرے کے خلاف نوٹ لکھ کر سید صاحب کو بھیجتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر وحید قریشی کا وزن منوں میں اور ان کے مقابلے میں سید وقار عظیم کا وزن تولوں میں تھا۔ ایک دن ڈاکٹر سید عبداللہ نے وحید قریشی صاحب کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور کہا ڈاکٹر صاحب آپ ایسی وزنی شخصیت سید وقار عظیم ایسے دھان پان شخصیت کے خلاف خواہ مخواہ نوٹا نوٹی کرتی رہتی ہے کسی دن لغزش سے یا بہانہ بنا کر ان پر گر جائیں مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ ایک بار قریشی صاحب کا ایک سٹوڈنٹ کلاس میں پلا لے کر آ گیا اس کا کان مروڑتا وہ چوں چوں کرتا تو کلاس ہنسنے لگتی۔ قریشی صاحب ’’ملزم ‘‘کا سراغ لگاتے اس تک پہنچ گئے اور اسے مخاطب کر کے کہا ’’برخوردار اسے اپنے ساتھ دفتر کے کلرک کے پاس لے جائو تمہاری آدھی فیس معاف ہو جائے گی‘‘ اسی طرح احمد ندیم قاسمی خود بھی پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے تھے ۔ ایک دن خالد احمد سے کہنے لگے خالد تمہاری طبیعت میں اتنی جلد بازی ہے کہ میرا شعر
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا
اگر تم کہتے تو اپنی جلد بازی کی وجہ سے کچھ اس طرح کہتے
کون کہتا ہے کہ مر جائوں گا
میں تو دریا میں اتر جائوں گا
اب ذرا موضوع سے گریز کرتے ہیں ہم تو آئے روز سنتے ہیں کہ لوگ ترک وطن کر کے امریکہ اور یورپ میں آباد ہو رہے ہیں اور یہ کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ حمایت علی شاعر امریکہ میں جا بسے تھے۔ عارف عبدالمتین اپنے بیٹے کے ساتھ امریکہ میں رہنے لگے تھے۔ احمد فراز کے یار غار اور خوبصورت شاعر محسن احسان بھی لندن شفٹ ہو گئے تھے۔ ایک بہت اہم نام شان الحق حقی کا ہے وہ کینیڈا میں جا آباد ہوئے۔ ان کی عمر بھی نوے پلس تھی اورینٹل کالج میں میرے ایک استاد تھے نہایت نستعلیق، چوڑی دار پاجامہ، شیروانی سر پر ترچھی ٹوپی، ہمیں مثنوی میر حسن لہک لہک کر سنایا کرتے تھے ایک دفعہ میں نیویارک میں کار پر کہیں جا رہا تھا میں نے انہیں اسی لباس میں سڑک پار کرتے دیکھا میرا جی چاہا میں کار سے اتر کر انہیں سینے سے چمٹا لوں مگر امریکہ کی سڑکوں پر یہ ممکن نہیں تھا ۔ اب ایک بات اور! ہمارے ہم عصر بہت سے ادیبوں کے بچے امریکہ کے شہری بن چکے ہیں اب وہ اپنے والدین کو گرین کارڈ دلانے کے پراسس سے گزار رہے ہیں۔ ڈاکٹر قاسم بھاگیو امریکہ میں مطلوبہ وقت گزار کر واپس آئے ہیں اور من کی مرادیں پا چکے ہیں۔ ماشاء اللہ اب وہ گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔ ڈاکٹر نجیب جمال ڈاکٹر مظفر عباس بھی ان دنوں اسی راہ پر رواں ہیں۔ یہ اور میرےکچھ دوسرے ادیب اپنے بچوں سے سال میں دو دو بار ملنے جا رہے ہیں اور وہاں قیام بھی کرتے ہیں۔ شاید یہ دوست بھی نہ چاہتے ہوئے کہ وہ مستقل امریکہ میں قیام کریں مگر ان کے بچے انہیں اپنے پاس دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ اپنے والدین سے ان کی محبت ہے۔ میری دعا ہے میرے یہ دوست جہاں بھی رہیں، خوش رہیں اور ہم ’’پردیسیوں‘‘ کو یاد رکھیں!
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

