پنجاب کی 25سرکاری جامعات میں وائس چانسلر ز کی تقرری کے عمل میں کھمسان کا رن جاری ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حال ہی میں جامعہ زکریا سمیت صوبہ کی 11جامعات کے لیے نامزد 11امیدواروں کے انٹرویو بھی لے لیے ،قوی امکان تھا کہ جن امیداوروں کے انٹرویو لیے گئے ان ہی کو ان 11جامعات کے لیے وائس چانسلرز مقرر کیا جائے گا،لیکن تاحال تقرری کے احکامات جاری نہیں ہوسکے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا تھا اس سے ہٹ کر وائس چانسلرز کے امیدواروں کے انٹرویو لیے گئے،اس سے قبل ہر یونیورسٹی کے لیے میرٹ پر آنے والے پہلے تین امیدواروں کا انٹرویو ہوتا تھا جس میں سے وزیر اعلیٰ انٹرویو کے بعد کسی ایک امیدوار کا انتخاب کرتا تھا،اس بار یہ طریقہ کار نہیں اپنایا گیا جس سے اعلیٰ تعلیمی حلقے تحفظات کا شکار نظر آئے،اب کی بار کچھ یوں ہو ا کہ سرچ کمیٹی نے جن امیدواروں کے ناموں کی شارٹ لسٹنگ کرکے فہرست محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کو بھجوائی ان میں سے ابتدائی طور پر 11جامعات کے لیے صرف11امیدواروں کو ہی انٹرویو کے لیے منتخب کیا گیا،بعد ازاں ان 11امیدواروں کے انٹرویو طے شدہ جامعات کے لیے کیے گیے،جس کے بعد بس صرف تقرری کا نوٹیفیکیشن ہی ہونا باقی تھا،بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو میرٹ لسٹ سرچ کمیٹی نے مرتب کی تھی ،ایچ ای ڈی اور بعض بیوروکریٹس کی جانب سے اس میں بھی کچھ تبدیلی کی گئی،سرچ کمیٹی کے کنوینئر سابق بیوروکریٹ اسماعیل قریشی،جب کہ ارکان میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد اصغر،سابق بیوروکریٹ مس فرخندہ وسیم افضل اور چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر محمد امجد ثاقب شامل تھے۔
اس دوران ان 11امیدواروں اور ان کی جامعات کی مبینہ فہرست لیک ہوگئی ،جس کے مطابق جن امیدواروں کےوائس چانسلرز تعینات ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ان میں جامعہ زکریا کے لیے پروفیسر ڈاکٹر زبیراقبال ، جامعہ زکریا کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور،ڈاکٹررؤف اعظم کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد،پروفیسر ڈاکٹر نعیم کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر،ڈاکٹر شاہد منیر کو یوای ٹی لاہور،پروفیسر ڈاکٹر شجاع کو گجرات یونیورسٹی،اور پروفیسر ڈاکٹر عاقف یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے لیےشامل ہیں،اس دوران وائس چانسلرز کی تقرری کے کھیل میں اتحادی جماعتیں بھی شامل ہوگئیں،سنا ہے پیپلز پارٹی بھی پنجاب میں کچھ جامعات میں اپنی پسند کے وائس چانسلر لگائے جانے کے لیے کوشاں ہے،،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر کے لیے مسلم لیگ ن کی دو اہم سیاسی شخصیات سعد رفیق اور سردار ایاز صادق بھی میدان میں اتر آئے، پنجاب یونیورسٹی کے لیے جماعت کی دلچسپی بھی عیاں ہے۔
صورت حال کچھ اس طرح کا رخ اختیار کرگئی کہ چار جامعات جی سی یو لاہور، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور،یونیورسٹی آف گجرات،اور یونیورسٹی آف ناروال میں وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے اسامیاں دوبارہ مشتہر کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے، ًدروغ برگردن روای ً پنجاب کی جامعات کے لیے کچھ امیدوار ایسے بھی ہیں جو اس عہدے کے لیے دو سے چار کروڑ روپے خرچ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، ًدیکھیں کیا گذرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک ً
فیس بک کمینٹ

