پاکستان ریلوے تنزلی کا شکار تو ہے ہی، اب اس کے اندر اخلاقی اقدار بھی دم توڑ رہی ہیں،ریلوے ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ افسران دست بہ گریباں ہیں،فریٹ کے شعبہ میں کرپشن کی داستانیں عام ہیں،جس کی بازگشت وفاقی وزیر ریلوے کے آفس میں بھی سنی جارہی ہے،حنیف عباسی صاحب نے تو حال ہی میں وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالا ہے،گزشتہ دو برسوں سے ریلوے کا کوئی باقاعدہ وزیر موجود نہیں تھا،اس عرصہ میں ً یار لوگ کھل کرکھیلے ًبڑے لوگوں کی ا شیرباد حاصل تھی ،کرپشن کی شکایات سامنے بھی آئیں لیکن کچھ نہ ہوسکا،سنا ہے کہ موجودہ وفاقی وزیر حنیف عباسی اپنے محکمے بارے فیڈ بیک لے چکے ہیں،جس کے نتیجہ میں بعض اہم تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ریلوے میں اس وقت بھی سابق وزیر ریلوے سعد رفیق کی لابی کے لوگ اہم عہدوں پرفائز ہیں،سنا ہے کہ موجودہ وزیر ریلوے اب اپنی ٹیم بنانا چاہتے ہیں، آئندہ آنے والے دنوں میں ڈویژنل سپرنٹنڈٹنس ریلوے سمیت دیگر اہم عہدوں پر تقرر وبتادلوں کے احکامات جاری ہوسکتے ہیں، سی ای او ریلوے عامر بلوچ کو تو زبانی طور پر کہہ دیا گیاہے کہ وہ اپنی ٹیم کی تبدیلی کا جائزہ لیں،حنیف عباسی محکمہ ریلوے میں کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں(ویسے تو ہرآنے والا شروع میں یہی عزم رکھتا ہے)ابتدائی طور پر ریلوے کی تین ذیلی کمپنیوں پراکس، ریل کاپ اور فریٹ کمپنی کو ختم کیا جارہاہے،ان میں پرائیویٹ ملازمین کو واپس گھر بھیج دیا جائے گا،وہاں تعینات ریٹائرڈ ریلوے افسران سے استعفے مانگ لیے گئے ہیں، دوسرے لفظوں میں ان کو بھی ًگڈ بائے ًبول دیاجائےگا،شنید ہے کہ ریلوے کی ایک اور کمپنی ًریڈیمکو ًکے سی ای او ارشد اسلام خٹک سے بھی استعفیٰ مانگ لیا گیا ہے،ارشد اسلام خٹک گریڈ21کے آفیسر تھے اورجولائی 2023ء میں سی ای او ریلوے کے عہدے سے ریٹائر ہوئے،سعد رفیق کے قریبی افسران میں شمار تھا،ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو کنٹریکٹ پر مزید تین سال کے لیے سی ای ای ریڈیمکو مقرر کردیا گیا،اسی طرح پراکس سے ایک معروف ریٹائرڈ آفیسر خالد خورشید کنور اور دیگر افسر فارغ ہوں گے، سابق وزیر ریلوے سعد رفیق کے ایک اور بہت قریبی آفیسر گریڈ22کے سابق چیئرمین ریلوے ظفر زمان رانجھاجن کوریٹائرمنٹ کے بعد ریلوے میں سی پیک (ایم ایل ون) پروجیکٹ کا ہیڈ بنادیا گیااب ان سمیت دیگر تین ریٹائرڈ ریلوے افسران سابقہ سیکرٹری ریلوے بورڈ عبدالمالک اور سابقہ ڈائریکٹر پری کیورمنٹ سہیل قریشی سے استعفے مانگ لیے گئے ہیں ۔
ریلوے حلقوں کے مطابق مذکورہ بالا تمام افسران سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق گروپ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، اب آئیے ریلوے کے شعبہ فریٹ کی طرف چلتے ہیں جس کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کی شکایات کی بازگشت وزیر ریلوے حنیف عباسی تک بھی پہنچ گئی ہے،الزامات یہ سامنے آرہے ہیں کہ فریٹ ٹرین کی پرائیویٹ کمپنیوں اور نجی شعبہ کو دی جانے والی بوگیوں کی مد میں اضافی پیسے مانگے جارہے ہیں ًدروغ برگردن راوی ً ایک بوگی پر 5سے 6ہزار روپے اضافی لیے جارہے ہیں،اب یہ دیکھیے کہ ریلوے اوسطاً 500بوگیاں بھی روزانہ چلائے،اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روزانہ کتنا پیسہ مخصوص افسران کی جیبوں میں جاتا ہے جب کہ اس پیسے کو زیادہ بہتر انداز میں ریلوے کے کھاتےمیں جانا چاہیے،سنا ہے کہ وزیر ریلوے حنیف عباسی فریٹ کےان سنگین معاملات سے کسی حد تک باخبر بھی ہوچکے ہیں، ًدیکھیں کیا گذرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک…
اب آئیے ایک نظر ریلوے ہیڈکوارٹرمیں ہونے والے دوبڑے افسران کے جھگڑے پر ڈالتے ہیں،جہاں چند روز قبل جہاں شعبہ کمرشل اینڈ ٹریفک گریڈ19کے ایک افسر میاں طارق لطیف نے گریڈ20 کے ایڈیشنل جنرل منیجر (میکینکل ) راحت مرزا کے آفس میں گھس کر انہیں گالیاں دیں اور مبینہ طور پر گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا،راحت مرزا کے دفتر کے عملہ نے بمشکل ان کی جان چھڑائی،اس واقعہ پر ریلوے افسران نےاپنے شدید تحفظات سے سی ای او اور چیئرمین ریلوے کو آگاہ کیا،راحت مرزا نے بھی تحریری طور پر اس واقعے بارے اعلیٰ حکام کو بتایا اور اس پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا،دوسری طرف میاں طارق لطیف کا یہ کہنا ہے کہ ان کو پہلے راحت مرزا نے فون پر گالیاں دیں جس پر انہوں نے ان کے آفس آکر اس بابت دریافت کیا،بہرحال چیئرمین پاکستان ریلوے نے اس واقعہ کو نوٹس لیتے ہوئے آئی جی ریلوے پولیس پاکستان کو انکوائری افسر لگا کران سے رپورٹ طلب کرلی ہے،یہ امرقابل ذکر ہے کہ میاں طارق لطیف اپنی سروس پولیس سے شروع کی تھی ایس ایچ او لگے بعدازاں انہوں نے سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور ریلوے گروپ جوائن کیا،اپنے ریلوے کے کریئر کے دوران ان کے متعدد ریلوے افسران سے جھگڑے ہوچکے ہیں،شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہےکہ ان کی طبعیت میں اب بھی تھانے داری اور پولیس جیسا طرز تکلم حاوی ہے
فیس بک کمینٹ

