ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ مجھے نئے زمانے کے پرانے شاعر بوٹے لاعلم نے ایک نہایت ہی تڑپتا پھڑکتا لیکن ممنوعہ قسم کاشعر سنایا ۔جسے سن کر میرے جیسے ناقابل اصلاح بندے کو بھی ( جانے کہاں سے ) غیرت آ گئی۔چنانچہ شعر سنتے ہی میں جوش ایمانی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئےگرج و برس کر بولا یہ کس فلاں ولد فلاں کا بے ہودہ شعر ہے؟ میری گرج دار آواز سنتے ہی مسمی بوٹے لاعلم کی ہنسی نکل گئی۔ پھر اس نے (بڑی مشکل سے) پکا سا منہ بنایا۔ اور میرے سامنے ڈیڑھ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔حضور جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں؟ پھر میرے امان دینے پر وہ کہنے لگا اس قسم کے کافی سارے شعر توآپ جناب نے بھی کہہ رکھے ہیں ۔اس پرمیں کھسیانہ سا ہو کر بولا ۔اےسمال کراکری چھوٹے برتن ، تو میری بات نہ کر، کہ مجھے استثنا حاصل ہے۔
یہ سنتے ہی اس نے بڑی کرخت نظروں سے میری طرف دیکھا۔ پھر کف افسوس ملتے ہوئے کہنے لگا۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ہمارا کتا ،کتا اور تمہارا کتا ٹامی۔چونکہ میں اسے امان دے چکا تھا اس لئے چپ رہا ورنہ اس کو ایسے القابات سے نوازتا کہ کہ اسےچھٹی ساتویں تو کیا ، میٹرک اور بائیو میٹرک کا بھی دودھ یاد آجاتا۔ دوسری طرف وہ کہہ رہا تھا تو سن اے سست الوجود، خدائی خوار، بدروح الزماں شخص یہ شعر ہمارے ایک لوکل شاعر جناب یرغمالی صاحب کا ہے اس پر میں چونک کر بولا یہ کون ذات شریف ہے ؟کیا مارکیٹ میں نیا لانچ ہوا ہے؟ اس پر وہ کہنے لگا بھائی یہ ہمارے لوکل شاعر جناب ملا ہدہد یرغمالی صاحب کا ہے تب میں دوسری دفعہ چونک کر بولا لیکن ملا تو شیردل تخلص نہیں کرتے ؟ تو بوٹا لاعلم کہنے لگا شیر دل تخلص کرتا تھا لیکن اب اس نے یرغمالی رکھ لیا ہے اس پر میں نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا میں اس بات سے لاعلم ہوں تم خود پوچھ لینا۔
اتفاق سے اگلے دن ہی مجھے ملا ہدہد مل گئے۔میں نے دیکھا کہ ان کے ناتواں کاندھے پر آٹے کا بھاری تھیلا لداہوا تھا جبکہ دوسرے کندھے پر اتنے ہی وزنی تھیلے میں گروسری رکھی تھی یہ تو تھی کندھوں کی صورت حال۔جبکہ جسم زیریں کے مطابق، ان کے ایک ہاتھ میں سبزیوں سے بھرا شاپر پکڑا تھا جس میں انواع و اقسام کی سبزیوں کے ساتھ وافر مقدارمیں آرگینک مولیاں بھی رکھی ہوئیں تھیں جبکہ دوسرے ہاتھ میں انہوں نے ایک نامیاتی مطلب آرگینک مولی پکڑی ہوئی تھی جسے وہ کچر کچر کھائے جا رہےتھے۔رسمی سلام و دعا کے بعد میں نے ان سے وہ سوال پوچھ ہی لیاکہ جس کی مجھے کل سے کھد بدھ لگی ہوئی تھی۔میں بولا ملا جی یہ تو بتاؤ کہ آپ نے اپنا تخلص ” شیر دل "سے بدل کر "یرغمالی "کیوں رکھا ہے؟ ملا جواب دینے کی بجائے کہنے لگے ۔تم نے وہ مشہور لطیفہ توسنا ہو گا کہ جب کسی نے کسی سے پوچھا کہ تم شادی سے پہلے کیا کرتے تھے؟۔ تو جواب ملا کہ جو میرا دل کرتا تھا ۔پھر پوچھا گیا کہ اب شادی کے بعد کیا کرتے ہو؟۔ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ ان کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے اور وہ گلو گیر آواز میں بولے۔چنانچہ اسی شخص نے روتے ہوئے جواب دیا جو میری بیوی کہتی ہے۔
ادھر یہ سوچ کر ہی میرے جسم میں اک سرسراہٹ سی پھیل گئی کہ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے،سبھی ایک ہی طرح کے دلگیر ہوئے ۔پھر بات بدلتے ہوئے بولا پیارے بھائی مجھے تو بھابھی کے شب شبھاؤ اور تیور بہت اچھے لگتے ہیں۔اس پر ملا ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولے تم تیور کی بات کرتے ہو مجھے تو ان کے ہاتھ زیادہ سخت لگتے ہیں۔ اس دوران میں نے بڑی شدت سے محسوس کیا کہ بات کرتے ہوئے بھی ملا شاپر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ایک کے بعد ایک آرگینک مولی کھائے جا رہے تھے۔مجھ سے رہا نہ گیا چنانچہ جب میں نے ان سے بیک ٹو بیک مولی کھانے کا راز پوچھا ؟۔تو ملا چھینپ کر بولےمولی کھا کر بیگم کو حساب دینے میں آسانی رہتی ہے۔ابھی میں اس کی وجہ تسمیہ پوچھنے ہی والا تھا کہ اچانک ملا نے ایک خوفناک ڈکار مارا ۔جس کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ساتھ دیگر زہریلی گیسز کا ایک گولہ سا پھوٹا۔ میں سمجھا شاید دشمن نے گیسزوالا بم چلا دیا ہےچنانچہ میں فوت ہونے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ اچانک ملا نے مجھے لخلخلہ سنگھا دیا ۔چنانچہ میں فوت ہونے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے بولا۔ خدا کے لیئے بھائی اپنا منہ دوسری طرف کرلو۔چنانچہ اسی وقت ملا نے اپنا منہ مشرق سے مغرب ،پھر مغرب سے جنوب کی طرف موڑااور شمال سے اطلاع دیتے ہوئے بولے ۔ پیارے بھائی امید ہے کہ اب تک تم پر بیک ٹو بیک مولی کھانے کا راز آشکارا ہو چکا ہو گا۔ میں نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے فوراً سے پہلے اس ملین ڈالر فارمولے کو حفظ بھی کر لیا۔تا کہ بوقت ضرورت کام آئے۔
ادھر مولی والا فارمولا ذہن نشین کرانے کے بعد ملا بولے اب میں تمہیں دوسرے سوال کا جواب دیتا ہوں پھر چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگے تو میں انہیں تسلی دیتے ہوئے بولا فکر نہیں کرو ملا آپ اس وقت گھر سے کافی فاصلے پر کھڑے ہیں میری بات سنتے ہی ملا کی جان میں جان آئی۔اور وہ کہنے لگے کیا بتاؤں یار مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے شادی کے بعد میں جیتا جاگتا انسان نہیں رہا بلکہ اچھا خاصہ یرغمالی بن چکا ہوں ۔پھر بڑی افسردگی سے کہنے لگے مجھے تو پہلے ہی دن بیگم نے کہہ دیا تھا کہ بے شک یہ گھر تمہارا ہے لیکن یہاں مرضی میری چلے گی اس لیئے آج کے بعد مجھ سے پہلی سی محبت میرے شوہر نہ مانگ ۔ اس کے بعدملا آنسو پونچھتے ہوئے بولے ابھی کل کی بات سن لو ہمارے گھر دعوت تھی پہلے تو میں نے کچھا (نیکر) پہن کر سارے کپڑےدھوئے ابھی انہیں ڈرائیر میں سکھایا ہی تھا کہ حکم ملا انہیں استری بھی کر دوں۔چنانچہ کپڑے استری کر کے ابھی سانس ہی لی تھی کہ پھر حکم ملا کہ برتن بھی دھو دوں اس کے بعد مجھے گھر کی صفائی کا بولا گیا۔شام سے صبح ہوتے ہی میری حالت ایسی ہو گئی کہ جیسے میں شوہر نہیں بلکہ گوانتا نا مو بے کا جنگی قیدی ہوں۔ چنانچہ اسی قسم کے دکھ جھیل جھیل کر میں نے اپنا تخلص شیر دل سے یرغمالی رکھ لیا ہے۔ملا کی درد بھری داستان سن کر میں بولا واقعی یار شادی شدہ زندگی ایک ایسا (یرغمالی) تجربہ ہے جس میں اچھا خاصہ بندہ بھی نشان عبرت بن جاتا ہے ۔ میری بات سنتے ہی ملا یرغمالی نے اپنا سامان وہیں پھینکا اور مجھ سے گلے ملتے ہوئے مندرجہ ذیل شعر باآواز بلند پڑھا۔
تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم
ہم دونوں کی ایک کہانی
آجا لگ جا گلے دل جانی
فیس بک کمینٹ

