لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ شیر پاؤ پل کیس میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کردیا جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے رات گئے کوٹ لکھپت جیل میں ملزمان کی موجودگی میں 9 مئی جلاؤ گھیراؤ شیر پاؤ پل کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے شیر پاؤپل پر جلاؤ گھیراؤ کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی سمیت 6 ملزمان کو بری کر دیا اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سمیت 8 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی ۔ عدالت نے جلاؤ گھیراؤ کیس میں شاہ محمود قریشی سمیت حمزہ عظیم، اعزاز رفیق، افتخار احمد، رانا تنویر اورزیاس خان کو بَری کیا ۔ اس مقدمے میں عمر سرفراز چیمہ ،ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری ، میاں محمود الرشید، افضال عظیم پاہٹ، علی حسن، خالد قیوم اور ریاض حسین کو 10، 10 سال قید کی سزا سُنائی گئی۔
اس سے قبل منگل کو سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کو میانوالی میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور تھانے کو آگ لگانے کے کیس میں پی ٹی آئی رہنما اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر سمیت 36 مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سُنا دی۔ عدالت نے احمد بچھر کو 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ عدالت نے تمام 36 ملزمان کو گرفتار کرنے اور جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا ردعمل:
عدالت کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزا پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے، آج کے فیصلوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عدالتیں ناکام ہوگئی ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج متنازع فیصلوں میں ایک نئے فیصلے کا اضافہ ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی اور ساتھیوں نے کہا تھا کہ شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے، آئین و قانون کا تقاضا یہی ہے کہ ایک کیس میں مختلف جگہوں پر ٹرائل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں نو مئی مقدمات میں سزا پانے والوں کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اعلان انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کی جانب سے یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو دس، دس سال قید کی سزائیں سنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد میں رات گئے ایک پریس کانفرنس جس میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجہ، ڈاکٹر بابر اعوان، شیخ وقاص اکرم اور عالیہ حمزہ شریک تھے میں اس فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدلیہ کے متنازع فیصلوں میں ایک نئے فیصلے کا اضافہ ہوا ہے۔‘
( بشکریہ : جیو نیوز ۔ بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

