کتنی ستم ظریفی ہے کہ اکیس بایئس سال قبل کے اوراق پلٹ کے دیکھتا ہوں اور شہر ڈیرہ غازی خان کی آج کل کی صورت حال دیکھتا ہوں تو دل افسردہ سا ہو جاتا ہے۔ زمانہ بدل گیا ہم نہیں بدلے۔ سیوریج کا وہی زمین بوس نظام جو سالوں پہلے تھا آج بھی وہی ہے۔ شہر کی سڑکیں تالابوں کا منظر پیش کرتی ہیں۔ گلیاں ندی نالے بنی ہوئی ہیں۔ گندگی کا یہ عا لم ہے کہ محلوں، بلاکوں اور گلیوں میں جگہ جگہ تعفن سا پھیلا ہوا ہے۔ ہاں البتہ بعض مخصوص سڑکوں اور چوکوں میں روزانہ کچھ نہ کچھ جھاڑو لگ ہی جاتے ہیں۔ مگر شہر کے زیادہ تر حصے نظر انداز ہیں۔ سڑکوں کا رنگ زمین کے رنگ جیسا ہے۔ زمین اور سڑک کے فرق کا پتا نہیں چلتا۔
نوجوان نسل جو سرے سے ہے ہی لا ابالی، لاپروا، غیر ذمہ دار اور بے مقصد صبح سے رات گئے تک موٹر بایئکس کی ریس اور ون ویلنگ میں سر گرداں ہے۔ جمعہ والے دن تو شام کو کسی سڑک پر بندہ نکل نہیں سکتا۔ میں حیران ہوتا ہوں کیا ان کے والدین لا علم ہیں یا غیر ذمہ دار۔ یہی نوجوان ساری شامیں ریلوے پلی سے سرکٹ ہاوس تک ریلوے اسٹیشن کے آ س پاس جتھوں کی صورت بیٹھے سگریٹ نوشی، آیئس ، چرس اور جان لیوا ڈرنکس کی خطرناک عادتوں میں کھو چکے ہیں۔ والدین کیوں بے خبر ہیں۔ کیا ان کے والدین یا ذمہ دار بھائیوں کو علم نہیں کہ ان کے بچے گھر سے کب نکلے تھے اور کب رات کو واپس آ ئے۔
کھانے پینے کے مضر صحت ڈھابوں اور ہوٹلوں پہ ہوش ربا بھیڑ ایک الگ ایشو ہے۔ زیادہ تر نوجوان ہی ہیں جو جنک فوڈ کے رسیا ہیں۔ انہیں کیا پتا وہ خوراک کی صورت اپنے پیٹ میں زہر ڈال رہے ہیں ۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صحت مند اور متوازن گھریلو خوراک کا عادی بنائیں نہ کہ بازاری چٹ پٹی چیزوں کا۔ کل ایک والد مجھے بتا رہے تھے کہ میرا بیٹا روز روٹی کے ساتھ پیپسی کولا لازمی لیتا ہے۔ ایک والد نے بڑے فخر سے اپنے بیٹے کا بتایا کہ ہم انہیں روز گول گپے نہ کھلائیں تو وہ بیمار ہو جاتا ہے۔ میں نے ایسے بہت سے نوجوان دیکھے جن کے بقول گھر کی روٹی انہیں راس نہیں آتی بلکہ وہ روزانہ فاسٹ فوڈ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
مجھے یاد ہے آج سے تیس یا بتیس سال پہلے کسی معمولی سے عارضہ کی صورت جب ہم دیہات سے شہر آتے تو پیارے والی پل سے اندرون شہر کی جانب میرا پہلا سٹاپ پیرا ماونٹ نیوز کارنر شاپ ہوتی۔ شمیم بھائی اور ان کے بڑے بھائی سے کتابوں کی خریداری کی وجہ سے بھائیوں والا رشتہ قائم ہوا تھا۔ جن سے روشناسی کا سہرا کتابوں کے عاشق ، علم کے رسیا ماموں مرحوم پروفیسر محمد بخش جروار (جنت مکانی) کے سر جاتا ہے۔ پیرا ماونٹ سے تب میں کسی بھی صنف کی پسندیدہ کتاب یا انگریزی کے معروف رسالہ ریڈر ڈائجسٹ Reader Digest اور اردو زبان و ادب کے بہترین رسالے جن میں فنون، اوراق ، ماہ نو اور آج شامل تھے خریدا کرتا تھا۔ چند قدم آگے پھر میرا اگلا پڑاؤ ملک نیوز ایجنسی اور ناصر نیوز ہوتے۔ فرصت ملتی تو مکتبہ زکریا سے کچھ ڈھونڈ لیتا۔ مگر آج دل کڑھتا ہے کتابوں کی دکانوں کی جگہ ہیر سیلون ، ٹی سٹال، پیزا برگر اور شوارما کی دکانیں کھل گیئں۔ اب ڈیرہ غازی خان میں ادب کی کوئی کتاب شاذ ہی ملتی ہے۔ آج کے نوجوان کو کتاب اور علم سے کوئی غرض نہیں۔
سوشل میڈیا کی بھینٹ چڑھی نسل نو کا محاسبہ کرنا ہو گا۔ والدین گرامی اور اساتذہ کرام کو مل کے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ہو گا۔ ہمارا نوجوان وقت کے ہاتھوں بڑی بے دردی سے ضائع ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں مل کر اس نوجوان کو اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اسے آنے والے بے رحم وقت کی ہونے والی جنگ لڑنا ہے۔ اسے اپنے پاوں پر کھڑا ہونا ہے۔ جب وہ خود کفیل ہو گا تب معیشت اور معاشرت دونوں مزید پٹ چکے ہوں گے۔ مستقبل کے ان گنت چیلنجز اس کے راستے کی دیوار ہوں گے ۔ ہم نے مل جل کر ابھی سے اس نوجوان کی راہیں متعین کرنا ہیں۔ اسے علم و عمل سے ذرخیز کرنا ہے۔ اس وقت کی قدر بتانی ہے۔ اسے رشتوں کی پہچان بخشنے والی انکھ دینی ہے۔ اسے خود پہ اعتماد پیدا کرنا سکھانا ہے۔ اسے ترتیب دینی ہے۔ اسے سلیقہ سکھانا ہے۔ اسے خوبصورت کرنا ہے۔ اسے بڑی سے بڑی آزمائش میں بلند حوصلہ رکھنا سکھانا ہے۔ اسے راحتوں اور خوشیوں میں توازن برقرار رکھنے کا درس دینا ہے۔ ورنہ یہ زمانہ جس برق رفتاری سے اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے ہماری آنے والی نسل کچل کے رکھ دے گا۔ آج کی بے مقصد و بے منزل نسل نو کو دیکھیں تو انگریزی کے معروف شاعر ٹی ۔ایس۔ایلیٹ کی وہ نظم پھر سے سامنے آ جاتی ہے ۔ دل میں ایک درد کی ٹیس اٹھتی ہے۔ دھڑکن بے ربط ہو جاتی ہے۔ سانس تھم سی جاتی ہے اور انکھیں نم آلود ہو جاتی ہیں:
We are the hollow men
We are the stuffed men
Leaning together
Headpiece filled with straw, Alas !
Our dried voices when
We whisper together
Are quiet and meaningless
As wind in dry grass
Or rats rats’feet over broken glass
In our dry cellar,
Shape without form, shade without colour
Paralysed force , gesture without motion
( جاری ہے ۔۔)
فیس بک کمینٹ

