ملتان، صوفیا کا مسکن اور برصغیر کا قدیم شہر، ہمیشہ دریاؤں اور نہروں کی مہربانی سے زندہ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شہر جس زمین پر آباد ہے، وہ دراصل پانیوں کا ایک مرکز تھا۔ دریائے چناب کے قریب ایک موڑ پر بسا ہوا ملتان مشرق میں دریائے راوی کے پرانے بہاؤ سے جڑا رہا جبکہ جنوب میں ستلج اس کے لیے سرحد کا کردار ادا کرتا رہا۔ آج بھی تحقیقی مطالعے اور ریموٹ سینسنگ کے ذریعے یہ نشانات دیکھے جا سکتے ہیں کہ صدیوں پہلے راوی کا رخ ملتان کے قریب سے گزرتا تھا، جو بعد میں اپنا راستہ بدل گیا۔
ملتان کی سرزمین میں چھوٹی بڑی نہریں اور نالے صدیوں تک کسانوں کی زندگی کا سہارا رہے۔ مغل عہد میں ہی نہروں کی تعمیر کے منصوبے شروع ہوئے اور مقامی حکمرانوں نے ان پر زور دیا۔ فیرُوز شاہ تغلق اور بعد ازاں شاہجہان نے انہی دریاؤں سے نہریں نکال کر کھیتوں کو سیراب کرنے کا سلسلہ بڑھایا۔ کسان انہی پانیوں پر انحصار کرتے، گندم، کپاس اور آم جیسے باغات کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا اور ملتان کی منڈیاں اجڑنے کے بجائے دن بدن آباد ہوتی رہیں۔

انیسویں صدی کے اواخر میں جب گورے آئے تو انہوں نے پنجاب کے اس خطے کو ایک نیا رنگ دیا۔ نہروں کو جدید انداز میں وسعت دی گئی، اور "کنال کالونیز” وجود میں آئیں۔ سِدھنائی نہر اور اس سے جڑی کالونیاں ملتان کی زراعت کے لیے سنگِ میل ثابت ہوئیں۔ انگریزوں کے تعمیر کردہ ہیڈ ورکس اور "ٹرپل کنال پروجیکٹ” نے دریاؤں کے پانی کو ایک مربوط نظام میں باندھ دیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1885 میں زیرِ آب آنے والا رقبہ محض چند ملین ایکڑ تھا، جو 1947 تک چودہ ملین ایکڑ تک پہنچ گیا۔ یوں ملتان کی زمینیں نئی توانائی سے آباد ہوئیں اور کسانوں کے لیے زرخیزی کے نئے در وا ہوئے۔
مگر یہ سب کہانی صرف خوشحالی کی نہیں تھی۔ جب بھی دریا طغیانی پر آتا تو یہی پانی نعمت کے بجائے مصیبت بن جاتا۔ ملتان کے نشیبی علاقے، جیسے بوہڑ گیٹ اور قاسم بیلا، بارہا سیلاب کی لپیٹ میں آئے۔ کھیت کھلیان ڈوبتے رہے اور کسان کبھی بربادی کے زخم سہتے، کبھی نئی محنت سے زمین کو پھر سنوارتے۔ یہی سیلابی خطرات بعد میں انگریز دور میں بڑے نہری منصوبوں اور پشتوں کی تعمیر کا سبب بنے۔وقت کے ساتھ ساتھ پرانی چھوٹی نہریں اور نالے مٹ گئے، کچھ زمین میں دب گئے اور کچھ شہر کے پھیلاؤ میں گم ہو گئے۔ ان کی جگہ بڑے ہیڈ ورکس، منظم نہریں اور کنال کالونیاں لے لیں۔ یوں سو برس پہلے کا وہ منظر، جب دریا براہِ راست شہر سے گزرتا اور کسان پانی بانٹنے کے نظام میں خود شریک ہوتے، رفتہ رفتہ قصۂ پارینہ بنتا گیا۔
ملتان کی تاریخ دراصل پانیوں کی کہانی ہے۔ کبھی یہ شہر تین اطراف سے دریاؤں کے بہاؤ میں گھرا ایک جزیرہ دکھائی دیتا، کبھی یہ نہریں کسانوں کے لیے زندگی کا سہارا بنتیں، اور کبھی یہی پانی سیلابی ریلے بن کر اجاڑنے آتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ پانی نہ ہوتے تو شاید ملتان اتنی زرخیزی، اتنی رونق اور اتنی تاریخی اہمیت کا حامل نہ ہوتا۔
رضی الدین رضی صاحب کو ہم نے جب بتایا کہ ہم اس موضوع پر کالم تحریر کر رہے ہیں تو انہوں نے موضوع کی مناسبت سے ہمیں پروفیسر انور جمال صاحب کے یہ دو اشعار ارسال کیے جو ہم ان کے شکریے اور انور جمال صاحب کی سلامتی کی دعا کے ساتھ اس مضمون کا حصہ بنا رہے ہیں ۔
دریائے تند و تیز کی جولانیوں سے پوچھ
میرا مزاج بہتے ہوئے پانیوں سے پوچھ
ہے پانچ پانیوں کا ادب اس زمین میں !!!
شعروسخن کے ذائقے ملتانیوں سے پوچھ
فیس بک کمینٹ

