ملتان : نبی کریم ﷺ کی ولادت کے 1500 سال مکمل ہو گئے ملک بھر میں عید میلاد النبی اور 60 واں یومِ دفاع جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے ۔
ڈان نیوز کے مطابق عید میلاد النبی ﷺ کے دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، نماز فجر کے بعد مساجد اور گھروں میں ملکی ترقی، سلامتی، خوشحالی اور امت مسلمہ کے اتحاد کےلیے خصوصی دعا ئیں مانگی گئیں۔
عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گلی گلی چراغاں کیا گیا ، مساجد ، بلند عمارتوں، بازاروں اور چوراہوں پر سبز پرچموں کی بہار ہے، فضائیں درود و سلام کی صداؤں سے معطر ہیں۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد کے تحت اس سال حکومت نے 1447ہجری کو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے 1500ویں یوم ولادت کے طور پر منانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
اس دن کی مرکزی تقریب اسلام آباد میں ہونے والی بین الاقوامی سیرت کانفرنس ہوگی، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری کی شرکت متوقع ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 6 ستمبر 1965ء اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی قوم کا عزم کبھی کمزور نہیں پڑا، پاکستانی قوم کا حوصلہ ناقابلِ شکست ہے۔ اس تاریخی دن ہمارے بہادر سپاہیوں نے قوم کی حمایت کے ساتھ کھڑے ہو کر کھلی جارحیت کا مقابلہ کیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا ہے کہ ستمبر 1965ء پاکستانی قوم کے عزمِ مصمم اور غیر متزلزل جذبے کی علامت ہے، مسلح افواج نے اس دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جو ہتھیاروں اور تعداد میں ہم سےکہیں زیادہ تھا۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ شجاعت اور قربانی کے یہ کارنامے پیغام دے گئے کہ متحد قوم کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی، ہمارے نڈر ہیروز کی جرأت آج بھی آنے والی نسلوں کو حوصلہ دیتی ہے، ہمارے ہیروز کی لازوال قربانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ آج پوری قوم اپنے شہداء، غازیوں اور ان کے ثابت قدم اہلِ خانہ کو سلام پیش کرتی ہے، شہداء اور غازیوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، افواجِ پاکستان ہمیشہ بیرونی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئیں۔
فیس بک کمینٹ

