موسمیاتی تبدیلی یا کلائمیٹ چینج سے مراد گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی دوسری تبدیلیاں ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے زیادہ مقدار کاربن ڈائی آکسائڈ کی ہوتی ہے ۔ گرین ہاؤس ہم میں سے تقریباً سبھی نے دیکھے ہوں گے نرسریوں میں یا سبزیوں کی ٹنلز ۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ ان کے اندر درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے اور نمی بھی یعنی گرمی بھی ہوتی ہے اور حبس بھی ۔ گرین ہاؤس ایفیکٹ کو اب آپ یوں سمجھیں کہ ہمارا یہ گولہ یعنی کرہ ارض ایک بہت بڑا وہی نرسری والا گرین ہاؤس ہے یا سبزی والی ٹنل ہے۔
کاربن ڈائی آکسائڈ کے علاوہ سلفر ڈائی آکسائیڈ ، نائٹرک آکسائڈ اور کلورو فلورو کاربنز کی مقدار بھی ہمارے ایٹموسفیئر یا فضا میں بڑھ چکی ہے ، عام ماحولیاتی اثرات کے ساتھ ساتھ یہ ہماری صحت کو بھی بری طرح متاثر کر رہے ہیں ۔
موسمیاتی تبدیلی کی تین بنیادی وجوہات ہیں
ڈی فارسٹیشن یعنی جنگلات کا خاتمہ
اربنائزیشن یعنی شہروں کا پھیلاؤ
انڈسٹریلائزیشن یعنی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتیں
حال ہی میں اقوام متحدہ میں امریکی صدر ٹرمپ نے منجملہ دیگر اول فول کے یہ بھی فرمایا کہ موسمیاتی تبدیلی کچھ نہیں ہے فراڈ ہے۔ وہ اس سے پہلے اس حوالے سے ہونے والے بین الاقوامی معاہدے سے بھی نکل چکے ہیں ۔ امریکہ سرمایہ دار دنیا یا کیپٹلسٹ ورلڈ کا رہنما ہے اور امریکی صدر ان کا امام ہوتا ہے ، اوتار یا پرافٹ کہہ لیں ہوتا ہے prophet of the profiteers
محترم یوول نوح ہراری کیپٹلزم کو بھی ایک مذہب قرار دے چکے ہیں ۔
امریکہ ماحولیاتی تباہی پھیلانے والوں کی صف اول میں ہے لہذا اسے متاثرین کی تلافی کے لیے زیادہ فنڈز دینے چاہئیں لیکن چونکہ وہ بنیا ہے اور گانٹھ کا پکا ، سو وہ اس پورے فینومینا سے ہی انکاری ہو گیا ہے۔
انسان پہلے جنگلوں اور غاروں میں رہتا تھا ، خوراک کی تلاش میں اور موسموں کے ساتھ ساتھ گھومتا پھرتا تھا ، کوئی بارہ ہزار سال قبل اس نے گندم اگانا سیکھا یعنی کاشتکاری یا زراعت سیکھی تب اس نے اپنے کھیتوں کے پاس مستقل رہنا یعنی گھر بنانا شروع کیا ، اس کے بعد بستیاں اور پھر قصبے اور پھر بڑے شہر بننا شروع ہوئے ، اسی طرح چھوٹی ریاستیں قائم ہوئیں ، پھر بڑی ریاستیں اور اس کے بعد سلطنتیں یا ایمپائرز وجود میں آئیں۔
یورپ میں رینی ساں کے بعد صنعتی دور شروع ہوا ، ملوں کی چمنیاں دھواں اور ضرر رساں گیسیں فضا میں چھوڑنے لگیں ،فوسل فیول یعنی آئل اور گیس نکالے جانے لگے ، لوکو موٹوز ، کاریں بسیں ٹرک ، شپس اور جیٹ طیارے آ گئے ، بڑے بڑے میٹرو پولیٹن شہر آباد ہوئے ، تیزرفتاری سے سفر کی ضرورت پیش آئی ، لوگوں کے پاس پیسہ آیا تو پرائیویٹ ٹرانسپورٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ، اپنے اردگرد نظر دوڑائیں لوئر مڈل کلاس گھروں میں بھی آپ کو ہر مرد کے پاس ذاتی موٹر سائیکل نظر آئے گا ۔ نتیجتاً فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا اور گلوبل وارمنگ کا آغاز ہوا۔
اب آتے ہیں deforestation یعنی جنگلات کے خاتمے کی طرف ، شہری آبادیاں بڑھیں تو تعمیرات اور فرنیچر کے لیے لکڑی کی مانگ میں اضافہ ہوا ، پختہ اینٹوں کے لیے بھی لکڑی درکار تھی ۔ برصغیر میں جب ریلوے کا آغاز ہوا تو ٹرینوں کے انجنوں میں بھی لکڑی جلتی تھی چنانچہ جنگلات تیزی سے کٹنے لگے ۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کو ماحولیاتی طور پر sustainable ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پچیس فیصد رقبے پر جنگلات ہوں ، بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات کا رقبہ پانچ فیصد ہے ۔ میں نے ایک ماہر سے سنا جو کہہ رہے تھے کہ پانچ فیصد رقبہ تو وہ ہے جو جنگلات کے لیے مختص ہے ، درحقیقت ہمارے ہاں ڈھائی فیصد سے بھی کم رقبے پر جنگلات موجود ہیں ۔ ( اہل اردو کہیں گے کہ جنگل کی جمع جنگلات غلط ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے سڑک کی جمع سڑکات۔۔۔ لیکن کیا کروں عموماً جنگلات ہی بولا اور لکھا جاتا ہے 😀)
جنگلات کے خاتمے اور گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ؛ درجہ حرارت میں اضافہ ، گرمیوں کا دورانیہ طویل اور سردیوں کا مختصر ہو جانا ، خشک سالی اور جنگلوں میں آگ لگنا ، طوفانی بارشیں ، کلاؤڈ برسٹ ، گلیشیر برسٹ ، فلیش فلڈز اور بڑے سیلاب ۔ اور ہاں یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سانس کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اس کی مقدار فضا میں بڑھنے نہیں دیتے۔
ہمارا جغرافیہ ایسا ہے کہ ہمارے سر پہ ہمالیہ قراقرم ہندوکش کوہ سفید اور کوہ سلیمان کھڑے ہیں اور ان پر پڑنے والی بارشوں کو ہم سیلاب کی شکل اختیار کرنے سے نہیں روک سکتے ، ہاں البتہ درخت اس پانی کی رفتار کو کم کر سکتے تھے اسے پھیلا سکتے تھے اور سیلاب کی شدت کو کم کر سکتے تھے لیکن وہ ہماری ہوس زر کی نذر ہو گئے۔
تو پیارے قارئین مسئلہ اور اس کی وجوہات میں نے عام فہم زبان میں آپ کے سامنے رکھ دیں ، حل آپ کے ذہن میں آ رہے ہوں گے یعنی ان وجوہات کو ریورس کرنا ۔ اس کے لیے جو جتنا کر سکتا ہے اس کا فرض ہے کہ کرے ۔ اور کچھ نہیں تو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بات تو پہنچا سکتے ہیں ، آگہی تو دے سکتے ہیں ، آواز تو بلند کر سکتے ہیں ۔
ایک شعر کہیں پڑھا تھا ، یاد نہیں کس کا ہے۔
گر کچھ نہیں تو خوف کی اک چیخ ہی سہی
آواز دوستو ، کوئی آواز دوستو
فیس بک کمینٹ

