ملتان ۔۔ رپورٹ رضی الدین رضی : ملکہ ترنم نورجہاں کی آج پچیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔21 ستمبر 1926ء کو بلھے شاہ کی نگری قصور کے ایک گائیک گھرانے میں پیدا ہونے والی نور جہاں 74 برس کی عمر پائی اور دل کا دورہ پڑنے سے 23 دسمبر 2000ء کو دار فانی سے کوچ کر گئی تھیں ۔
انہوں نے 1965ء کی جنگ میں جو ملی نغمے گائے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں، ان نغموں نے پاک فوج کے جوش وجذبے میں بے پناہ اضافہ کیا۔ ان میں اے وطن کے سجیلے جوانو، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں، اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے شامل ہیں۔
انہوں نے مختلف زبانوں میں دس ہزار کے قریب نغمے گائے، جن میں آواز دے کہاں ہے، سانوں نہر والے پل تے بلا کے، دل دا جانی، مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ شامل ہیں۔ یہ نور جہاں ہی تھیں جو چاندنی راتوں میں تاروں سے باتیں کرتی تھیں۔ نورجہاں نہ صرف گائیکی میں مہارت رکھتی تھیں بلکہ ایک بہترین اداکارہ بھی تھیں۔شاندار پرفارمنس پر انہیں صدارتی ایوارڈ، تمغہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔نور جہاں کو ہم سے بچھڑے ربع صدی بیت گئی لیکن ان کی آواز آج بھی دنیا بھر میں گونجتی ہے ۔۔
فیس بک کمینٹ

