ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں اب تک کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) آگے ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق بی این پی تقریباً دو تہائی نشستیں جیت سکتی ہے۔
بی این پی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے طارق رحمان اس کے مرکزی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، پارٹیوں نے ووٹوں میں دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو نوجوانوں کی تحریک کی نمائندگی کرتی ہے اور جس نے 2024 میں شیخ حسینہ کو ہٹایا تھا، نے الزام لگایا ہے کہ نتائج میں ہیرا پھیری کی گئی ہے۔
کم از کم دو دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے بھی اسی طرح کے الزامات کے ساتھ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ بی این پی نے جماعت اسلامی پر فراڈ کا الزام لگایا ہے۔
بنگلہ دیش میں جمعرات بارہ فروری کو عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹنگ 4:30 بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد گنتی شروع ہو گئی تھی۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کے بعد اس بار اصل مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

