علمی روایتیں جب مضبوط ہوتی ہیں تو معاشرے میں فکر کی سنجیدگی، استدلال کی روشنی اور مکالمے کی تہذیب بھی پروان چڑھتی ہے۔ تین چار دہائیاں قبل کا تعلیمی منظرنامہ یاد کیجیے تو محسوس ہوتا ہے کہ سائنس اور فلسفے کی تعلیم محض ڈگری کا حصول نہیں تھی بلکہ سوچنے، پرکھنے اور سوال اٹھانے کا ہنر بھی عطا کرتی تھی۔ اس عہد کے اساتذہ اور طلبہ اپنے علمی پس منظر سے ایک تہذیبی ربط رکھتے تھے۔ آج جب منطق اور فلسفے کی باقاعدہ تدریس کم ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں چند شخصیات اپنی ذاتی محنت، مطالعے اور فکری استقلال کے بل بوتے پر اس علمی چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ انہی میں ایک معتبر اور درخشاں نام پروفیسر اکرم میرانی کا ہے۔
1957ء میں ضلع لیہ کے ایک سیاسی و سماجی طور پر فعال خانوادے، میرانی قبیلے میں پیدا ہونے والے اکرم میرانی نے علمِ کیمیا میں ماسٹرز کیا۔ 1980ء میں کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور لیکچرر منتخب ہوئے۔ ان کی تدریسی زندگی کا بڑا حصہ گورنمنٹ کالج لیہ سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے نہ صرف کیمیا پڑھائی بلکہ طلبہ کو سائنسی طرزِ فکر اور سوال کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔ بعدازاں وہ گورنمنٹ سائنس کالج ملتان منتقل ہوئے اور وہیں سے گریڈ بیس میں باوقار طور پر ریٹائر ہوئے۔
اکرم میرانی کی اصل شناخت صرف ایک سائنس ٹیچر کی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت دانشور کی ہے۔ انہوں نے اپنی تخصصی ڈگری کی حدود سے نکل کر سماج، ثقافت، فلسفہ اور ماحولیات جیسے موضوعات پر گراں قدر علمی خدمات انجام دیں۔ ان کی تصانیف : پاکستان، ثقافت اور انقلاب، سراییکی ڈیس، گریٹر تھل، ملتان کے بالمیکی، ماحولیات اور اخلاقیات، Eco Philosophy اور تل وطنی فلاسفی: اس امر کی گواہ ہیں کہ وہ محض واقعات کے راوی نہیں بلکہ فکر کے معمار ہیں۔ خاص طور پر ماحولیاتی فلسفے پر ان کی تحریریں اس خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیتی ہیں، جہاں فطرت سے تعلق روز بروز کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
سیاسی طور پر وہ جمہوریت پسند اور انسان دوست فکر کے حامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے قلبی وابستگی رکھتے ہوئے بھی انہوں نے ہمیشہ تنقیدی شعور کو برقرار رکھا۔ ریاستی جبر، فکری جمود اور سماجی ناانصافی کے خلاف مزاحمت ان کی سرشت میں شامل ہے۔ ان کی تحریروں میں سرائیکی وسیب کی محرومیوں کا درد بھی ہے اور اس کی ثقافتی عظمت کا شعور بھی۔ وہ سرائیکی زبان، تہذیب اور ثقافت کے ایسے عاشق ہیں جو محبت کو محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ فکری استدلال کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
ان دنوں معروف براڈکاسٹر ڈاکٹر خالد اقبال کے ساتھ وی لاگ کے ذریعے عصری مسائل پر مکالمہ کر رہے ہیں۔ یہ مکالمہ دراصل ان کی پوری علمی زندگی کا تسلسل ہے.سوال اٹھانا، دلیل دینا اور مکالمے کی فضا قائم کرنا۔ ان کا اندازِ گفتگو شائستہ، مدلل اور شگفتہ ہے۔ ذاتی طور پر نہایت نفیس، مخلص اور یاروں کے یار ہیں۔
پروفیسر اکرم میرانی کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے سائنس کی معروضیت کو فلسفے کی گہرائی اور ادب کی لطافت کے ساتھ جوڑ دیا۔ وہ اس نسل کے نمائندہ استاد ہیں جو کتاب کو زندگی سے اور زندگی کو فکر سے جدا نہیں کرتے۔ ایسے لوگ معاشروں میں محض افراد نہیں ہوتے بلکہ روایت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
آج جب فکری سطحیت اور جذباتی بیانیے عام ہیں، اکرم میرانی جیسے اساتذہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ علم صرف معلومات کا انبار نہیں بلکہ شعور کی تربیت کا نام ہے۔ وہ واقعی ایک استاد، ایک دانشور اور ایک لکھاری ہیں اور یہ تینوں شناختیں ان کی شخصیت میں اس طرح مدغم ہیں کہ انہیں الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔
فیس بک کمینٹ

