قصور : چودہ فروری کو دن کے ساڑے گیارہ بجے قصور کے علاقے الہ آباد کے ایک مکان میں اس وقت کہرام مچ گیا جب ایک 21 سالہ خاتون نے اپنے کمرے میں پنکھے کے ساتھ لٹک کر خود کشی کر لی۔
لیکن خود کشی کے اس واقعے میں پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے دفعہ 322 یعنی قتل خطا کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جو اس خاتون کا ہمسایہ بتایا گیا ہے۔
پاکستان میں اس واقعے کا سوشل میڈیا پر کافی تذکرہ ہوتا رہا جس میں یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ مبینہ طور پر یہ خاتون ملزم کے ساتھ فون پر ویڈیو چیٹ کر رہی تھیں اور اسی دوران انھوں نے خودکشی کی جس کے مناظر ملزم نے فون پر براہ راست دیکھے۔ملزم مبینہ طور پر خاتون کو بلیک میل کرتا تھا ۔
یہ واقعہ کیا ہے اور سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعوے کس حد تک درست ہیں؟ اس بارے میں بی بی سی نے پولیس کی مدد سے اس مقدمے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہے۔
’پھوپھو کے کمرے میں سٹیچو ہے‘
14 فروری کو سب سے پہلے خودکشی کا منظر دیکھنے والی ایک سات سالہ بچی تھی جس نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ نہ کھلنے پر کھڑکی میں سے جھانکنے پر اس نے دیکھا کہ اس کی جواں سالہ پھوپھی پنکھے سے جھول رہی ہے۔
یہ بچی خوف سے گھبرا کر اپنی والدہ کی طرف دوڑی اور ان سے کہا کہ ’پھوپھو کے کمرے میں سٹیچو (مجسمہ) ہے۔‘
جلد ہی لوگ اکھٹے ہوئے، کمرے کا دروازہ توڑا گیا اور پنکھے سے لٹکنے والی خاتون کو اتارا گیا لیکن تب تک وہ وفات پا چکی تھی۔
پولیس نے اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد جب تفتیش کا آغاز کیا تو کمرے سے انھیں خاتون کا موبائل فون ملا۔
یہ فون تکیے پر اس زاویے سے پڑا ہوا تھا جب فون کے کیمرے کا رخ اسی پنکھے کی جانب تھا جس سے لٹک کر خاتون نے خود کشی کی تھی۔
کیس کے تفتیشی افسر کے مطابق جب فون کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جس نمبر پر لڑکی نے آخری ویڈیو کال کی وہ نمبر عامر جان کے نام موجود تھا جو ان کا ہمسایہ بھی تھا اور لڑکی کا کلاس فیلو بھی رہ چکا تھا۔
ان کے مطابق ’اس آخری ویڈیو کال کے بعد بھی ملزم نے دو بار وائس کال اور دو بار ویڈیو کال کی تھی لیکن اٹینڈ نہیں ہوئی کیوں کہ لڑکی مر چکی تھی۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

