لوح و قلم کے خالق نے کتاب کی عظیم نعمت اپنے نائب کے حوالے کرتے ہوئے قلم کی قسم اٹھائی اور لوح کو اپنے پیغام کا امین ٹھہرایا اور حضرت انسان صاحبِ کتاب ہوا ، مگر جدید ترقی میں ہم نے سنا کہ لکھنا لکھانا کتابیں چھپوانا وقت کا ضیاع ہے سب کچھ انٹرنیٹ سے لو اور وہیں لکھو!مگر آج صورتحال یہ ہے کہ اس گلوبل ولیج میں ہم نے اپنی شناخت کی جنگ میں بہت کچھ ہار دیا ۔۔ہم اپنی رائے اپنے عقیدے اپنی فکر سے محروم کر دیے گئے۔۔کتابوں کے مصنوعی لبادوں کو اپنی مرضی سے تبدیل کیا گیا۔۔نمرودی خوف کا پہرا ایک آسیب کی طرح چاروں طرف منڈلا رہا ہے۔۔حق گوئی کے لیے ہم ابلیسی آقاؤں سے مستعار لیے ہوئے منبر وں پر بیٹھے اور ہماری بے خبری میں منبر چھین لیے گئے۔
میں نے اپنا کلام اپ لوڈ کیا تو ابلیسی حواری نے اپنے آقا کی صوابدید پر مجھے دھمکایا کہ تم سے تمہاری شناخت چھین لی جائے گی اور تمہارے سارے سخن پارے حذف کر دیے جائیں گے۔۔یہ دھمکی دو مرتبہ موصول ہو چکی ہے۔۔ان دیکھے فرعونی نظام کے گماشتے شاید جلد میرے اکاؤنٹ کو بند کر کے اپنے تئیں صدائے انقلاب پر اپنی فسطائیت کی مہر لگا کر سیل کر دیں مگر بیان کی نعمت دینے والا خدا ان نمرودی طاقتوں کے حیلے خاک میں ملاتا رہے گا کیونکہ رحمانیت شیطانیت سے بہت بڑی ہے۔۔
احوال یہ ہے کہ ہمیں ابلیسی نمائندے احساس دلا رہے ہیں کہ اب تم خدا کے صاحب الرائے نائب نہیں ہو اب تمہیں اپنے ہونے کی شناخت کے لیے اپنا نظریہ قربان کرنا ہوگا۔۔آپ میں سے بھی بیشتر لوگ اپنے نظریے کو سمجھوتے کے جزدانوں میں رکھ چکے ہیں ۔۔بہت سے عظیم تحریری ورثے ابلیسی خداؤں نے مٹا دیے ۔۔خود میرے بہت سے کلام جنہیں صرف ٹائپ شدہ حالت میں رکھ کر بے فکر تھی کہ محفوظ ہیں ۔۔اور کچھ قیمتی کلام جو ریلیز بھی ہوئے مگر اغوا کاروں کے عزائم سے متصادم تھے انہیں بھی بے صدا کر دیا گیا۔۔
پہلے زمانوں میں طاغوتی طاقتوں کے ڈر سے خوفزدہ لوگ تقیہ میں رہے اور ان کی نسلیں جہالت کے اندھیروں میں اپنے عقیدوں کے بے جان لاشیں اٹھاتی رہیں۔۔اور آج کتاب سے جدا کر کے ہمیں اپنے الیکٹرک زندانوں میں محبوس کر دیا گیا ہے۔۔میرے بہت سے کلام مٹا دیے گئے تب احساس ہوا کہ کتاب مجھ سے جدا ہوئی تو اپنی رائے کا حق بھی چھنا اور عدم تحفظ لاوارثی اور ضعیفی کے طوق بھی گردن میں پڑے احتجاج کا حق بھی مارا گیا۔۔کیا آپ سب کو اس غریبی اور بے حمیتی کا احساس نہیں ہوتا جہاں آپ شیطانی نظام کے جند سکوں کے عوض سب کچھ داؤ پہ لگا چکے ہیں ۔۔بخدا توحید پرستی کا میزان غیر خدا سے بےخوفی اور غیر خدا کے لالچ سے آزادی ہے۔۔جبکہ ہم ہمارے ضمیر ہمارے قلم ہماری سوچیں سب گروی رکھی جا چکی ہیں ۔۔اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی زندگی کے لیے ہم نے اپنے نظریات داؤ پہ لگا دیے ۔۔بہت سے سچ خاموشی کی بھینٹ چڑھ گئے ۔۔بہت سے توحیدی حق کھو کر ہم فقط زندہ ہیں ۔۔زندگی بھی وہ جو موت جیسی ہے۔۔جو پڑھتے ہیں وہ بھی ایڈٹ شدہ جو لکھتے ہیں وہ بھی ترمیمی انداز میں۔۔۔
آج میں اپنے کتب خانے میں اپنی کتابوں کے درمیان ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوں اے میرے رب کی عطا کردہ نعمت !! میں نے کفرانِ نعمت کیا اور مصنوعی دنیا کے شعبدہ باز جادو کا شکار ہوئی اور بہت کچھ گنوا کر اب پھر تمہارے حضور حاضر ہوں۔۔میں نے صدیوں کے سفر تمہاری رفاقت میں طے کیے ۔۔پاک رزق سے قلب و روح کو سرسبز رکھا اور آج پھر تمہارے مہربان لمس کی تمنا تم تک کھینچ لائی ہے
میں اپنے رزمیہ انقلابی اور مزاحمتی کلام کو قرطاس وقلم کے ستونوں پر محفوظ اور زندہ دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔’’صدائے ابابیل‘‘
کے نام سے مجموعہ کلام طبع ہو چکا ہے دعا کیجیے کہ ذالک الکتاب کا رب رزق فکر عطا کرتا رہے۔۔انشاءاللہ یہ مجموعہ جلد ادب دوست ہاتھوں میں ہوگا
انشاء اللہ ان مصنوعی خداؤں کے خود ساختہ زندانوں سے رہائی دے کر خدا پھر ہمیں کتاب کے نورانی ایوانوں میں لائے گا۔۔
بے شک کتاب بے مثال پناہ گاہ،فکر و نظر کی محافظ اور تخیل کی امین ہے۔۔
فیس بک کمینٹ

