بنوں : خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے۔
میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ بنوں کے ترجمان نعمان خان نے تصدیق کی ہے کہ فتح خیل چوکی پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد پولیس اہلکار ہیں۔
اس کے علاوہ تین زخمیوں کو بھی ہسپتال لایا گیا تھا جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل بنوں کے رینجل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ فتح خیل چوکی کی عمارت کے ملبے سے 12 پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ تین اہلکاروں کو زندہ ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
دریں اثناء چوکی فتح خیل پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
ریجنل پولیس آفس بنوں کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان، ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی، ڈی پی او لکی مروت نذیر خان، ایس پی سی ٹی ڈی فضل الواحد، ایس پی ہیڈکوارٹر محمود نواز، ایس پی سٹی توحید خان، ایس پی رورل حیدر خان سمیت اعلیٰ پولیس افسران، پولیس اہلکاروں اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’بنوں پولیس ایک بہادر فورس ہے جس نے ہر مشکل اور کٹھن حالات میں جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے کہا کہ ’شدت پسندوں کی یہ بزدلانہ کارروائی ناقابلِ برداشت ہے اور ہلاک ہونے والوں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور شدت پسندوں کو چن چن کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی تھی۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

