بنوں :خیبر پختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک ضلع بنوں کی چوکی فتح خیل پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
بنوں کے رینجل پولیس آفسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے دو اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی ہے۔ پولیس کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ریسکیو و سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سجاد خان نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں ڈیوٹی پر 15 اہلکار تعینات تھے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقصان کا تعین آپریشن ختم ہونے کے بعد کیا جا سکے گا۔
روئٹرز نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے بارودی مواد سے لیس گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرائی گئی اور انھوں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کی۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فتح خیل چوکی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ صرف خیبرپختونخوا کی نہیں بلکہ پورے ملک کی جنگ ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

