یہ صدی اپنی آخری دہائیوں میں بڑھتے ہوئے جو سوال سامنے لا رہی ہے۔ ان میں اعتماد، شکست کی کشمکش شدید تر ہے۔ غصے اور حزیمت کا احساس بھی ہے۔ اعصابی تشنج اور مغانرت کی لہر بھی ہے اور ظہور نظر کی شاعری اس تمام کشمکش کی قافلہ سالار ہے۔ جو اس صدی کی آخری دہائیوں میں ابھی اور پروان چڑھ رہی ہے۔ ظہور نظر ترقی پسند ادب کی تحریک میں رواں دواں رہا تھا۔ لیکن ”ریزہ ریزہ“ سے ہی اس نے نئے خیالات کی سفاکی کو ایک وجودی لہر کے ساتھ سمیٹنا شروع کر دیا تھا اور یوں ترقی پسند تحریک کے زمانے کا ”ماروائی انقلابی“ لہجے میں بات کرنے والا ظہور نظر اب حقیقت نگاری اور حالات کی پیدہ کردہ تجرید کے رویوں میں انسان کی جانکنی کے منظر کو دیکھ رہا تھا۔
غالبؔ کی طرح ظہور نظر نے بھی اردو شاعری کی روایت کے سارے پس منظر سے علامتوں اور نادر استعاروں تشبیہوں کا ایک لازوال ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ لیکن غالبؔ کے زمانے میں شمع کی طرح سوز گداز سے چلنے کا رویہ زندہ و توانا تھا اور زندگی کے تلاطم میں زندہ رہنے کی اُمنگ شاعری کی بنیادی قدر تھی۔ ظہور نظر تک پہنچتے پہنچتے تاریخ کے سفاک تھپیڑے بہت تیز رفتار اور ہولناک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک سادہ سے سروے کے مطابق پسماندہ قوموں کے دس لاکھ بچے سالانہ محض بھوک سے جانکنی کے بعد موت کے گھاٹ اُترتے ہیں۔ دوسری سمت اسلحہ کی دوڑ، جنگ پرستی کے نئے ہتھکنڈے اور اس سے ہٹ کر انسانیت کے متعلق کھوکھلی اور دفتری لفاظی ایک شاعر کے تجربے کو فریب نہیں دے سکتی۔ اس کے اس بڑھتے پھیلتے آشوب سے ظہور نظر جو کبھی سچائی کی تلخی کا زہر پینے سے نہیں ہچکچایا تھا، بھلا کس طرح غافل رہ سکتا تھا؟ وہ تاریخ کو متعین کرنے والے مادی عوامل سے کنارہ کش ہو کر محض رگِ گُل سے بُلبل کے پَر باندھنے کی شاعری میں جُتا رہتا تو پھر بھی وہ شاعر تو ضرور کہلاتا جس طرح اتنے بے شمار لوگ کہلاتے ہیں لیکن وہ جانتا تھا کہ انسان کی سماجی سرگرمی اور پیداواری عمل کا ایک خاص دور تھا اور دنیا کے بعض معاشروں میں اب بھی ہے کہ رگِ گُل سے بُلبل کے پَر باندھنے والے لوگ ہی معاشرے کی اصل قوت نظر آتے تھے۔ تاہم تاریخ کے گزشتہ ادوار اور اُن ادوار کے تصادمات میں بننے والی ادبی روایت اور اس ادبی انا کو ٹھیس لگانا کسی طور مقصود نہیں۔ جس نے میرؔ، غالبؔ اور مومنؔ جیسے لوگوں کو ظہور پذیر کیا تھا۔ یہ اس عہد کے کلچر، معاشرے اور وجودی اُمنگوں کے تصادمات کے نتیجے میں طلوع ہونے والے امتزاج تھے۔
سردست ہماری شاعری میں کچھ شاعر تو ایسے ہیں جو آزادی کے بعد رگِ گُل سے بُلبل کے پَر باندھنے کی روایت تو ساتھ لائے لیکن گزشتہ چونتیس سال کے پاکستانی معاشرے سے محض واجبی سا ہی اثر قبول کیا۔ دوم ترقی پسند شاعری کا گونج دار لہجہ ہماری شعری روایت میں رس گھولتا رہا لیکن دنیا کے معاشرتی بحران میں وہ بذاتِ خود ایک روایت بن کر علیحدہ ہوتا گیا۔ سوم نوجوانوں کا گروہ جو علامت، دیومالا اور لسانی توڑ پھوڑ کے حوالے سے محض لغویت اور بے معنویت کی بات کرتا رہا اور غیر ارادی طور پر استعماری نظریہئ تعلیم کی ایک پیوند کاری بن کر رہا۔ چہارم پسماندہ دنیا میں جدوجہد کے دوران اُبھرنے والی نئی شاعری کے ترجمے اور پھر اس ترجمے کی شاعری کے چربے یا اس سے کوئی ملتی جلتی چیز۔۔
اس مختصر سی گزارش سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اردو شاعری اور خصوصیت سے غزل کی شاعری تو کھرے کھوٹے کی واضح پہچان بن جاتی ہے اور یہ انتہائی سخت جان آدمی کو قبول کرتی ہے۔ ایسے آدمی جو اپنے تجربوں کو ہر قسم کے تجرید اور احتجاج کے پُل صراط سے گزار کر بھی قافیہ، ردیف کے آہنگ میں لا سکتا ہو اور جو اس حد تک خلاقانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہو کہ حالات کی میکانکیت اور بعض مخصوص الفاظ کے قرینے اور تکرار کے باوجود اس کے موضوعات پامال نہ ہوتے ہوں۔ اگر اس حوالے سے ہم کسی شاعر کا نام آج کی تاریخی جبریت کے پس منظر میں لے سکتے ہیں تو وہ ظہور نظر ہے۔ وہ اپنے عہد کی سفاکی کو اپنی خلاقانہ انا کے تصادم، تجربے، مشاہدے، مطالعے سے سمجھا ہے۔ اپنے سفر میں اس نے ترقی پسند تحریک کی توانا شخصیتوں کو جو کہ اس دور کی سفاکی میں بھی انسان کے مستقبل پر اعتماد رکھتی ہیں، حوالہ بنایا ہے۔
عرصہ ہوا کہ اُس نے ریڈیو پاکستان ملتان کے ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں انکساری سے کہا تھا کہ ادبی رجحانات میں اس نے فیضؔ اور ندیمؔ کی روایت سے استفادہ کیا ہے۔ لیکن اس کی انکساری کے باوصف اور ریزہ ریزہ ہونے کے دو ٹوک اعلان کے باوجود اس کے ریزہ ریزہ ہونے کی وہ شکل نہیں ہے جو مجید امجدؔ کی شاعری میں ملتی ہے۔ مجید امجدؔ ”شب ِ رفتہ کے بعد“ کی شاعری میں حالات کی سفاکی کے مقابل خود بھی ریزہ ریزہ ہے۔ وہ اپنی بے مائگی میں گم ہے۔ اس کے برعکس ظہور نظر سفاکی کے بالمقابل ہتھیار پھینکنے کو تیار نہیں ہے۔ اپنی نظم ”مجھے اُس راہ پہ چلنا ہے“۔ مطبوعہ ”افکار“ میں وہ برملا کہتا ہے کہ گو آج میں وہ نہیں ہوں جو کل تھا لیکن میرا راستہ وہی ہے جو فیوچکؔ کا تھا، ویتنامی عوام کا تھا اور جو قوموں کے جمہوری عمل کا راستہ ہے۔
عہدِ حاضر کی سفاکی سے قطع نظر اگر ظہور نظرؔ کو کلاسیکل معیاروں سے بھی پرکھا جائے تو اس میں نیازؔ فتح پوری کے مشاعروں والے مثالی شاعر کے بھی بھرپور امکانات تھے اور مشاعروں میں اس کے اُسلوب کی گونج سامعین کو خاموش اور گُم سُم کر دیتی تھی۔ اس کی شاعری کے موضوعات عموماً مشاعروں کی واہ واہ کے موضوعات سے مختلف ہوتے تھے۔ اس کے باوجود اُس کے کلام کی اثر آفرینی کی حدود عوام تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اس عہد کی سفاکی کو بے نقاب کرنے میں کلاسیکل ذخیرہئ الفاظ کو اپنے تخلیقی سانچوں میں درہم برہم کر کے پھر اپنے انداز سے جوڑ کر ملاتا تھا۔ بے مائگی اس کے سامنے معروضی حقیقت تھی، اس کا شعری مقصود نہ تھی۔ اس تصادم میں وہ نئی تصویریں بناتا تھا۔ اولین طور پر وہ رومانوی رویوں سے اُبھرا تھا اور اس کی نظموں میں بھی ایک تغزل کی لہر ملتی تھی۔ لیکن ”ریزہ ریزہ“کے بعد رومانوی رویہ اور عظمت ِ آدم کا خواب ایک بازگشت بنتا گیا۔ گزشتہ پندرہ بیس سال کے عرصہ میں اس کا کلام پاکستان کے مختلف ادبی رسائل اور خصوصاً ”فنون“ میں چھپتا رہا ہے۔ اس کی غزلیں جو کہ نادر تمثالوں اور تشبیہوں سے مالامال ہیں ہر لمحہ ایک نئی صورتِ حال کو منکشف کرتی ہیں۔ ہر شعر ایک نئے تجربے کو سامنے لاتا ہے اور ہر تجربے میں ایک تجرید بولتی ہے اور ہر تجرید میں ایک حقیقت مستور ہوتی ہے۔ اس نے غزل کو غم و الم، صوفیانہ واردات، جمالیات پرستی، رومان، انقلاب، تفکر سے آگے بڑھا کر بریختؔ کی ڈرامائیت اور کافکاؔ کی کافکائیت کے بھی قریب کر دیا ہے کہ اس کے اکثر شعر اس کی رزمیہ زندگی کے اپنے افسانے کی بازگشت ہوتے ہیں اور لمحہئ موجود کی چُپ کے مفسر بھی۔ جس طرح غالبؔ کی تصویروں کے مطالعے سے کچھ ایسے زاویوں کی تصویریں بنتی ہیں جن کے لئے چغتائی کے مُوقلم سے ہی ممکن تھا کہ پوری مغلیہ روایت کو سمیٹ کر رکھ دے۔ اگر آج کوئی مصور ظہور نظر کے شعروں کی تصویریں بنانا چاہے تو اس کے کینوس پر دنیا بھر کے کرب آمیز رنگ اور تجریدی حلقے جھلکیں گے۔
چند غزلوں کے مطالعہ سے تصویروں کے چند موضوعات یہ ہو سکتے ہیں۔ فصیلِ زنداں سے دیکھنا، ہر موڑ پر نہنگ کا کھڑا ہونا۔ رات دن قبر نما گھر میں پڑا رہنا۔ ان ڈرامائی حالات کے ساتھ ساتھ یادوں کا گھِر گھِر کر آنا، عشق سے ناتا نہ توڑنے کا عزم جیسے موضوعات بھی اس کی غزلوں میں محض روایت کی پاسداری میں نہیں آتے بلکہ یہ حقیقت ہے کہ اس کے مزاج کی تشکیل میں محبت اور رومان کے رویوں کا ا ولین نقش بڑا گہرا تھا۔ لیکن ”ریزہ ریزہ“ کے بعد کی شاعری میں یہ تصویریں اکا دُکا ابھرتی ہیں، اور جب ابھرتی ہیں تو شدت سے ابھرتی ہیں اور وہ پھر اپنے اندر کے انسان کو کچل کر نفی انسان کی ابسرڈ اور موجود حقیقت میں قریب سے الجھ کر اور پھر نبرد آزما ہو کر رنگ بھرتا ہے۔ دہشت زنداں میں امید کی گونج، جبر کے جنگل میں پتھر، برگِ خوف کا سُلگنا، قزاق اور شب کا جزیرہ، پیاسی اور ویران کشتِ حیات، جمود اور خوف کی خندق کو تیر کر پار کرنے کا عزم اور رزم گاہ کا دروازہ وا کرنا، جابروں کے سامنے سر اٹھانا، بھیک پر بھوک کو ترجیح دینا اور پھر اس کا انعام شکست کے بعد دوستوں کی چُپ، سائے پر دیوار کا ٹوٹ کر گرنا، حریف کی دستار کا اس کے پاؤں پر جا پڑنا، فصیل شب کے شگافوں سے طلوع کا منظر، کٹے ہوئے سلاسل، اُجاڑ مقتل، خوابوں کے شہر کا کھنڈر بننا، زمین کے خون سے افق تر دکھائی دینا، وحشی ہوا کا دل میں کچھ چھوڑ کر نہ جانا، گنجان جنگل کا اُجڑنا، رات بھر چاپ کا ابھرنا، جان لیوا خوف لیکن کچھ نہ ہونا۔ غرض یوں لگتا ہے تجریدی شکل میں بے شمار کہانیاں اور ڈرامائی تصویریں اور کیفتیں ظہور نظرؔ کے اسلوب میں پروان چڑھتی ہیں جو کہ اپنی جگہ مکمل بھی ہوتی ہیں اور ایک تواتر و تسلسل سے منسلک بھی۔ اپنی اس ڈسکشن سے اس نے غزل کی روایت کو بھی آگے بڑھایا ہے اور دوسری طرف اس امکان کی بھی تصدیق کر دی ہے کہ غزل کے ڈکشن میں بھی دنیا بھر کی تجرید اور تحقیر اور ان سے ابھرنے والی مزاحمت کو سمو کر ہم عصر شاعری کے تقاضوں کو نبھایا جا سکتا ہے بلکہ ان تقاضوں کو نبھانا زیادہ مشکل کام ہے۔ یوں ایک مرگِ مسلسل سے دوچار انسان زندگی کے مختلف خواب اور امکان اپنی توڑ پھوڑ سے ڈھونڈتا ہے۔ آخری عمر میں شدید احساسِ تنہائی، جان لیوا روگ، تاریخ کی طوطا چشمی، دل کے پے درپے حملے اور ایسے ہی حوادث و عناصر اس کی شاعری میں ناگزیر بن کر اُبھر آئے تھے۔ موت ایک حقیقت اور سنگین حقیقت کے طور پر سامنے تھی۔ اس کے باوجود وہ ڈوب کر زندگی سے پیار کرتا ہے اور ہنستے کھیلتے زندگی کو الوداع کہتا ہے۔
(سہ ماہی ”فنون“ لاہور۔ شمارہ 190، اگست ستمبر 1983 )
فیس بک کمینٹ

