ملتان ۔۔ گردوپیش نیوز ۔۔ارشدحسین ارشدملتان کی چلتی پھرتی تاریخ تھے،وہ خود تو شعر نہیں کہتے تھے نہ انہوں نے کبھی کوئی مضمون لکھا لیکن ادب کے خدمت گار کی حیثیت سے ملتان کی ادبی تاریخ میں وہ انمٹ نقوش چھوڑ گئے ۔ان خیالات کا اظہار سخنورفورم کے زیر اہتمام پنجاب ملتان آرٹس کونسل ملتان کی ادبی بیٹھک میں ان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں کیا گیا ۔تقریب کی صدارت نامور ماہر تعلیم ،محقق اور ترقی پسند دانشورڈاکٹر صلاح الدین حیدر نے کی۔مہمان خصوصی معروف سیاسی رہنما ، سابق رکن صوبائی اسمبلی نفیس احمد انصاری تھے ۔ جب کہ مہمانان اعزازمیں ارشدحسین ارشدکے صاحبزادے عادل ذیشان قریشی،ڈاکٹر حمید رضا صدیقی اوروسیم ممتازشامل تھے ۔نظامت کے فرائض تحسین غنی نے سرانجام دئیے ۔اس موقع پرڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل ملتان سلیم قیصر،مخدوم شعیب ہاشمی،عامر شہزاد صدیقی،نورالامین خاکوانی،یاسمین خاکوانی نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹرمختارظفر کا آڈیو پیغام بھی شرکا کو سنایا گیا۔
ڈاکٹر صلاح الدین حیدر نے کہا کہ میرا ارشد حسین ارشد کے ساتھ 1960کے عشرے سے تعلق تھا،وہ ایک درویش صفت اور بذلہ سنج انسان تھے۔ڈاکٹرحمید رضا صدیقی نے کہا کہ ایوانِ ادب میں انہوں نےقومی دنوں پر یادگارتقریبات کرائیں۔نفیس احمدانصاری نے کہا ارشدحسین ارشدایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے بھی بہت متحرک رہے وہ رواداری پر یقین رکھتے تھے۔
وسیم ممتاز نے کہا کہ وہ بزرگانِ دین کے ساتھ بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔مخدوم سجاد حسین قریشی کے ساتھ ان کی نیاز مندی تھی اور ان کے تعاون سے ارشدحسین ارشد نے ’’آستانہ زکریا‘‘کے نام سے ایک رسالہ بھی شائع کیا۔ رضی الدین رضی نے کہا ہم نصف صدی سے انہیں ادبی تقریبات میں متحرک دیکھ رہے تھے وہ ادبی بیٹھک کے مستقل رکن تھے اور اسی لیے ہم نے یہ ضروری سمجھاکہ ان کی یاد میں پہلا تعزیتی جلسہ اسی بیٹھک میں منعقد ہو،انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب ’’ ملتان ، قدیم وجدید ‘‘ ،ملتان کی تاریخ پر ترتیب دی جانے والی ابتدائی کتابوں میں سے ہےجو آج بھی محققین کو مدد دیتی ہے۔ ارشد حسین ارشد کے صاحبزادے عادل ذیشان قریشی نے کہا کہ انہوں نے بہت مشکل وقت گزارا،انتھک محنت کی لیکن ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا ،ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم معاشرے میں بہتر زندگی گزاررہے ہیں۔ سلیم قیصر نے کہا وہ گروہ بندی پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن جوبات ناگوار گزرتی تھی اس کا بر ملا اظہار بھی کردیتے تھے،انہوں نے کہاان کی خدمات کے حوالے سےایک کتاب کی اشاعت ہم سب پر قرض ہے ۔ تقریب میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ارشد حسین ارشدکی یادمیں ایک کتاب شائع کی جائے گی۔
فیس بک کمینٹ

