لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 9 مئی 2023 کو ہنگاموں اور احتجاج کے دوران ایک پولیس گاڑی پر حملہ کرنے اور اسے نذر آتش کرنے کے الزام میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اعجاز چوہدری، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ شاہ محمود قریشی کو تمام الزامات سے بری کردیا گیا۔ البتہ دیگر مقدمات کی وجہ سے انہیں رہانہیں کیا گیا۔
لاہور میں اب تک اس سانحہ کے 8 مقدمات کا فیصلہ سنایا جاچکا ہے۔ پولیس نے اس روز ہونے والی قانون شکنی کے الزام میں ملزمان کے خلاف 14 مقدمات درج کیے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مقدمات میں فیصلوں کا انداز ایک سا دکھائی دیتا ہے۔ شاہ محمود قریشی بے گناہ قرار پاتے ہیں لیکن رہا نہیں ہوسکتے جبکہ تحریک انصاف کے دیگر اعلیٰ عہدیدار جن میں عمر رسیدہ ڈاکٹر یاسمین راشد بھی شامل ہیں قصور وار پائے جاتے ہیں۔ اور انہیں ایک ہی طریقے سے دس، دس سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔ عمر سرفراز چیمہ، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کو اب تک ایک ہی روز ایک ہی قسم کی قانون شکنی پر ایک ہی مدت کی متعدد سزائیں دی جاچکی ہیں۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ سب سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی یا ایک کے بعد دوسری سزا کی تکمیل کا مطالبہ کیا جائے گا۔
اس وقت نظر آنے والی سیاسی صورت حال میں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی حکومتوں کی خواہش ہو گی کہ ان لوگوں کو تاحیات جیل میں بند رکھا جائے اور اب وہ کبھی آزادانہ زندگی نہ گزار سکیں۔ یہاں یہ بحث مطلوب نہیں ہے کہ سانحہ 9 مئی کے حوالے سے کون سا مؤقف درست ہے۔ کیا تحریک انصاف کے اس دعوے کو تسلیم کیاجاسکتا ہے کہ یہ سب فالس فلیگ آپریشن تھا اور تحریک انصاف کے لیڈروں اور کارکنوں کو ایسے الزامات میں قید کرکے سزائیں دلائی جارہی ہیں جن میں وہ ملوث ہی نہیں تھے۔ البتہ استغاثہ کے علاوہ ملکی فوج کے ترجمان واضح کرچکے ہیں کہ اس روز تحریک انصاف کی طرف سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر حملے کیے گئے اور انارکی کی صورت حال پیدا کی گئی تھی۔ اس لیے سیاسی وجوہات کی بنا پر عسکری اداروں کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے۔ اس حوالے سے یہ دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ تشدد کی ان کارورائیوں کا مقصد درحقیقت امن و مان کی صورت حال پیدا کرکے فوج کے اندر بعض ’باغی ‘ عناصر کو عسکری قیادت میں تبدیلی لانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ تحریک انصاف چونکہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکی ، ا س لیے وہ عتاب کا شکار ہے اور اس ہنگامہ آرائی کو ناکام بنانے والے عناصر فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں۔
یہ ساری تصویر سمجھنے اور اس کے اہم عنوان کی تفہیم کے باوجود بیشتر سیاسی تجزیہ نگار یہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ 9 مئی کو واقعات کی ترتیب خواہ کچھ بھی رہی ہو لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان ہنگاموں کی حیثیت سیاسی تھی، ایک خاص سیاسی ایجنڈے کے تحت یہ کارروائی کی گئی اور اب عمران خان سے لے دوسرے اور تیسرے درجے تک کی قیادت ا س کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ تاہم حکمرانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ تحریک انصاف کی عوام میں قبولیت کی صورت میں ایک سیاسی حیثیت موجود ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے سانحہ 9 مئی کے مقدمات کو انتقامی جذبے سے آگے بڑھانے کی بجائے ، اس کے سیاسی عنصر کو بھی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ ملک میں جس سیاسی ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی بات کی جاتی ہے، اس میں تحریک انصاف کی خیر سگالی بھی درکار ہوگی۔ تاہم حکومت اگر عدالتوں کے ذریعے ناپسندیدہ لیڈروں کو طویل مدت تک جیلوں میں بند رکھنے کے لیے ایک خاص پیٹرن پر سزائیں دلانے کا اہتمام کرتی رہے گی تو اس سے ایک تو عدالتی نظام پر اعتماد کم ہوتا رہے گا اور دوسرے تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا راستہ ہموار نہیں ہوسکے گا۔
یہ کہنا مطلوب نہیں ہے کہ سانحہ 9 مئی کے دوران ہونے والی لاقانونیت کو نظر انداز کردیا جائے لیکن یہ درخواست تو کی جاسکتی ہے کہ ان معاملات کو مسلسل التوا میں رکھنے کے ہتھکنڈے ترک کیے جائیں۔ ملزموں کو زیریں عدالتوں سے فیصلے لینے کے بعد اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کی مدت کو طول دینے کی بجائے اسے مختصر کرنے کی کوشش کی جائے۔ اب زیر بحث معاملہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہی کو دیکھ لیا جائے تو اس فیصلہ میں تین سال سے زیادہ وقت صرف کیا گیا ہے۔ اب بھی انہی الزامات میں مزید 6 مقدمات زیر غور ہیں۔ ان سب پر فیصلہ آنے اور پھر اپیلوں کا سلسلہ شروع ہونے میں نہ جانے کتنی مدت صرف ہوگی۔ یہ مدت ملک میں نظام انصاف کی کمزوریوں کو عیاں کرتی ہے اور بدقسمتی سے حکومت ان کمزوریوں کو دور کرکے شفافیت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے، انہیں اپنے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ یہی سرکاری پالیسی نقصان دہ اور ملکی مفادات کے خلاف ہے۔
قانون شکنوں کو ضرور سزا دی جائے لیکن ایک ہی روز ایک ہی قسم کے جرم میں صرف متعدد دفعات ہی نافذ نہیں کی جاتیں بلکہ درجن بھر سے زائد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ان تمام مقدمات کو اکٹھا کرکے ایک ہی عدالتی کارروائی میں فیصلہ لیا جاسکتا تھا لیکن یہ آسان راستہ اختیار کرنے کی بجائے علیحدہ علیحدہ مقدمہ میں الگ الگ فیصلے لے کر سزاؤں کی مدت غیر ضروری طور سے بڑھائی جارہی ہے۔ اس طریقہ سے واضح ہورہا ہے کہ حکومت کے زیر اثر کام کرنے والا استغاثہ کسی جرم میں ملوث لوگوں کو ان کے کیے کی سزائیں دلانے کی بجائے درحقیقت بعض ناپسندیدہ لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنا چاہتا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ استغاثہ کو یہ اشارہ کس نے دیا ہے اور ان معاملات کو کس کے حکم سے تعطل کا شکار کیا جاتا ہے لیکن اس کی حتمی ذمہ داری ملک میں حکمران سیاسی پارٹی اور اس کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ البتہ وزیر اعظم شہباز شریف ہوں یا مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف ، وہ اس معاملہ کی پیچیدگی کو سمجھنے اور اسے حل کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالانکہ نوشتہ دیوار ہے کہ اس زیادتی کی بھاری قیمت انہی لیڈروں کو انتخابات میں مشکلات کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی لیکن پھر بھی صورت حال کی تبدیلی کا کوئی اشارہ دیکھنے میں نہیں آتا۔
دوسری طرف ملک اور اس کے لوگوں کے سروں پر سانحہ 9 مئی کا بھوت مسلط ہے۔ عام لوگ اس معاملہ کی حقیقت سے نہ تو آگاہ ہیں اور نہ ہی اصل حقائق ان تک پہنچانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال بے چینی ، سیاسی عدم اعتماد اور نظام کے لیے مسلسل خطرہ کا سبب بنی ہوئی ہے۔ شہباز شریف اپنے عہدے کی وجہ سے مجبور ہوسکتے ہیں لیکن نواز شریف کے پاس پارٹی کی قیادت کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اسی لیے ان سے مفاہمانہ سیاسی رویہ اختیار کرنے کی امید کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے انہوں نے ابھی تک اپنے بھائی کی حکومت پر اس معاملہ کو خوش اسلوبی سے جلد از جلد حل کرانے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالنا ضروری نہیں سمجھا۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ناروے )
فیس بک کمینٹ

